عمران خان پاکستان کا مثبت چہرہ پوری دنیا کےسامنے لانے میں کامیاب۔۔۔!!!تین بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے پاکستان میں 1500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کر لیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کی موجودگی میں پاکستان اور تین بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے درمیان 1500 ملین ڈالر کے مالیاتی معاہدوں پر دستخط کر دیئے گئے۔ یہ معاہدے عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشیئن انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ بینک کے ساتھ طے پائے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کوویڈ 19 ایکٹو رسپانس اینڈ ایکسپینڈیچر

سپورٹ پروگرام کیلئے 500 ملین ڈالر کی مالی معاونت فراہم کرے گا۔اس کا مقصد حکومت پاکستان کو اس کے صحت کے نظام کو مضبوط بنانے اور کورونا وباء کے سماجی و معاشی اثرات میں کمی لانے کی کوششوں میں تعاون فراہم کرنا ہے۔ اسی طرح ایشیئن انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک بھی کوویڈ۔19 ایکٹو رسپانس اینڈ ایکسپینڈیچر سپورٹ پروگرام کیلئے 500 ملین ڈالر کی معاون فنانسنگ فراہم کر رہا ہے۔اس کا مقصد کورونا وباء کے اثرات پر قابو پانے کی حکومتی کوششوں میں تعاون فراہم کرنا ہے۔اس کے علاوہ انسانی وسائل کی ترقی کیلئے ضروری صحت وتعلیم کے نظام کو مضبوط بنانے، معاشی پیداوار میں خواتین کے کردار کی حوصلہ افزائی اور سماجی تحفظ کے منصوبوں میں کی بہتری میں معاونت کے سلسلے میں سیکورنگ ہیومین انویسٹمنٹس ٹو فاسٹر ٹرانسفارمیشن (شفٹ) کیلئے 500 ملین ڈالر کے معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے سیکرٹری اقتصادی امور نور احمد جبکہ عالمی بنک کے کنٹری ڈائریکٹر پچھاموتھو ایلانگوان اورایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر مس شیائو ہونگ نے معاہدوں پر دستخط کئے۔ یہ رقم آئندہ چند دنوں میں پاکستان کو فراہم کر دی جائے گی۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ ایف بی آرکی رپورٹ سیدھی سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجی جائے گی، سپریم جوڈیشل کونسل اس رپورٹ پر غور کرے گی، حکومت سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے مطمئن ہے، فیصلہ کسی کی جیت یا ہار نہیں۔ معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر نے وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے مطمئن ہے۔فیصلہ آنے کے بعد ایسا ماحول بنایا گیا کہ یہ کسی کی جیت یا کسی کی ہار ہے۔ یہ کسی کی جیت یا ہار نہیں اس کو کسی اور رنگ میں پیش کرنا غلط ہے۔ ہمیں جو آئین کے تحت آزادی حاصل ہے اس کا تحفظ ججز ہی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے مختصر فیصلے میں صدارتی ریفرنس اور شوکاز نوٹسز کو کالعدم قرار دیا ہے۔چیئرمین ایف بی آر رپورٹ پر دستخط کرکے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوانے کے پابند ہوں گے۔رپورٹ حکومت کو نہیں بھیجی جائے گی، بلکہ سیدھی سپریم جوڈیشل کونسل کے سیکرٹری کو بھیجی جائے گی۔ سپریم جوڈیشل کونسل اس رپورٹ پر غور کرے گی۔ ہم شروع سے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ججز سے متعلق معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل دیکھے۔ چیئرمین ایف بی آر کو75 دن میں کمشنر انکم ٹیکس رپورٹ پیش کریں گے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں کو نوٹس بھیجے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ جج صاحب کی اہلیہ اور بچوں کو لندن کے3 فلیٹس کی تفصیل اور منی ٹریل جمع کرانا ہوگی۔ معاون خصوصی شہزاد اکبر نے کہا کہ بحیثیت وکیل ہم سب کے نزدیک عدلیہ کا احترام اورآزادی مقدم ہے۔ آرٹیکل9 کے تحت تین طریقوں سے کسی جج سے متعلق سوال اُٹھایا جاسکتا ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل واحد ادارہ ہے جو ایسے معاملے کی تحقیقات کرسکتا ہے۔ایک طریقہ یہ کہ کوئی بھی شخص سپریم جوڈیشل کونسل کو معلومات بھیج سکتا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *