اب ہوگی ہر پاکستانی کی اپنی سواری!! موٹر سائیکل کی قیمتوں میں کتنی کمی ہوگئی؟ حکومت کا بجٹ کے ذریعے عوام کو پہلا تحفہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )بائیکس اور موٹر سائیکل رکشہ لینے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے خوشخبری آگئی۔ حکومت نےدو سو سی سی تک کی موٹر سائیکلز پر ایڈوانس ٹیکس ختم کریا۔گزشتہ روز قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتےہوئےحماد اظہر نےبتایا کہ آٹورکشہ، موٹرسائیکل رکشہ اور200سی سی تک کی موٹرسائیکلوں پر ایڈوانس ٹیکس ختم کردیا گیا

ے۔ریڈیو پاکستان کے مطابق انہوں نے کہا کہ جیسا کہ تمام بینکوں کے پاس مختلف افراد کو وصول ہونے والے منافع پر ٹیکس کاٹنے کا نظام موجود نہیں اس لئے ان پر 15فیصد کا یکساں ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مخصوص اداروں کو شرائط و ضوابط کے ساتھ دیئے جانے والے عطیات پر استثنیٰ دینے کی تجویز ہے تاکہ ان کی نگرانی یقینی بنائی جا سکے۔حماداظہر نے کہا کہ غیرمنقولہ جائیداد کی فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ کی مدت موجودہ پانچ سال سے کم کر کے چار سال کرنے کی تجویز ہے۔ دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تمام حکومتی واتحادی ارکان کو بجٹ منظوری تک اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت کی اور ذرائع کے مطابق شاہ محمود نے کہا بجٹ کی منظوری کیلئے اپوزیشن سے سیاسی مفاہمت ہوچکی لیکن ان کی سیاسی حکمت عملی تبدیلی بھی ہوسکتی ہے۔اس دوران وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت کو مستحکم کررہے تھے کہ آزمائشیں شروع ہوگئیں، پہلے کورونا اور پھر ٹڈی دل کا چیلنج سامنے آگیا۔ روزنامہ جنگ کے لیے ارشد وحید چودھری نے لکھا کہ ” وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت حکومتی واتحادی جماعتوں کا پارلیمانی پارٹی اجلاس ہوا جس میں حکومتی اتحادی بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے ارکان نے شرکت نہیں کی، ذرائع کے مطابق بلوچستان کے ارکان نے وفاق کے جاری فنڈز صوبائی حکومت کی طرف سے روکنے پر تحفظات کا اظہار کیا جس پر شاہ محمود قریشی نےکہا کہ وفاق کا ارکان کیلئے ترقیاتی فنڈ صوبائی حکومت روکنےکی مجاز نہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کے پارلیمانی لیڈر خالد مگسی نے کہا فنڈز کو فوری بحال کیا جانا چاہیے۔رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے بجٹ سے متعلق ارکان کو بریفنگ کیا۔ ارکان نے استفسار کیا کہ زراعت کیلئے بجٹ میں کیا رکھا ہے؟ تو حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ زراعت کیلئے بجٹ میں 50 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ذرائع کے مطابق رکن اسمبلی اورنگزیب کچھی نے وزیراعظم سے ملاقات میں ناکامی کی شکایت کی اور کہا کہ ایک سال سےکوشش کرتا رہالیکن آپ سے ملاقات نہیں ہوسکی۔خیال رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2020-21 کا 72 کھرب 95 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کردیا گیا ہے جس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *