’’ اپنے عزت ماًب والد سے پوچھیئے کہ ۔۔۔‘‘بلاول بھٹو کو ’ فقیرا کے سوال‘ ٹویٹ کرنا مہنگا پڑ گیا، اقرار الحسن نے سرعام دُرگت بنا ڈالی، ’ مسٹر ٹین پرسنٹ ‘ کی عزت ’فائیو پرسنٹ ‘ بھی نہ رہی

کراچی ( نیوز ڈیسک ) چیئرمین بلاول بھٹو کو ” فقیرا ” کو ٹویٹ کرنا مہنگا پڑ گیا، اقرار الحسن نے ایسا جواب دے دیا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی سوچ بھی نا سکتے تھے۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے ایک ٹویٹ کیا جس میں فقیرا نامی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اینکر

اقرار الحسن کو کی گئی ایک فرضی فون کال کے ذریعے سندھ کی کرپشن سمیت دیگر مسائل پر کردار کشی کا ذمہ دار میڈیا کو ٹھہراتا ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ کس طرح پاکستانی میڈیا صوبے سے متعلق پروپیگنڈہ اور کردارکشی کررہا ہے اس فون کال سے اجاگر کیا گیا ہے۔

بلاول بھٹو کے اس ٹویٹ کے جواب میں اے آر وائی نیوز کے اینکر اقرار الحسن نے چیئرمین پیپلزپارٹی کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ “محترم بلاول صاحب! فقیرا نے جو سوال پوچھا ہے کہ کیا سندھ میں کرپشن کا تاثر پیدا کرنے کا ذمہ دار میڈیا نہیں؟ تو اس کا جواب اپنے عزت مآب والد جناب آصف زرداری سے پوچھیئے،آج کے میڈیا کا تو وجود بھی نہیں تھا جب “سرے محل” اور “مسٹر ٹین پرسنٹ” زبان زد عام تھا۔ اس کا قصوروار بھی اقرار تھا؟”اقرار الحسن نے ٹویٹ میں سوال اٹھایا کہ اگر سندھ میں کرپشن کا ذمہ دار آج کا میڈیا یا خود اقرارالحسن ہے تو کئی سال پہلے جب آج کے میڈیا ہاؤسز یا ان صحافیوں میں سے کوئی بھی نہ تھا تب بھی لوگ سرے محلات اور آصف زرداری کو مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے جانتے تھے کیا ان سب الزامات یا خبروں کا ذمہ دار بھی آج کا میڈیا یا خود اقرار الحسن ہے؟

یاد رہے کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے گزشتہ کچھ روز سے ٹویٹر پر ایک الفاظ کی جنگ جاری ہے جس میں پیپلزپارٹی کے رہنما سعید غنی بھی شریک ہیں،جبکہ اے آروائی نیوز پر وزیراعظم عمران خان کے حق میں رپورٹنگ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.