بریکنگ نیوز: سابق صدر آصف علی زرداری انتقال کر گئے ؟ تہلکہ خیز تفصیلات جاری

کراچی (ویب ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینئر قانون دان فاروق ایچ نائیک نے سابق صدر آصف علی زرداری کے انتقال کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سابق صدر احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری

کی موت کی خبریں بے بنیاد ہیں، وہ بیمار ہیں اس لیے کورونا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر اختیار کر رہے ہیں، ان کی صحت میں بہتری آرہی ہے۔فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف من گھڑت خبریں چلائی جارہی ہیں، وہ اپنے گھر میں ہی ہیں اور کورونا کی وجہ سے کسی سے ملاقات نہیں کر رہے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے ایکسپو سنٹر میں حکومت کی جانب سے کورونا کے مریضوں کیلئے ایک ہزار بستر کا فیلڈ ہسپتال قائم کیا گیا ہے جس پر 10 کروڑ روپے سے زائد کے اخراجات آئے ہیں۔ایکسپو فیلڈ ہسپتال میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ساڑھے 4 کروڑ روپے مالیت کی لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ مریضوں کیلئے کیبن بنائے جاسکیں۔ حکومت نے اب تک اس مد میں ایک کروڑ روپے کی رقم کی ادائیگی کی ہے۔علاوہ ازیں ہسپتال میں لوہے کے بیڈز، فوم میٹرس، تکیے، بیڈ شیٹس، رضائیوں اور تکیوں کے استر فراہم کرنے پر ڈھائی کروڑ روپے کے اخراجات آئے جن میں سے ایک کروڑ روپے ادا کیے جاچکے ہیں۔فیلڈ ہسپتال کیلئے ڈسپنسرز، ٹینٹ، کرسیاں، میز تاریں، پنکھے کرائے پر لیے گئے ہیں۔ ہسپتال میں 90 سی سی ٹی وی کیمرے، 1200 جوتے، 700 ایکسٹینشن لیڈز، 800 ڈسٹ بن، 4 ایل سی ڈیز، 6 سٹول، لوہے کی 16 کرسیاں، 10 میزیں، پینا فلیکس، باتھ روم میں فوارے وغیرہ لگانے پر ڈھائی کروڑ روپے کے اخراجات آئے ہیں، حکومت نے اس مد میں اب تک کوئی ادائیگی نہیں کی۔فیلڈ ہسپتال کیلئے کھانا ایک خیراتی ادارے “اللہ والے ٹرسٹ” کی جانب سے فراہم کیا جارہا ہے۔ یہ ادارہ 5 مئی تک 28 لاکھ 91 ہزار روپے کا کھانا فراہم کرچکا ہے۔ علاوہ ازیں اے سی ماڈل ٹاؤن نے 20 لاکھ اور ڈپٹی کمشنر لاہور نے بھی ہسپتال کیلئے 20 لاکھ روپے کے عطیات جمع کیے ہیں۔سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ایکسپو سنٹر میں فیلڈ ہسپتال قائم کرنے کیلئے مجموعی طور پر 7 کروڑ روپے کی رقم جاری کی گئی ہے ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.