لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے کورونا وائرس خطرناک حد تک پھیل سکتا ہے۔۔!! حیرت انگیز تحقیق سامنے آگئی، ماہرین نے پاکستانی حکومت کو آگاہ کر دیا

کراچی (نیوز ڈیسک ) ماہرین صحت نے لوڈ شیڈنگ کو کورونا پھیلنے کی نئی وجہ قرار دے دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت ملک بھر میں جاری لوڈ شیڈنگ کورونا وائرس کے پھیلنے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس حوالے سے ماہرین امراض قلب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بدترین لوڈشیڈنگ کو کنٹرول نہ کیا گیا تو سماجی فاصلے کا اصول بے کار ہو

جائے گا، اور کرونا کیسز میں اضافہ سامنے آئے گا، اس لیے حکومت لوڈ شیڈنگ کا فوری خاتمہ کرے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت کراچی سمیت ملک کے بیشر شہروں میں لوڈ شیڈنگ نے زور پکڑ لیا ہے جس کے بعد شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ان مشکلات کی وجہ سے کورونا ایس و پیز کی خلاف ورزی بھی دیکھنے میں آئی ہے جس کی وجہ سے خطرہ ہے کہ کورونا وائرس مزید پھیل سکتا ہے۔اس حوالے سے ماہر امراض قلب ڈاکٹر اعجاز احمد نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا شدید گرمی کے باعث ڈی ہائیڈریشن میں اضافہ ہوتا ہے، لوڈ شیڈنگ کے دوران بخار میں مبتلا مریض گھر رہے گا تو مشکلات بڑھ جائیں گی، کرونا کے مریض کو بخار کی وجہ سے گرم ماحول مشکلات پیدا کرتا ہے، اس صورت حال کو کنٹرول کرنا ہوگا۔خیال رہے کہ پاکستان میں بھی اس وقت باقی دنیا کی طرح کورونا وائرس نے اپنے قدم جما لئے ہیں۔ لیکن حالیہ کئے جانے والے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کورونا کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ ۔ اس وقت موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں کورونا وائرس کے یومیہ رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد میں واضح کمی آئی ہے۔ ملک بھر میں گزشتہ روز کورونا کے 2 ہزار 775 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جوکہ 30 مئی سے اب تک متاثرین کی سب سے کم ترین یومیہ تعداد ہے۔تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ روز رپورٹ ہونے والے کورونا وائرس کے نئے کیسز کی تعداد 2 ہزار 775 ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ 30 مئی سے گزشتہ روز تک رپورٹ ہونے والے یومیہ کیسز کی کم ترین تعداد ہے۔ پاکستان میں مجموعی طور پر کورونا سے متاثرین کی تعداد 1 لاکھ 95 ہزار 745 ہو چکی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 59 افراد مہلک وائرس کے باعث جان کی بازی ہار گئے ہیں جس کے بعد کورونا سے ہونے والی اموات کی کل تعداد 3 ہزار 962 ہو گئی ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *