سعودی فوٹوگرافر نے دوران طواف، خانہ کعبہ کی تصویر کھینچی ، مگر تصویر میں ایسا کونسا منظر قید ہوگیا کہ دیکھ کر ہر زبان سبحان اللہ بول اُٹھی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سعودی فوٹو گرافر نے دوران طواف ،خانہ کعبہ کی تصویر کھینچی تو تصویر میں ایسا کیا سامنے آگیا کہ دیکھ کر ہر زبان سبحان اللہ کہہ اٹھی، گزشتہ چند روز سےایک بہت پرانی تصویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں طواف حج کے دوران حجاج کرام کی موجودگی نے وہاں  تصویر بنا دی۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے معروف فوٹو گرافر احمد حاضر نےکچھ سال قبل حج کے دوران ایک تصویر بنائی جس میں واضح طو ر ہر ایک خانہ کعبہ میں حجاج کرام کی موجودگی میں دل بنتانظر آرہا ہے ۔ احمد حاضرکا کہنا تھا کہ یہ تصویر میں نے اس وقت لی جب حج کے دوران مسجد الحرام میں صفائی کرنے والوں نے زرا دیر کو طواف میں مصروف حاجیوں کو صفائی کی غرض سے وہاں سے تھوڑا پیچھے ہٹنے کا کہا ۔ جیسے ہی لوگ پیچھے ہٹے ویسے ہی قدرت کی طرف سے ایک انسانی دل بن گیا۔ احمد حاضر کہتے ہیں کہ میں نے جیسے ہی یہ منظر دیکھا میری زبان سبحان اللہ کہہ اٹھی۔ دوسری جانب دنیا بھر میں کورونا کے وار جاری ہیں اب تک دنیا بھر میں انتالیس لاکھ کے لگ بھگ اس سے متاثر ہوچکے ہیں،دو لاکھ پینسٹھ ہزار اموات ہوچکی ہیں،تقریبا ً تیرہ لاکھ مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔ کورونا کے وار سے ڈاکٹرز،طبی عملہ بھی محفوظ نہیں۔اب تک ہزاروں ڈاکٹروں بھی موت کے منہ میں چلے گئے ہیں ،دنیا بھر کے ماہرین اس کوشش میں ہیں کہ اس مرض کا توڑ نکالا جائے،تحقیقات جاری ہیں،اب ایک تازہ تحقیق سامنے آ ئی ہے جس میں دنیا کو خبردار کیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے یا بیشتر ممالک اس حوالے سے منصوبہ بندی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ کورونا وائرس کی نئی لہر بھی آ سکتی ہے ۔

دنیا میں کورونا وائرس کی دوسری اور تیسری لہر کا اس وقت تک خطرہ موجود رہے گا جب تک دنیا کی آبادی اس کے خلاف قوت مدافعت پیدا نہیں کر لیتی۔ جرمنی کے سرکاری طبی ادارے رابرٹ کوچ انسٹیٹیوٹ کے سربراہ لاتھر وائلر کا کہنا ہے کہ وائرس کی دوسری لہر کافی حد تک یقینی ہے اور بیشتر ماہرین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک وبا ہے اور وبا میں یہ وائرس ہماری طبی خطرات کی فہرست میں اس وقت تک موجود رہے گا جب تک دنیا کی 60 سے 70 فیصد آبادی اس سے متاثر نہ ہو جائے۔’اسی لیے سائنس دانوں کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ اس وائرس کی دوسری لہر بھی آئے گی اور ہو سکتا ہے کہ دنیا کو تیسری لہر کا بھی سامنا کرنا پڑے۔’ وائلر کے مطابق اچھی بات یہ ہے کہ جرمنی جہاں حکومت کو کورونا کے خلاف اپنے اقدامات کی وجہ سے سراہا جا رہا ہے وہاں روزانہ متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں 700 سے 1600 کی کمی واقع ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ بھارت میں رواں ہفتے لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی تو محکمہ صحت کے حکام نے اسے جلد بازی قرار دیا جب کہ امریکا کے نیویارک شہر میں سب وے نظام کو راتوں رات بند کرنا پڑا۔اٹلی میں ماہرین صحت نے خبردار کیا کہ وائرس کی نئی لہر خطرناک ہوسکتی ہے جب کہ جرمن چانسلر اینجلا مرکل نے ملک بھر کے 16 گورنرز سے مل کر آنے والے دنوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی سے متعلق بات کی تاہم یہ فیصلہ کیا گیا کہ اگر مقررہ حد سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے تو پابندیاں دوبارہ لگادی جائیں گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.