پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہو گیا، ترکی نےپاکستان کیلئے جدید اور خطرناک جنگی بحری جہازوں کی تیاری کا آغاز کر دیا

کراچی(پی این آئی) پاکستان میں ترکی کے تعاون سے پاک بحریہ کے لیے جدید بحری جنگی جہازوں ‘ملجیم’ اے ڈی اے کلاس کی تیاری کا سنگ بنیاد کراچی میں رکھ دیا گیا۔ترک نیوز ایجنسی ‘انادولو’ کی رپورٹ کے مطابق سنگ بنیاد کی تقریب کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس (کے ایس ای ڈبلیو) میں منعقد ہوئی جس

میں پاک بحریہ اور ترکی کی سرکاری دفاعی کمپنی اے ایس ایف اے ٹی کے عہدیداروں نے شرکت کی۔سنگ بنیاد کی تقریب میں کے ایس ای ڈبلیو کے منیجنگ ڈائریکٹر ریئر ایڈمرل اطہر سلیم مہمان خصوصی تھے۔واضح رہے کہ جولائی 2018 میں پاکستان نیوی نے اے ایس ایف اے ٹی کے ساتھ معاہدہ کیا تھا جس کے تحت وہ 4 ملجیم اے ڈی اے کلاس حاصل کرے گا۔معاہدے کے تحت 2 جنگی جہاز ترکی میں جبکہ باقی 2 پاکستان میں تیار ہوں گے۔مذکورہ معاہدے کی رو سے ملجیم اے ڈی اے کلاس کی ٹیکنالوجی بھی پاکستان میں منتقل ہوگی۔خیال رہے کہ جنگی جہاز ملجیم کلاس کارویٹس کے سنگ بنیاد کی پہلی تقریب گزشتہ ہفتے استنبول کے نیول شپ یارڈ میں منعقد ہوئی تھی۔ملجیم بحری جہاز 99 میٹر طویل اور 2400 ٹن ڈسپلیسمنٹ کیپیسٹی کی صلاحیت رکھتا جبکہ 29 ناٹیکل مائل کی رفتار سے چل سکتا ہے۔ملجیم اینٹی سب مرین جنگی جہاز میں ریڈار سے پوشیدہ رہنے کی صلاحیت ہے جو پاک بحریہ کی دفاعی صلاحیت میں مزید اضافہ کرے گی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ملجیم جدید خطوط پر دفاعی ساز و سامان سے لیس ہے جس میں طیارہ شکن ہتھیار، سینسرز، جنگی نظم و نسق کا نظام بھی شامل ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ’یہ جنگی بحری جہاز، پاک بحریہ کے جدید ترین پلیٹ فارمز میں شامل ہوگا جو بحر ہند کے خطے میں امن، استحکام اور طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں نمایاں کردار ادا کرے گا‘۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل منیجر شپ بلڈنگ کموڈور محمد جہانزیب احسن نے مقامی سطح پر جنگی جہاز کی تعمیر اور دیگر دفاعی شعبوں میں تعاون کے لیے ترکی اور پاکستان کے مابین گہری دوستی پر روشنی ڈالی۔اکتوبر 2019 میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے پاک بحریہ کے چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی کےہمراہ استنبول میں ایک تقریب کے دوران پہلی ملجیم اے ڈی اے کلاس کی پہلی دھاتی پلیٹ کاٹ کر سنگ بنیاد رکھا تھا۔واضح رہے کہ ترکی دنیا کے ان 10 ممالک میں سے ایک ہے جو جنگی جہاز کی تیاری میں مقامی وسائل بروئے کار لاتا ہے۔یاد رہے دونوں ممالک میں دفاعی صنعت، فوڈ پراسیسنگ اور پیکنگ، آٹوموٹو انڈسٹری اور آٹوپارٹس، گھریلو آلات، تعمیراتی سامان، ٹیکسٹائل، چمڑے کی مشینری اور تیار مصنوعات، کھیلوں کا سامان اور جراحی آلات میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *