طلباء کی سُنی گئی۔۔!! حکومت نے کتنے فیصد اضافی پرسنٹیج دے کر طلباء کو پرموٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا؟ طالبعلموں کی موجیں لگ گئیں

کراچی (نیوز ڈیسک ) محکمہ تعلیم سندھ نے طلباء کو3 فیصد اضافی پرسنٹیج کے ساتھ پروموٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا، اگر کسی کی نویں میں پرسنٹیج 60 فیصد تھی، وہ 63 فیصد پرسنٹیج لے کرگیارہویں میں چلا جائے گا، فیل طلباء کو پاسنگ مارکس دیے جائیں گے، جو امتحان دینا چاہتا ہے، اس کا
امتحان لیں گے۔ وزیرتعلیم سندھ سعید غنی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تمام طلباء کو 3 فیصد اضافی نمبرزدے کر پروموٹ کیا جائے گا۔سندھ حکومت نے اڑھائی فیصد پرسنٹیج کی بات کی تھی، لیکن اب وفاقی حکومت کے ساتھ 3 فیصد پر فیصلہ ہوا ہے۔ پرانے نتیجے کی بنیاد پر نویں جماعت کا طالبعلم دسویں اور دسویں کا گیارہویں میں چلا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ نویں میں جس کی پرسنٹیج 60 فیصد تھی، اس کی 3 فیصد اضافے کے بعد 63 فیصد ہوجائے گی، یعنی وہ طالب علم جس کی نویں میں پرسنٹیج 60 فیصد تھی،اب اس کا دسویں کا امتحان نہیں ہوسکا، تو اس کو 3 فیصد اضافے کے ساتھ 63 فیصد پرسنٹیج لے کرگیارہویں میں چلا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جو امیدوار ہرصورت امتحان دینا چاہتا ہے، ان کے امتحانات لینے پر غور کررہے ہیں۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں، ان کو حل کرنے کیلئے مزید غور کررہے ہیں۔ ہم ایسا طریقہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو، اور نہ ہی کسی کو رعایت ملے۔جو طالب علم فیل ہیں، ان کو پاسنگ مارکس دے کراگلی کلاس میں پروموٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حالات اب نارمل نہیں ہیں، ہمارا جو امتحانی اور تعلیم کا نظام تھا ، وہ شدید متاثر ہوا ہے، اب ہم جو بھی کریں گے کوشش ہے طلباء کو کم ازکم مشکلات ہوں۔یونیورسٹیز اور ٹیکنیکل کالجز کو بھی آن بورڈ لے رہے ہیں، ایچ ای سی اور یونیورسٹیز سے بھی رابطے میں ہیں۔ وہاں بھی اس طرح کا میکانزم بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو،

Sharing is caring!

Comments are closed.