جنرل عاصم سلیم باجوہ آتے ہی چھاگئے۔۔۔!!! کابینہ کی باتیں لیک کرنے والے وزیر کو ڈھونڈ نکالا، نام جان کر آپ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے انکشاف کیا ہے کہ بعض وزرا کی جانب سے کابینہ کی خبریں لیک کی جاتی ہیں، معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے ایک وزیر کو خبریں لیک کرنے پر سمجھا دیا ہے ۔

اپنے وی لاگ میں رؤف کلاسرا نے انکشاف کیا کہ کابینہ کے گزشتہ اجلاس میں علی زیدی نے یہ معاملہ اٹھایا کہ کابینہ کی خبریں لیک ہورہی ہیں جو اچھی بات نہیں ہے۔ اجلاس کے دوران لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے کابینہ کو بتایا کہ کون سے وزرا خبریں لیک کرتے ہیں، میڈیا کو خبریں لیک کرنے والے وزیر کا تعلق اسلام آباد سے ہے جبکہ ایک معاون خصوصی بھی خبریں لیک کرتے ہیں۔ عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ انہوں نے وزیر کو سمجھا دیا ہے جبکہ اسسٹنٹ کو بھی سمجھا دیا جائے گا۔رؤف کلاسرا کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی اپنے ہر وزیر پر گہری نظر ہے جس کی وجہ سے وزرا سانس بھی نہیں لیتے اور نہ کسی سے بات کرتے ہیں۔ اس سے پہلے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز اپنی کابینہ پر نظر رکھتے تھے اور اب عمران خان اپنے وزیروں پر نظر رکھتے ہیں۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن سے معاشی بدحالی آتی ہے،مغرب کی اندھی تقلید نہیں کریں گے، کرونا وائرس ساری دنیا میں پھیلا ،کورونا وائرس نےپھیلناہے اور ہمیں اس وباکے ساتھ چلنا ہے،کورونا ہمارے قابو سے باہر نہیں ہے، ہم نے لوگوں کو روزگار دینا ہے اور معاشی بدحالی کو روکنا ہے، ہم نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف پیکج دیا،جب تک حفاظتی تدابیر پر عمل کرتے رہیں گے پاکستان میں تباہی نہیں آئے گی، قوم بن کر کام کریں گے تو کامیابی ملے گی۔اسد عمر نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کچھ تقاریر سنجیدہ تھیں اور اکثر تقاریر پر میں جگت بازی کے سوا کچھ نہیں کیا گیا، کرونا وائرس ساری دنیا میں پھیلا ہے، امریکہ جیسے ممالک میں بھی یہ پھیلا، لاک ڈاؤن میں تھوڑی سے نرمی کی، یہ دوبارہ پھیلنا شروع ہو گیا ہے، اس وباء کے ساتھ چلنا ہے، اس نے پھیلنا ہے،پاکستان کی آبادی کا دو تہائی حصہ ایک کروڑ80لاکھ خاندان کاروزگار متاثر ہوا،لاک ڈاؤن سے معاشی بدحالی آتی ہے،اس سے لوگوں کو بچانا ہے،مغرب کی اندھی تقلید نہیں کریں گے،پاکستان کے اندر عالمی معیار کے ماہرین موجود ہیں، ان کی مدد سے وباء پر قابو پانے کیلئے کام کر رہے ہیں، آج وباء بڑھ ضرور گئی ہے لیکن ہمارے قابو سے باہر نہیں ہے۔اسدعمرنےکہاکہ ہم نےلوگوں کوروزگاردیناہےاور معاشی بدحالی کوروکناہے،صحت کےنظام میں بہتری اورصلاحیت بڑھا رہے ہیں، پاکستان میں آج 70لیبارٹریز کروناٹیسٹ کے لئے قائم کی ہیں،ساڑھے تیرہ ہزار سے زائد کرونا کے ٹیسٹ کر رہے ہیں، 1000 وینٹی لیٹرز کا اضافہ کررہے ہیں،ایک لاکھ صحت کے ورکرز کو حفاظتی سامان درست طرح سے استعمال کرنے کی تربیت دے رہے ہیں، 5ہزارجے سی یو کے ڈاکٹرز اور ورکرز کی تربیت کر رہے ہیں، جب تک حفاظتی تدابیر پر عمل کرتے رہیں گے پاکستان میں تباہی نہیں آئے گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.