ایتھے رَکھ!! سرکاری افسران کی لاڈلی بیگمات کیخلاف کارروائی، بڑے سرکاری ادارے نے ایکشن ہوئے کیا کام کر ڈالا؟ ناقابل یقین خبر

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ایتھے رَکھ!! سرکاری افسران کی لاڈلی بیگمات کیخلاف کارروائی، بڑے سرکاری ادارے نے ایکشن ہوئے کیا کام کر ڈالا؟ ناقابل یقین خبر۔ تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے کی جانب سے سکھر کے ان سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کی گئی جنہوں نے بینظیر انکم سپورٹ

پروگرام سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی سالوں تک خود کو مستحق ظاہر کر کے رقم وصول کرتے رہے۔ ایف آئی اے کے ذرائع کے مطابق سکھر کے افسران کی بیگمات نے گزشتہ کئی سالوں سے اپنے آپ کو بے نظیر انکم سپورٹ کے تحت ملنے والی رقم کیلئے مستحق ظاہر کرکے سات کروڑ روپے سے زائد بٹورے۔ دھوکہ دہی کی نشاندہی کے بعد ایف آئی اے کی جانب سے افسران کے خلاف کارروائی کے لیے نوٹس جاری کیے گئے، تاہم ایف آئی اے کی جانب سے نوٹس جاری ہوتے ہی رقم بٹورنے والے افسران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تمام رقم واپس لوٹا دی۔ ایف آئی اے ذرائع کا افسران سے جمع کی گئی رقم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے چار دن کے اندر مبینہ دھوکا دہی سے حاصل کی گئی چار کروڑ روپے کی رقم وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرا دی ہے۔ خیال رہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت خود کو مستحق قرار دے کر امدادی رقم حاصل کرنے والے افسران کی ایک لمبی فہرست ہے جن کے خلاف ایف آئی اے کی جانب سے تحقیقات کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ایف آئی اے بی آئی ایس پی سے مالی فوائد لینے والے افسران کے خلاف دو راونڈز میں تحقیقات کرئے گی، پہلے مرحلے میں غریبوں اور ناداروں کا حق کھانے والے افسران جب کہ دوسرے مرحلے میں سہولت کاروں کو پکڑنے کا فیصلہ ہوا ہے۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی بہتی گنگا میں ہزاروں ملازمین نے ہاتھ دھوئے، گریڈ ایک تا 16 کے10 ہزار 190 وفاقی ملازمین نے غیر قانونی طور پر وظیفہ لیا۔123 سے زائد افسران اپنے نام پر بی آئی ایس پی وظیفہ لیتے رہے جبکہ دیگر تمام ملازمین اپنے اہلخانہ کے نام پر وظیفہ وصول کرتے رہے ، جن میں گریڈ 1 کے279سے زائد، گریڈ 2 کے 469، گریڈ 3کے 471 افسران، گریڈ 5 کے 670، گریڈ 6 کے 2236 سے زائد ملازمین شامل ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فائدہ اٹھانے والوں میں اعلیٰ سرکاری افسران کے شامل ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.