وزیر اعظم عمران خان اِن ایکشن : 16 وزراتوں کے حوالے سے بڑا قدم اُٹھا ، وزراء سر پکڑ کر بیٹھ گئے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی کابینہ کے فیصلوں پر عملدرآمد نہ کرنے پر سولہ وزارتوں کو ریڈ لیٹر جاری کردیئے گئےہیں۔وزیراعظم آفس کے مطابق ان سولہ وزارتوں نے کابینہ کے آٹھ میں سے پانچ فیصلوں پر مقررہ وقت تک عمل درآمد نہیں کیا تھا،جنہیں دوسری بار وزیراعظم کی ہدایت پر ریڈ لیٹر جاری کئے گئے ہیں۔

وزیراعظم آفس کے مطابق وزارتوں کو مقررہ وقت میں خالی آسامیوں کا ڈیٹا ایف پی ایس سی کو بھجوانا تھا،اس کے علاوہ وزارتوں کو تمام خالی آسامیوں کیلئے قوائد و ضوابط بنانے کا حکم دیا گیا تھا،مگر وزارتوں نے کابینہ کے پانچ فیصلوں پر مقررہ وقت تک عملدرآمد نہیں کیا۔وزیر اعظم آفس کے مطابق ان سولہ وزارتوں کو مزید 21 روز کی مہلت دی گئی ہے،جو اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی،اس کے علاوہ وزیراعظم نے وزارتوں کی کارکردگی رپورٹ بھی طلب کر رکھی ہے۔اس سے قبل سینئرصحافی رؤف کلاسرا بھارت سے غیرضروری ادویات کی درآمد اور سینیٹائزر کی برآمد پر تفصیلات سامنے آئے۔ اپنے یوٹیوب چینل پر جاری ویڈیو میں رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل تھری سیونٹی کی منسوخی کے بعد پاکستان نے بھارت کے ساتھ تجارت ختم کردی تھی، فضائی اور زمینی رابطے بھی ختم کردیئے تھے،جس کے تحت ادویات کی درآمد بھی بند ہوگئی تھی، کینسر، کتے کاٹے کی ویکسین سمیت متعدد اہم ادویات وہاں سے منگوائی جاتی تھیں کیونکہ بھارت سستی ادویات تیار کرتا ہے،اسلئے چین اور امریکا بھی وہاں سے درآمد کرتے ہیں۔لیکن جب یہ پابندی لگی تو مقامی سطح پر اس پر اعتراض اٹھایا گیا کہ اس طرح مہنگی ادویات جرمنی سے خریدنا پڑیں گی، جو ادویات بھارت سے پانچ ہزار کی خریدتے ہیں جرمنی سے پانچ لاکھ کی خریدی جائے گی لہذا بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم نہ کئے جائیں۔اگست میں پابندی کےبعد ستمبر میں مشروط پابندی ہٹائی گئی جس میں صرف زندگی بچانے والی ادویات منگوائی جاسکتی ہیں۔ جن میں کینسر،کیمو، کتے کاٹے کی ویکسین اور ہارٹ اٹیک کی ادویات کو منگوانے کی

اجازت دی گئی۔روف کلاسرا نے بتایا کہ کچھ عرصے بعد پتا چلا کہ بھارت سے وہ ادویات بھی منگوائی جارہی ہیں جو پاکستان میں دستیاب ہیں۔ پھر یہ خبریں وزیراعظم اور کابینہ تک پہنچیں تو پھر اس پر نظر ثانی کا کہا گیا۔تین مارچ کو اس حوالے سے کابینہ اجلاس میں ڈریپ کو کہا گیا کہ بھارت سے منگوائی جانے والی ادویات کی لسٹ فراہم کی جائے۔ہیلتھ منسٹری کی رپورٹ میں چار سو انتیس ادویات بھارت سے منگوائی گئیں۔جس میں سردرد کی گولی پیراسیٹامول اور وٹامنز بھی منگوائی گئیں۔رؤف کلاسرا نے بتایا کہ جب یہ بات سامنے آئی کہ لائف سیونگ کے نام پر بھارت سے کیا کچھ منگوایا گیا تو کابینہ میں بحث چھڑ گئی۔ وفاقی وزیرریلوے شیخ رشید نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ کابینہ میں بیٹھے بہت سارے لوگ پالیسی میکرپر اثر انداز ہوتے ہیں یہ سب ایجنٹ ہیں۔ انہوں نے کابینہ کے احکامات ہوا میں اڑادیے ان کو کشمیر سے یا ہمارے ملک سے کوئی سروکار نہیں ہے۔جسکے بعد وزیراعظم بھی انکوائری پر مجبور ہوگئے۔ پھر جب انتہائی معمولی ادویات منگوانے کا انکشاف ہوا تو وزیراعظم نے شہزاد اکبر کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی بنائی اور انہیں کہا کہ انکوائری کریں کیسے کابینہ اراکین نے احکامات کو نظر انداز کیا۔ اور درآمد کی، کس طرح کابینہ کی بات نہیں مانی گئی ، ہیلتھ منسٹری یا دوسرے کسی ادارے نے کیسے اجازت دی؟رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیرعبدالرزاق داؤد صاحب کئی بار سمریز لے کر گئے کہ ہمیں بھارت سے یہ کیمیکل منگوانے ہیں، جسے وزیراعظم نے مسترد کردیا۔ ڈینگی کا اسپرے منگوانے کیلئے بھی سمری دی گئی اس کا بھی منع کردیا گیا، پولیو کی میڈیسین کی بھی اجازت نہیں دی گئی تو پیراسیٹامول اور وٹامنز منگوانے کی اجازت کس نے دی؟دوسری جانب سینیئرصحافی رؤف کلاسرا نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے سینیٹائرز کو رجسٹرڈ کرنے کا کہا تو اس پر بھی اعتراضات اٹھے۔ کراچی کے ایک وزیر ہیں ان کے بیٹے کی کمپنی نے سینیٹائزر برآمد کرنے کی اجازت مانگی تو کہا گیا کے ملک میں ویسے کرونا وائرس کی وجہ سے کمی ہے اور اگر سینیٹائزر وافر مقدارمیں ہے تو مہنگا کیوں ہے؟ خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وبا کے آتے ہی سینی ٹائیز، ہینڈ گلوز، میڈیکل ماسک کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوگیا تھا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.