یہ باؤ جی کا بجٹ نہیں جس میں اپنے ٹبر کو ۔۔۔ ” شہباز شریف کی تنقید ،شہباز گل نے چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) شہباز شریف کی بجٹ پر تنقید کے جواب میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل نے کہا کہ موصوف نےچند رٹے رٹائےجملوں میں بجٹ کو بنا پڑھے مسترد کردیا، یہ باؤجی کا بجٹ نہیں جس میں اپنے ٹبر اور فنانسرزکو نوازا جاتا تھا۔اپنے بیان میں ڈاکٹر شہباز گل کا

مزید کہنا تھا کہ معیشت کوروناکےباعث دباؤ میں ہے،اس دباؤ پربہتر حکمت عملی سے قابو پا لیاجائےگا۔ جولائی2019تا مارچ2020 کےفگرزمعیشت کی درست سمت کےگواہ ہیں، 2سال میں حکومت نےکرنٹ اکاؤنٹ خسارےمیں 73 فیصد کمی کی،بلندترین کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ چھوڑ کرجانیوالےکس منہ سےبجٹ کومستردکررہےہیں، گزشتہ سال میں حکومت نےاسٹیٹ بینک سےکوئی قرض نہیں لیا۔انہوں نے شہباز شریف کو مخاطب کرکے کہا کہ معیشت نہ چلے یہ آپ کی تشویش نہیں خواہش ہے، حکومت نےبہترین حکمت عملی اورسمارٹ لاک ڈاؤن سےمعیشت کوبڑی تباہی سےبچایا۔واضح رہے اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے وفاقی بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں مہنگائی اور بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت نے اپنی نالائقی پہلے مسلم لیگ (ن) اور اب کورونا کے پیچھے چھپانے کی کوشش کی۔ مہنگائی، بیروزگاری اور کاروباری بدحالی نے تاریخی ریکارڈ قائم کر دئیے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ حکومت کے بجٹ سے ملک کی رہی سہی معاشی سانسیں بھی رک جائیں گی۔ یہ بجٹ نہیں بلکہ تباہی کا نسخہ ہے۔ میرے خدشات سچ ثابت ہوئے۔ افسوس حکومتی نااہلی کی سزا قوم اور ملک کو مل رہی ہے۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ بجٹ اعلانات سے ثابت ہوا کہ حکومت اصلاح احوال اور دانشمندی کی راہ اپنانے کو تیار نہیں جبکہ ٹیکس ریونیو کا 1.7 ٹریلین ارب کاتاریخی خسارہ موجودہ حکومت کی کارکردگی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے 5.8 فیصد جی ڈی پی شرح والی معیشت دی اور موجودہ حکومت نے پہلے سال میں 1.9 پر پہنچادیا جبکہ رواں سال 10 فیصد مالی خسارہ ملکی معیشت اور بجٹ کے اگلے پچھلے سب ریکارڈ توڑ دے گا۔مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ تاریخ میں یہ مالی خسارہ کبھی دوہندسوں میں نہیں رہا، پہلی مرتبہ موجودہ حکومت نے یہ کام کردکھایا اور بجٹ اور اس کے اہداف غیرحقیقی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے زیادہ ترقی اور کم مہنگائی کا فارمولا اپنایا جسے موجودہ حکومت نے الٹ کر دیا۔ بجٹ اعلانات سے ثابت ہوا کہ حکومت اصلاح احوال اور دانشمندی کی راہ اپنانے کو تیار نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس ریونیو کا 1.7 ٹریلین ارب کا تاریخی خسارہ موجودہ حکومت کی کارکردگی ہے۔ 68 سال میں پہلی بار ملکی جی ڈی پی منفی میں ہو چکی ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *