جن علاقوں پرقبضہ ہوچکا وہ چین کے حوالے کردئیے جائیں۔۔!! اگر ہم نے لڑائی کی توہماری کئی ریاستیں ٹوٹ جائیں گی ،بھارتی فوج نے حتمی رپورٹ مودی سرکار کو پیش کر دی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )بھارتی فوج کی جانب سے مودی سرکاری کوتجویز پیش کی گئی ہے کہ لداخ کے اندر جوجرنیلز تھے ان کوفوری طور پرsack کیاجائےکیونکہ ان کی ناکامی کی وجہ سے ہمارے ہاتھ سے لداخ اوردیگر ملحقہ علاقے نکل چکے ہیں۔دوسری جانب مودی سرکار چین سے معاملات طے کرنے جا رہی ہے

کہ آپ نے جن علاقو ں پرقبضہ کیاہے آپ ان کے اندر رہیں اگر آپ یہ علاقے چھوڑ کرنہیں جارہے توہمارے ساتھ معاملات طے کرلیں کہ آپ ان علاقوں سے آگے نہیں بڑھیںگےاورباقی ہمارے اورآپ کے درمیان جومعاملات ہوں گے ہم ان کومل بیٹھ کرحل کریں گے۔مودی سرکارکے اس فیصلے پربھارتی فوج میں تشویش پائی جارہی ہے۔دوسری طرف بھارتی فوجی حلقوں کی جانب سے یہ بھی تجزیہ کیاگیاہے کہ اگر بھارت اورچین کی جنگ ہوتی ہے تواس سے بھارت کی متعدد ریاستیں اوران کے علاوہ دیگر اہم علاقے بھارت کے ہاتھ سے نکل سکتے ہیں۔چین بھارت میں کی گئی اپنی سرمایہ کاری روک لے گاجس کے بعد بھارت میں معاشی بحران پیداہوجائے گا۔جس کے بعد ملک میں انارکی پھیلنے کاخطر ہ ہے۔مودی سرکار کوکہاگیاہے کہ آپ نے سب سے پہلے ان سے بات کرنی ہے کیونکہ ہم جنگ کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ خیال رہے چین اور بھارت کے درمیان تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب مشرقی مداخ میں جھیل پینگانگ سو کے قریب دونوں ممالک کی افواج کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس کے بعد چینی فوج نے بھارتی فوجی دستے کو گرفتار کرلیا اور ان کا اسلحہ بھی اپنے قبضے میں لے لیا۔ تاہم بھارتی فوج کی ہائی کمان کی جانب سے بات چیت کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔یہ معاملہ اتنا سنگین تھا کہ بھارتی آرمی چیف نے وزیراعظم مودی کو اس پر بریفنگ دیتے ہوئے اسے شدید جھٹکا قرار دیا۔دوسری جانب بھارتی فوجی ترجمان نے اپنے فوجیوں کی گرفتاری کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جب میڈیا اس طرح کی خبریں شائع کرتا ہے تو اس سے ہماری قومی مفادات کو ٹھیس پہنچی ہے۔بھارتی میڈیا نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کی افواج لداخ میں اپنی نفری میں اضافہ کررہی ہے اور لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر کئی مقامات پر خیمے نصب کردیے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب بھارتی فوج نے لداخ کے علاقے گالوان میں ایک سڑک اور پل کی تعمیر شروع کی جس پر چین نے سخت ناراضی کا اظہار کیا5 اور 9 مئی کو بھی دونوں ممالک کی افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی جس میں دونوں طرف سے اسلحہ کی بجائے مکوں اور آہنی سلاخوں کا استعمال کیا گیا تھا جس میں مئی اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔سوشل میڈیا پر ویڈیوز بھی وائرل ہوئی ہیں جن میں دونوں افواج کے درمیان تکرار دیکھی جاسکتی ہے۔بھارت کا چین کے ساتھ سرحدی جھگڑے کے ساتھ نیپال کے ساتھ بھی سرحدی تنازعہ بڑھتا جارہا ہے۔ نیپالی وزیر اعظم کے پی اولی نے نیپال کا نیا نقشہ جاری کیا ہے جس میں کالا پانی، لمپیا دھورا، لیپو لیکھ کے علاقے کو نیپال کا حصہ قرار دیا جس پر بھارت اپنا دعوی کرتا ہے۔ انہوں نے نیپال میں کورونا وائرس پھیلنے کا ذمہ دار بھی بھارت کو قرار دیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.