فرزانہ راجہ تو بڑی پہنچی ہوئی چیز نکلیں۔۔!! بے نظر انکم سپورٹ پروگرام کی سابق چیئر مین نے قومی خزانے کو کتنا نقصان پہنچایا؟ ایک اور اسکینڈل سامنے آگیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )نیب نے سابق چئیرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام فرزانہ راجہ پر غیر قانونی ٹھیکوں کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیاہے کہ فرزانہ راجہ نے قومی خزانے کو 50 کروڑ سے زیادہ کا نقصان پہنچایا ۔نجی ٹی وی ہم نیوز کا کہنا ہے کہ نیب کے مطابق فزانہ راجہ نے 4اشتہاری

کمپنیوں کو خلاف قانون ٹھیکے دیئے ، نیب کے الزامات کا جائزہ لینے کے بعد احتساب عدالت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کرپشن ریفرنس باقاعدہ سماعت کیلیےمقررکرلیا گیا۔ خیال رہے کہ رواں سال مارچ کے اوائل میں ابے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مبینہ کرپشن کیخلاف ریفرنس اسلام آباد کی احتساب عدالت میں دائر کیاگیا جس میں سابق چیئرمین بینظیر انکم سپورٹ پروگرام فرزانہ راجہ سمیت دیگر 19 ملزمان کو فریق بنایا گیا ۔ریفرنس اسکروٹنی کیلئے رجسٹرار آفس بھجوا دیا گیا ہے، یہ سماعت کیلئے منظور ہونے کے بعداب احتساب عدالت کے جج ریفرنس پر سماعت کرینگے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فائدہ اٹھانے والےسرکاری افسران کیخلاف نیب راولپنڈی نے کارروائی آگے بڑھاتے ہوئے پروگرام میں مبینہ کرپشن کیخلاف بتیس والیم پرمشتمل ریفرنس میں انیس ملزمان کو فریق بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق دوسری جانب رؤف کلاسرا نے دعویٰ کیا کہ وفاقی کابینہ کے گزشتہ اجلاس میں خواجہ آصف کو پکڑنے کے حوالے سے کافی بحث ہوئی۔ کابینہ میں عمران خان نے کافی غصہ بھی کیا کہ خواجہ آصف کو فکس کیوں نہیں کیا جارہا جس پر بتایا گیا کہ ان کے خلاف دبئی کی حکومت ڈیٹا فراہم نہیں کر رہی اس لیے ان کے خلاف کیس نہیں بن پارہا۔رؤف کلاسرا کے مطابق کابینہ اجلاس میں بتایا گیا کہ خواجہ آصف نے وزیر دفاع ہوتے ہوئے دبئی کی کمپنی کو راز دیے۔ وزیر اعظم عمران خان نے یہ انکشاف ہونے پر وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کے حکام کو کیس کا فالو اپ دیکھنے کو کہا اور ہدایت کی کہ دبئی حکام کے علم میں یہ معاملہ لایا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ یہ کیس کتنا اہم ہے۔سینئر صحافی کے مطابق وزیر اعظم عمران خان جس کو پسند نہیں کرتے اس کو نیب میں ڈال دیا جاتا ہے لیکن خواجہ آصف کو پکڑنے کی وزیر اعظم کی خواہش پوری نہیں ہوپارہی ، خواجہ آصف نے اہم پورٹ فولیو پر ہوتے ہوئے دبئی میں نوکری کی جس کی وجہ سے وہ اخلاقی طور پر ناکام ہوگئے ہیں، ان کے خلاف حکومت ثبوت اکٹھے کرنے میں لگی ہوئی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.