’’ پورا پاکستان اقرار کی آواز بن گیا‘ سندھ میں راتوں رات کیا ہونا شروع ہوگیا؟ سعید غنی کو سخت حزیمت کا سامنا

کراچی (نیوز ڈیسک) اقرار الحسن کا چیلنج کام دکھا گیا، سندھ کے سکولوں سے گدھے نکالنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ کچھ روز سے سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی کی جانب سے اے آر وائے نیوز چینل کے خلاف منفی پروپیگنڈا اور وال چاکنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

سعید غنی کی جانب سے اے آر وائے نیوز کے خلاف کیے گئے منفی پروپیگنڈے اور وال چاکنگ پر اے آر وائی کے اینکر پرسن اقرارالحسن پھٹ پڑے۔ اقرارالحسن کا اپنی گفتگو میں کہنا تھا کہ سعید خانی جو اتنے مرد میدان بنے پھرتے ہیں وہ میرا صرف ایک چیلنج قبول کریں اور اپنے حلقہ انتخاب میں میرے ساتھ چلیں اور وہاں جاکر دیکھیں کہ کیسے لوگ پینے کے لئے صاف پانی کے لیے ترس رہے ہیں، جبکہ جگہ جگہ گندگی کے دے رہے اور سرکاری ڈسپنسریوں میں نالے کا گندا پانی جمع ہے۔اقرار الحسن کا کہنا تھا کہ سعید غنی صاحب میرا چیلنج قبول کریں اور میرے ساتھ چلئے میں ان کو، ان کے حلقہ انتخاب کے سکول دکھاتا ہوں جہاں بچے پڑھنے نہیں جاتے بلکہ وہاں گدھے بندھے ہوئے ہیں، اگر ان کے حلقہ انتخاب کے نالے گندگی سے نہ بھرے ہوئے ہوں تو میں صحافت چھوڑ دوں گا۔ اور اگر جیسا میں نے کہا ہے ایسا ہی ہوا تو سعید غنی صاحب مردانگی اور ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاست چھوڑ دے۔اقرار الحسن نے سعید غنی کو چیلنج کیا تو سعید غنی نے اپنے حلقے کے سکولوں سے گدھے نکلوانے کیلئے پولیس کی موبائلز بھجوادیں۔اقرارالحسن نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔ ویسے خدا کی قسم کیا مذاق ہے۔

اس بے چاری قوم کے ساتھ۔۔ میرے ساتھ اپنے حلقے میں چلنے کی ہمت تو نہیں ہوئی سعید غنی صاحب کو۔ البتہ راتوں رات پولیس موبائلز کے ذریعے اپنے حلقے کے اسکولوں سے گدھے نکلوا دئیے ہیں۔ اللہ شرم کرنے اور عوام کی خدمت کی توفیق دے۔انہوں نے کہا کہ آپ ٹی وی چینلز پر آ کر معصوم سی شکل بنا کر تقریریں کریں اور اگر جواب میں کوئی ان پر تنقید کرے تو وہ سندھ کارڈ کھیلنے کی کوشش کرتا ہے اب ایسا ہرگز نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ اس معصوم بچے کا چہرہ تو دیکھیں جو کتے کے کاٹنے کی وجہ سے ہائیڈرو فوبیا کا شکار ہو کر مر گیا۔ جب کہ کتے کے کاٹے کی ویکسین پتا نہیں بچے کو لگائی گئی یا نہیں جو کہ کاغذات میں لگائی گئی ہے کہ باوجود بچہ موت کے منہ میں چلا گیا۔اقرار الحسن نے کہا کہ مجھے سعید غنی صاحب کا اب بھی وہ جملہ یاد ہے جب ان کو کرونا وائرس ہوا تھا تب انہوں نے کہا تھا کہ مجھے اپنے بچوں کی بہت فکر لاحق ہو گئی ہے، انہوں نے کہا کہ کیا دوسروں کے بچے ,بچے نہیں ہوتے جو سسک سسک کر ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، ان کا کون ذمہ دار ہے کیا آج تک کسی کو سزا ہوئی؟ اپنی گفتگو کے آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم ان سندھ کے مظلوم بچوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.