کھانا گھٹیا، سہولت گھٹیا، واش روم موجود نہیں۔۔!! لاہور ایکسپو سینٹر میں تعمیر قرنطینہ سینٹر کی آڑھ میں پاکستانیوں کیساتھ کیا دھوکہ کیا گیا؟ حسن نثار پھٹ پڑے، خوفناک اعدادو شمار پیش کر دیئے

لاہور (ویب ڈیسک) حسن نثار نے کہا کہ لاہور میں جو سڑک شوکت خانم کو جاتی ہے اس پر ایکسپو سنٹر ہے جس کو قرنطینہ مرکز بنایا گیا ہے، وزیراعظم نے اس کا افتتاح کیا اوربڑی تقریریں ہوئیں، بڑے دعوے کئے گئے اس کی بڑی مبارکبادی دی گئیں، اس کی صورتحال کسی نے مجھے فیکس کی ہے،

اس پر ٹوٹل لاگت آئی ہے 90 کروڑ،یہ کرونا کچھ لوگوں کے لئے کروڑا بن گیا ہے، وہاں پر لوگ قیدی ہیں، 3 بار جا کر وہاں سے باہر آ چکے ہیں، وہاں کوئی پرسان ہال نہیں، لوگوں نے احتجاج کیا۔ حسن نثار کا کہنا ہے کہ آدھے کلو میٹر کے فاصلے پر واش روم ہے، کھانا گھٹیا ہے اور اسکا کوئی وقت مقرر نہیں، ڈاکٹر، ندارد، اس کو پریکٹکلی سویپر چلا رہے ہیں، چادر بستر تبدیل کرنے والا کوئی نہیں، پرائم منسٹر کو ضرور لانا تھا اب اسکی اونر شپ ہی کوئی نہیں لے رہا،وزیر صحت اور چند بیورو کریٹ نے یہ ملک کیا، اس کی لاگت 90 کروڑ ہے، کوئی بھی اس کی تصدیق کر لے، کیسے 90 کروڑ کی لاگت آئی، پرچون کی قیمتوں سے بھی معاملہ آگے جاتا ہے،حالانکہ یہ خریداری پرچون میں نہیں کی گئی ہو گی۔حسن ںثار کا مزید کہنا تھا کہ 500 نمبر آف یونٹس ہیں، 500 یونٹ ، ایک یونٹ کا سائز ہے، 16 فٹ ضرب آٹھ فٹ، نمبر آف بیڈ ہر یونٹ میں 2 ہے، بیڈز کس چیز کے ہیں،پائپ کے، وہاں آرتھوپڈک گدے نہیں بلکہ چول قسم کے گدے ہیں جہاں‌ ویسے ہی ہفتہ لیٹ جائیں تو کمر خراب ہو جاتی ہے، ٹوٹل ایک ہزار بیڈز ہیں، بڑی تقریریں کی گئیں، 3 بار لوگ باہر ہو چکے ہیں، احتجاج ہوا، اسکی قیمت پارٹیشننگ ،لمینٹیشن شیٹس کے ساتھ 45 ملین لکھی گئی ہے، پائپ کے لوہے کے بیڈ، اوپر گھٹیا گدے۔

حسن نثار کا مزید کہنا تھا کہ کاسٹ آف بیڈز کی گدوں اورتکیے، چادر، کمبل سمیت ایک ہزار لکھی گئی ہے، 25 ملین کل ہے، دس لاکھ کا ایک ملین ہوتا ہے، اسکو جمع کر لیں،پہلے فرنیچر کی مد میں دکھایا گیا ہے، ہسپتال میں ہوتا ہی فرنیچر ہے، 190 ملین فرنیچر کی مد میں مزید لکھے گئے، 190 ملین میں کیا ہوا؟ قرنطینیہ مرکز میں کیا کیا اسکی تفصیل لوگوں کے ساتھ شیئر کریں، فرانزک آڈٹ کروائین کہ ہو کیا رہا ہے۔ حسن نثار کا کہنا تھا کہ قرنطینہ مرکز میں ادویات کی قیمت ماہانہ 330 ملین رکھی گئی ہے، عملے کی تنخواہیں 130 ملین رکھی گئی ہیں، تین بار مریض باہر آ چکے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ سویپر کے علاوہ یہاں کچھ اور ہے ہی نہیں، 4 فزیو، 882 نرسز ،190 وارڈ بوائے، اور 190 سویپر کی تعیناتی کی گئی ہے جن میں سےا یک بھی موجود نہیں،آپریشنل اخراجات ماہانہ 180 ملین رکھے گئے، ٹوٹل کاسٹ 900 ملین بنائی گئی۔ حسن نثار کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی مشکل ہو تو مریضوں کی سننے والا کوئی بھی نہیں، کوئی اسکی اونر شپ نہی لے رہا، ایکسپو سارے کا سارا انگیج کیا ہوا ہے،یہ صورتحال ہے ، کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے، اگر یہ لڑائی ہے تو کوئی جا کر تصدیق کر لے، کہ وہاں انکو کھانا کیا ملتا ہے، سٹاف کیا ہے، پریکٹکلی آن گراؤنڈ کیا ہو رہا ہے، کوئی جا کر دیکھ لے، اگر اس عالم میں بھی رمضان کے مہینے میں جب کرونا کا دوسرا فیز شروع ہو رہا ہے، ایک کہرام مچا ہوا ہے، اللہ ہی خیر کرے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.