نواز شریف نے جدہ میں اپنی فیکٹری کیلئے اسرائیل سے کیا چیز برآمد کرنے کی کوشش کی تھی؟ جسے سعودی حکام نے ائیرپورٹ پر روک لیا تھا؟ 15برس قبل شائع ہونے والی خبر منظرعام پر آگئی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سوشل میڈیا پر ایک اخباری خبر کی کٹنگ گردش کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے ۔جس پر روزنامہ جنگ کے ساتھ اتوار 5جون 2005کی تاریخ درج ہے۔ اس اخباری کٹنگ پر ایک دوکالم خبر کی سرخی اور ذیلی نمایاں طور پر دکھائی دے رہی ہیں۔ سرخی میں تحریر الفاظ یہ ہیں۔

سعودی حکام نے نواز شریف کا اسرائیل سے درآمد کردہ اسکریپ شکن پلانٹ پکڑ لیا” جبکہ اس سرخی کی ذیلی میں جو الفاظ تحریر ہیں وہ یہ ہیں۔ ” پلانٹ درآمد کرنے کےلئے کاغذات میں جعلسازی کی گئی، کسٹم ڈیوٹی بچانے کی کوشش کی گئی” اب اس خبر کی تصدیق یا تردید روزنامہ جنگ کے مذکورہ تاریخ کے ای پیپر کو دیکھ کر کی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اسرائیلیوں کو ویزے جاری کیے، اس بات کا انکشاف ایک شہری اقتدار حسین نے لاہور ہائیکورٹ میں نواز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست میں کیا ہے۔ اس درخواست میں شہری کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے 17 مارچ 1999 کو اسرائیلی سیاحوں کو پاکستان کے ویزے جاری کیے۔ اس موقع پر وزارت داخلہ کے تسلیم شدہ ممالک کی فہرست میں اسرائیل کا نام ڈالا گیا، شہری نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ یہ تمام معلومات وزارت داخلہ کی ویب سائٹ پر موجود ہیں، یہ معلومات سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے عوام سے چھپائیں۔ اپنی درخواست میں شہری نے کہا کہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے پاکستان کا تحفظ نہیں کیا اس وجہ سے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔ اس سے قبلورلڈ جیوش کانگریس کے نائب صدر لائبلر نے 1993 میں شہباز شریف کو یقین دہانی کروائی۔

کہ اسرائیل کی طرف پالیسی میں تبدیلی سے امریکا میں پاکستان کا خراب امیج مثبت ہوگا۔ شہباز شریف نے جواب دیا کہ پاکستان ہمیشہ سے اپنے عرب اتحادیوں کی حمایت کرتا آیا ہے اور یہ بھی کہا کہ پاکستان بھارتی فورسز کو کشمیر میں اسرائیلی کمانڈوز کی طرف سے تربیت فراہم کرنے پر فکرمند ہے۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان اسرائیل کے ان مشتبہ ارادوں کے بارے میں بھی فکرمند ہے کہ اسرائیل بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔ لائبلر نے شہباز شریف سے کہا کہ انہیں اسرائیلی حکومت کی طرف سے یہ کہنے کی اجازت ملی ہے کہ یہ دونوں خدشات مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔ شہباز شریف نے سفارتی تعلقات کے حوالے سے کہا کہ ایسی کوئی بھی تبدیلی پاکستان میں فسادات کا باعث بن سکتی ہے لیکن اس ملاقات کے اختتام پر آئندہ لندن میں رابطے کرنے پر اتفاق ہوا۔ اس کے دو ماہ بعد لائبلر نے 19 اپریل 1993ء کو لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر سے ملاقات کی لیکن اس سے ایک دن پہلے پاکستان میں وزیراعظم نواز شریف کو ہٹایا جا چکا تھا۔ اس سے پہلے 12 مارچ کو نئی دہلی میں بھی ایک پاکستانی اور ایک اسرائیلی سفارت کار کی ملاقات ہو چکی تھی۔ اس میں پاکستانی سفارت کار نے بتایا کہ مذہبی جماعتوں کی وجہ سے کوئی سیاسی جماعت تعلقات قائم کرنے کا رسک نہیں لے سکتی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.