ساری جائیدادیں حکومتی خزانے میں جمع کرا دونگا۔۔!!برطانیہ میں جائیدادیں ثابت ہونے پر عمران خان کا مستعفی ہونے کا اعلان ، نئی مثال قائم کر دی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) برطانیہ میں جائیدادیں ثابت ہونے پر وزیراعظم عمران خان استعفیٰ دے دیں گے۔ حکومتی وکیل فروغ نسیم نے سپریم کورٹ میں بیان جمع کرواتے ہوئے بتایا ہے کہ عمران خان نے جائیدادیں ثابت ہونے کی صورت میں استعفیٰ دینے کی پیشکش کر دی ہے۔ بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم

عمران خان نے نہ صرف استعفیٰ کی پیشکش کی ہے بلکہ جائیدادوں کو ضبط کرکے حکومتی خزانے میں جمع کروانے کا بھی کہا ہے۔فروغ نسیم نے یہ بیان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے جس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے الزام لگایا گیا تھا کہ عمران خان کی لندن میں جائیدادیں ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل جسٹس قاضی فائز عیسی کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نیازی کے نام پر برطانیہ میں6 اور شہزاد اکبر کے نام پر پانچ جائیدادیں ہیں۔اور یہ معلومات برطانوی لینڈ ریکارڈ کی سرچ انجن 192 ڈاٹ کام سے لی گئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ حکومت کے مطابق میرے اہل خانہ کی جائیدادیں بھی اسی ویب سائٹ سے تلاش کی گئیں۔جواب میں کہا گیا کہ شہزاد اکبر کے نام پر برطانیہ میں پانچ،زلفی بخاری کے نام پر 7جائیدادیں ہیں۔جب کہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار اور فردوس عاشق وان کے نام پر بھی برطانیہ میں جائیدادیں ہیں۔علاوہ ازیں جہانگیر ترین اور پرویز مشرف بھی برطانیہ میں جائیدادوں کے مالک ہیں۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ الزام نہیں لگاتا کہ حکومتی شخصیات نے یہ جائیدادیں ناجائز ذرائع سے بنائیں۔تاہم ایف بی آر تعین کرے کہ حکومتی شخصیات نے کتنی قابل ٹیکس آمدن ظاہر کی ہے۔اسٹیٹ بینک بھی تعین کرے کہ کیا حکومتی شخصیات نے یہ پیسہ جائز طریقے سے بیرون ملک بھیجا۔درخواست میں اثاثہ جات ریکوری یونٹ اور اس کے تمام اقدامات کو کالعدم قرار دینے اور شہزاد اکبر اور اے آر یو کے ماہر انٹرنیشنل کریمنل لاء ضیاءالمصطفی نسیم سے تمام تنخواہیں اور مراعات واپس لینے کی استدعا کی گئی تھی جس پر اب فروغ نسیم نے عمران خان کا بیانیہ عدالت میں جمع کرواتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ میں جائیدادیں ثابت ہونے پر وزیراعظم عمران خان استعفیٰ دے دیں گے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *