’’عمران خان میرے لیے بہت خاص اور ایک عظیم قائد ہیں۔۔ ‘‘ ترک صحافی کا کپتان سے اظہارِ محبت، تعریفوں کے پُل باندھ دیئے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ترک صحافی نے وزیراعظم عمران خان سے اظہار محبت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان میرے لیے بہت خاص اور ایک عظیم قائد ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے ترک صحافی علی کیسکن نے وزیراعظم عمران خان کی تصویر شیئر کی اور ساتھ پیغام میں کہا

کہ میں پاکستان کی پالیسی نہیں جانتا اور میں پالیسی کا حصہ بھی نہیں بننا چاہتا کیونکہ میں آپ سب سے پیار کرتا ہوں۔ ترک صحافی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان ایک خاص شخص ہیں، ہماری ان سے ملاقات نہیں ہے لیکن میں ان سے برسوں سے پیار کرتا ہوں ، وہ ایک سچے پاکستانی ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں کامیابیاں ملی ہیں، وزیراعظم عمران خان معروف تو تھے ہی میدان کرکٹ اور پھر صحت کے میدان میں لیکن وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان نے نہ صرف پاکستان بلکہ امت کے اتحاد کے لئے کام کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج نہ صرف ترک صحافی بلکہ دنیا بھر سے افراد وزیراعظم عمران خان کے حوالہ سے ایسے جذبات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ موجودہ دورِ حکومت میں نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ اندرون ملک کئی شعبوں میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں جس سے عالمی سطح پر ملک کا وقار بلند ہوا ہے اور اندرون اور بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی شناخت پر فخر محسوس کرنے لگے ہیں۔ کئی دہائیوں کے بعد آج پاکستان کسی اور کی جنگ نہیں لڑ رہا بلکہ دنیا میں امن کے فروغ میں متحرک پارٹنر کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس ضمن میں افغانستان میں امن کی کوششوں میں پاکستان کا کردار، مسلم امہ میں اتحاد کے فروغ کےلئے حکومت پاکستان کی کاوشیں، ملک اور خطہ کی ترقی کےلئے سی پیک منصوبے میں چین کے ساتھ پارٹنر شپ اور عالمی طاقتوں کی جانب سے علاقائی امن میں کردار کا اعتراف بدلتے پاکستان کا عکاس ہے۔

نیا پاکستان مسلم امہ کے مابین اتحاد اور بھائی چارے کے فروغ میں پل کا کردار ادا کر رہا ہے، موجودہ حکومت کی کوششوں کی بدولت ملکی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے، موجودہ دورِ حکومت میں سی پیک کو وسعت دے کر کئی اہم شعبہ جات اس اہم منصوبے میں شامل کئے گئے جس سے نہ صرف تعمیر و ترقی کا سفر تیز ہوا ہے بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ سفارتی محاذ پر آج پاکستان تنہائی کا شکار نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ملک کا کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیرِاعظم عمران خان کے وژن کے مطابق نئے پاکستان میں ان معاملات پر توجہ دی جا رہی ہے جو ماضی میں یکسر نظر انداز کئے جاتے رہے، ان میں ماحولیات کے تحفظ کےلئے اقدامات اوراسلام فوبیا کے خلاف موثر آواز بلند کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ وزیرِاعظم پاکستان نے منی لانڈرنگ کے عفریت کے خلاف اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے آواز بلند کی، اندرونی سطح پر ترقی کے سفر میں تمام طبقات کو شامل کیا جانا، کمزور اور ناتواں طبقات کےلئے جامع سماجی تحفظ کے پروگرام کا اجراءاور ریاست کی جانب سے کمزور اور غریب طبقہ کی کفالت کا سہرا موجودہ حکومت کے سر ہے۔ ایک ایسا پاکستا ن جو امن و امان سے متعلقہ مسائل سے گھرا تھا اور جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اربوں ڈالر کے مالی
نقصان اور ہزاروں جانوں کا نذرانہ دینے کے باوجود بھی غیر محفوظ سمجھا جاتا تھا آج ایک نئے تشخص کے ساتھ عالمی سطح پر ابھر رہا ہے، اس کا اعتراف حالیہ دنوں میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے بھی واضح الفاظ میں کیا گیا۔ کہ موجودہ دور ِحکومت میں جہاں امن و امان کی صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے وہاں حکومت بیرونی دنیا سے پاکستان آنے والے سیاحوں، سرمایہ کاروں اور دیگر افراد کو خوش آمدید کر رہی ہے۔ جہاں بھارت میں اقلیتوں کےلئے زمین تنگ کر دی گئی ہے وہاں حکومت پاکستان اقلیتوں کے حقوق کا نہ صرف تحفظ کر رہی ہے بلکہ ان کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے کرتارپور جیسے اقدامات اٹھا رہی ہے، ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک وزیرِاعظم نے بیرون ملک قید پاکستانیوں کےلئے آواز اٹھائی اور ساڑھے 8 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی واپسی یقینی بنائی، آج کا پاکستان عالمی سطح پر خوددار پاکستان کے طور پر ابھر رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کا مقدمہ عالمی دنیا کے سامنے پیش کیا، وزیراعظم نے ٹرمپ سے ملاقات میں کشمیر پر بات کی جس پر امریکی صدر نے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی جسے بھارت نے مسترد کر دیا، کشمیر پر سلامتی کونسل کا 3 بار اجلاس ہوا، ترک صدر نے پاکستان کا دورہ کیا، یو این سیکرٹری جنرل پاکستان آئے اور ثابت ہوا کہ پاکستان امن کا گہوارہ بن چکا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.