’’اپنے کتے کا نام بھی ٹائیگر رکھا ہے اور اس فورس کا نام بھی ٹائیگر رکھ دیا ہے، یہ میٹنگز میں۔۔۔ ‘‘ مشاہد اللہ خان نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہوئے کر اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر دیں، پورا ایوان ایک دوسرے کا منہ دیکھنا شروع

لاہور (نیوز ڈیسک ) مسلم لیگ نون کے رہنما مشاہد اللہ کا کہنا ہے پوری دنیا کورونا کی لپیٹ میں ہے، دونوں ایوانوں کے اجلاس ختم ہو جائیں گے، وزیراعظم نہیں آئیں گے، انہوں نے اپنے کتے کا نام بھی ٹائیگر رکھا ہوا ہے اور فورس کا نام بھی ٹائیگر رکھ دیا ہے، میں یہ بات مذاق میں یا طنزیہ

نہیں کر رہا لیکن انکو سوچنا ہوگا کیا کر رہے ہیں۔ن لیگی رہنما مشاہداللہ نے سینیٹ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ آٹا چور، چینی چور وزیروں کو پروموٹ کر دیا گیا، کہا جاتا ہے سیاست نہ کرو، جیسے سیاست کوئی گالی ہو گئی، سیاست دان ہیں، سیاست تو کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے جو وزیر صحت تھے انہوں نے 400 فیصد قیمتیں بڑھائیں، چینی کی قیمت 40،40 روپے فی کلو بڑھا دی، جو غریب پر بوجھ ہے، آٹے کی قیمت بڑھ گئی، مہینوں گزر گئے چکر دیئے جا رہے ہیں۔مشاہداللہ نے کہا کہ آج کہا جا رہا ہے اشرافیہ نے لاک ڈاو¿ن لگا دیا، حکومت خود اشرافیہ ہے، ساری اشرافیہ کابینہ میں بیٹھی ہے، بہت سے لوگ مشرف با کرپشن ہو چکے ہیں، اس لئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ شاہ صاحب کہہ رہے تھے سندھ سے صوبائیت کی بو آ رہی ہے۔ وزیر خارجہ یہ بھی کہہ رہے تھے ہم لوہا منوائیں گے، ادھروباءپھیلی ہوئی ہے اور وزیر خارجہ لوہا منوا رہے ہیں، آپ نے پنجاب سے کون سا لوہا منوا لیا، پنجاب سے تو ہار گئے تھے۔ یہ میٹنگوں میں کرتے کیا ہیں؟ کیا سوچتے ہیں انہوں نے اپنے کتے کا نام بھی ٹائگر رکھا ہوا ہے جبکہ جو فورس کورونا کے خلاف لڑنے کے لیے میدان میں اتاری ہے اس کا نام بھی ٹائیگر فورس رکھ دیا ہے۔دوسری جانب وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ اپوزیشن سے ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں کورونا پر سیاست نہ کریں۔ حکومت نے ہر صوبے کو سپورٹ کیا ہے اور کسی سے امتیازی سلوک نہیں کیا۔ سندھ کو اکتیس ارب روپے سے زیادہ کے وسائل

دیئے۔انہوں نے کہا کہ حکومت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر مسائلے پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اپوزیشن کے پاس کوئی کووڈ پلان ہے تو وہ بھی بتائے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جی ڈی پی تین سو ارب ڈالر ہے۔ وزیراعظم ایک فلاحی مائنڈ سیٹ رکھتے ہیں اور مالی حالات کم ہونے کے باوجود 1.2 کھرب کا اکنامک پیکیج دیا ہے۔شبلی فراز نے کہا کہ کورونا کے باعث کاروبار بند ہونا بہت سنجیدہ مسئلہ ہے اور ہم نے چھوٹی اور بڑی انڈسٹری کیلئے بھی پیکج دیا ہے۔مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ کورونا سے لوگ مر رہے ہیں لیکن حکومت کہتی ہے سندھ میں اپنا لوہا منوائے گی۔مشاہد اللہ نے کہا لوہا تو آپ پنجاب میں بھی نہیں منوا سکے، سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا حکومت کہتی ہے کورونا کے خلاف بہترین اقدامات کر رہی ہے لیکن اقدامات نظر نہیں آ رہے۔سینیٹ اجلاس میں ملک میں خطرناک حد تک بڑھتے کورونا وائرس کے معاملے پر بحث کی گئی۔ کورونا وائرس کے معیشت پر اثرات، قرضوں کے حوالے سے دوبارہ مذاکرات اور عوام کے لیے ریلیف پروگرام پر بھی بحث کی گئی۔ہنگامی حالات میں ملک کو متحد رکھنے سے متعلق وفاقی حکومت کی پالیسی اور کورونا وائرس بحران کے دوران پارلیمنٹ کی کردار پر بحث ہوئی۔ سرحدوں اور ملک میں کورونا بحران سے نمٹے کی صحت کی سہولیات کی فراہمی پر غور کیا گیا۔کورونا وائرس کے قومی سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی پر اثرات، کورونا وائرس بحران کے دوران مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور بھارت میں مودی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو درپیش مسائل پر بحث کی ہوئی۔سینیٹ اجلاس کے دوران چین کے ساتھ اظہار یکجہتی اور اظہار تشکر کی قرارداد منظور کی گئی جو راجہ ظفر الحق نے پیش کی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.