مقبوضہ کشمیر کی آزاد حیثیت ختم کرنا بھارت کا جنگی جرم بن گیا۔۔!! چین کے حملہ آور ہوتے ہی وزیر اعظم عمران خان کا دو ٹوک اعلان ،مودی کی انتہا پسند حکومت کو خبردار کردیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مودی انتہا پسند حکومت خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی آزاد حیثیت ختم کرنا چوتھے جنیوا کنونشن کے تحت جنگی جرم ہے، مودی حکومت بھارت میں رہنے والے اقلیتوں کے لیے خطرہ ہے، بھارت میں اقلیتوں کو

دوسرے درجے کا شہری قرار دیا جارہا ہے، مودی انتہا پسند حکومت پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہندوتوا کی علمبردار مودی حکومت پڑوسی ممالک کے لیے خطرہ بن رہی ہے، متنازع شہریت ایکٹ کے بعد بنگلا دیش،چین اور نیپال کو دھمکیاں دی جارہی ہیں جب کہ مودی حکومت پاکستان کو بھی جھوٹے فلیگ آپریشن کی دھمکیاں دے رہی ہے۔دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کو مذاکرات کا طریقہ اپنا کر معاملہ سلجھانا چاہیے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے اندرونی معاملات سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے اور بھارت جو مقبوضہ وادی میں کر رہا ہے وہ دنیا دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستانکے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال کرتا رہا ہے اور اب بھارت متنازع علاقے میں فضائی پٹی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کو مذاکرات کا طریقہ اپنا کر معاملہ سلجھانا چاہیے۔ بھارتکے جارحانہ رویے سے خطے کا امن داؤ پر لگا ہوا ہے۔ چین نے کبھی بھی جارحیت نہیں کی۔خیال رہے کہ تین دن قبل چائنہ نے پانچ ہزار فوج کے ساتھ پانچ اطراف شمالی سکم، گولان ، ناکولا پاس سے بھارت پر چڑھائی کی اور تقریباً پانچ کلو میٹر تک لداخ اندر گھسنے کے بعد قبضہ کرتے ہوئے اسی جگہ خیمے گاڑ دئیے ، جبکہ پچاس کے قریب بھارتی فوجی گرفتار بھی کیے تھے بعد ازاں انڈین آفیشلز کے رونے دھونے پر چھوڑ دئیے گئے، چینی فوج نے گولیاں بارود پھونکنے کی بجائے کنگ فو ، کراٹے، مارشل آرٹس کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، مکوں ، گھونسوں ، ٹھڈوں ،

دھکوں اور ڈنڈوں سے پیچھے دکھیلا جبکہ گالیوں ، ڈانٹ ڈپٹ کی بھی وارفئر اس بار دیکھنے میں آئی جب چینی فوج میں موجود ایک فوجی نے ارناب گوسوامی کے انداز میں بھارتی افسر کو سمجھایا جو منتوں ترلوں سے سمجھانے آیا تھا کہ کچھ صبر لیں ہمارے بڑے آ رہے ہیں وہ مل بیٹھ کر بات کر لیں گے وغیرہ وغیرہ ، اسی طرح ایک جگہ ہند کی بہادر آرمی آنگلش و چینی زبان میں ایک بینر اٹھائے کھڑی تھی کہ جس جگہ آپ کھڑے ہیں معاہدہ کے مطابق یہ جگہ ہماری ہے تو آپ پلیز گو بیک ہو جائیں۔ چائنہ نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ٹھیک اگلے دن اپنے شہریوں کو بھارت چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ آج کی اطلاعات کے مطابق چائنہ نے مزید اپنے مزید پانچ ہزار فوجی بڑھا کر کل دس ہزار تعداد کر دی ہے جنہوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے لداخ کی ایک پوری وادی ملکیت کا دعویٰ کر دیا ہے ، اسی طرح سیٹلائیٹ تصاویر کے مطابق لداخ کے قریب چینی سائڈ پر موجود ائر بیس پر چائنہ بڑی تعداد میں تعمیرات کر رہا ہے جس چائنہ کے لداخ سے متعلق مستقبل کی پلاننگ واضح ہوتی ہے۔ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کا خاتمہ ، بلوچستان میں دہشتگردی ، گلگت بلتستان میں فنڈنگ امریکی ایماء پر بھارت کی پاکستان و چین کے مشترکہ پراجیکٹ سی پیک کے خلاف بڑی سازش کو منطقی انجام تک پہنچانے یا کسی حد تک بھارت کو لداخ میں محدود کرنے کی چینی پلاننگ ہو سکتی ہے۔ چائنہ سے مار کھانے، منتیں ترلے، درخواستیں اور جواب کے بجائے بینر اور احتجاج کرنے والی یہ فوج وہی ہے جس کے سربراہ مودی ڈھاکہ میں کھڑا ہوکر اعتراف کرتا ہے کہ ہم نے رت بہایا تو تمہیں پاکستان سے آزادی ملی ،یہ وہی فوج ہے جس نے کشمیر میں ستر سالوں سے جاری ظلم و ستم میں شدت پیدا کی، آرٹیکل 370 کو ختم کرکے نو ماہ تک بدترین لاک ڈاؤن رکھا ، یہ وہی مودی کا بھارت ہے جس نے کشمیر کی امتیازی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد بابری مسجد کا یکطرفہ فیصلہ کروا کر رام مندر کی تعمیر کا فیصلہ کروایا ، یہ وہی امت شاہ کا انڈیا ہے جس نے سیٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ لگا کر سینہ ٹھونک کر کہا ہم نے جو کہا کیا ، اور ہر بار کشمیر میں عسکریت پسندی کی ہوئی کسی کاروائی پر چون انچ کا سینہ پھلا کر پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے دعویدار مودی کو چائنہ کی لداخ میں پیشقدمی اور بھارتی ذلت پر سانپ سونگھ گیا ہے، دہلی خاموش ہے، کسی قسم کی سرجیکل اسٹرائک ، گھس کر مارنے کی بھڑک تاحال سامنے نہیں آسکی۔ تاہم بھارتی متشدد دفاعی تجزیہ جنرل ر بخشی نے احتجاجاً اپنی ایک سائڈ کی مونچھیں کٹوا لی ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ بھارت کے جنونی عوام، چیختے چنگھاڑتے اینکرز اور بھڑکیں مارتے وزرا کیا پالیسی اپناتے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.