پی ٹی آئی دور حکومت میں کتنے ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کی گئی؟ اعداد و شمار سامنے آگئے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) گزشتہ روز پیش کیے جانے والے اکنامک سروے کے مطابق تحریک انصاف کے دور میں کل 7 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم کا حصہ بنی ہے۔ اکنامک سروے کے مطابق 16 ہزار میگاواٹ کے منصوبوں میں سے 9 منصوبے مکمل کرلیے گئے ہیں، جن سے 8 ہزار 500 میگاواٹ بجلی کی پیداوار شروع ہو چکی ہے،

اس کے علاوہ پاک چائنہ اکنامک کاریڈور کے ذریعے لگائے جانے والے 12 منصوبوں میں سے 4ہزار 620 میگاواٹ کے4 منصوبے مکمل کرلیے گئے ہیں۔ اقتصادی سروے کے مطابق تھر کول کے 1980 میگاواٹ کے 3 پراجیکٹ، 1590 میگاواٹ کے 2 منصوبے 2020 سے 2022 کے دوران مکمل کرلیے جائیں گے جبکہ لاہور مٹیاری ٹرانسمیشن لائن کا منصوبہ اگلے برس مارچ میں مکمل کرلیا جائے گا۔ اکنامک سروے میں مزید بتایا گیا ہے کہ ملک میں ایل پی جی کی کھپت 2908 ٹن سے کم ہوکر 2799 ٹن یومیہ ہوگئی ہے جبکہ امپورٹ کی جانے والی اور مقامی ایل پی جی کہ فراہمی یومیہ 2906 ٹن سے کم ہوکر 2746 ٹن رہ گئی ہے۔ دوسری جانب بجٹ دستاویزات کے مطابق مالی سال 2020-21ء کے دوران کے الیکٹرک کے ذریعے کراچی کے صارفین کو 25 ارب 50 کروڑ روپے کی سبسڈی دی جائے گی جب کہ مالی سال 2019-20ء کے دوران 59 ارب 50 کروڑ روپے کی سبسڈی دی گئی۔ وفاقی حکومت نے ٹیرف کے فرق پر کے الیکٹرک کو رواں مالی سال 25 ارب روپے کی سبسڈی دی جو آئندہ بجٹ میں کم کرکے 10 ارب روپے کردی گئی ہے جب کہ بلوچستان میں زرعی مقاصد کے لیے بجلی پر دی جانے والی 50 کروڑ روپے کی سبسڈی برقرار رکھی گئی ہے۔ اسی طرح کے الیکٹرک کے ذریعے کراچی کے صنعتی یونٹس کو دی جانے والی سبسڈی بھی نصف کردی گئی ہے۔ آئندہ مالی سال وفاقی حکومت انڈسٹریل سپورٹ پیکیج کی مد میں 5 ارب روپے فراہم کرے گی۔ رواں سال یہ رقم 10 ارب روپے تھی جو آئندہ بجٹ میں نصف کردی گئی ہے۔ ایل این جی سیکٹر کو صنعتوں کو سستی گیس فراہم کرنے کے لیے دی جانے والی سبسڈی بھی 24 ارب روپے سے کم کرکے 10 ارب روپے کردی گئی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.