ایک ایسی رپورٹ جو ملک کے 22کروڑ لوگوں کو پڑھنی چاہیے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) مسلم لیگ (ن)کی حکومت 2018کے الیکشن میں جن ترقیاتی کاموں کی بنا پر ایک بار پھر عوام کے سامنے گئی تھی وہ میٹرو بس سروس، اورنج لائن ٹرین،لوڈ شیڈنگ کا مبینہ خاتمہ، دانش سکول، مکینیکل تندور ، سستی روٹی (یہ تینوں منصوبےاب بھول بسر چکے )ہیں۔لیکن ملک جس موجودہ دور میں جس حال میں کھڑا ہے۔

اس سے کہیں بہتر پوزیشن میں ہوسکتا تھا۔ موقر قومی روزنامہ خبریں میں ایک کالم شائع کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مائیکرو سافٹ کے بانی اور دنیا کے دولت مند ترین شخص نے پاکستان کی تقدیر بدلنے کا ایک موقع دیا تھا لیکن اس وقت کے حکمرانوں نے اسے جوتے کی نوک پر لکھا جس کا نتیجہ ملک کا مقدر بھی جوتے کی نوک پر ہی آنے کی صورت میں نکلا۔ کالم نگار نے لکھا ہے کہ میاں نواز شدیف کا دوسرا دور حکومت تھا ہمارے ملک کے اک بڑے بزنس مین کے بیٹے کو امریکہ میں معلوم ہوا کہ مائیکروسافٹ کے مالک بل گیٹس پینتیس ملین ڈالر کی لاگت سے کسی ایشیائی ملک میں مائیکروسافٹ یونیورسٹی ایڈوانس ٹیکنالوجی لیب بنانا چاہتے ہیں اور ان کا نظر انتخاب پاکستان ہے مگر امریکہ میں موجود بھارتی لابی اس پروگرام کو بھارت لے جا رہی ہے تو اس نوجوان نے وطن کی محبت میں متحرک ہونے کا فیصلہ کیا اور مائکروسافٹ کے ایشائی ٹیم کے لیڈر سے بات کی کہ یہ منصوبہ پاکستان کو ہی ملنا چاہییے اس پر ٹیم لیڈر نے کہا کہ پاکستان میں چونکہ نقل سازی عام ہے اور پائیریسی کے متعلق کوئی موثر قانون سازی بھی نہیں کی گئی ۔

لہذا اگر پاکستان تحریری ضمانت دے کہ پائیریسی کے حوالے سے قانون سازی کی جائے گی تو ہم یہ یونیورسٹی پروگرام پاکستان میں لانچ کر سکتے ہیں نوجوان خوشی خوشی اک مہینے کا ٹائم لے کر پاکستان چلا آیا کہ یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیںمگر نوجوان جب پاکستان پہنچ کر حکومتی دروازوں پر پہنچا تو معلوم پڑا کہ اپنے وزیراعظم کے پاس ملاقات کا وقت نہیں ہے وزیروں کے پاس بھی فرصت نہیں تھی کہ اک غیر ملکی کو تحریری ضمانت دیتے پھریں بیوروکریسی کو تو ویسے ہی ملکی مفاد کے منصوبوں سے دلچسپی نہیں تھی انہیں تو بڑے صاحب کے باتھ روم کی تزین و آرائش اور لاہور والے گھر جیسا شاور ڈھونڈنے کی ٹینشن تھی خیر ہفتہ دس دن کی دوڑ دھوپ کے بعد یہ نوجوان وفاقی وزیر ہمایوں اختر سے ملنے میں کامیاب ہو گیا تمام معاملہ سن کر ہمایوں اختر نے کہا کہ وفاقی وزیر احسن اقبال سے ملو اس پروجیکٹ کی متعلقہ وزارت کا قلمدان احسن اقبال کے پاس ہیں مزید کچھ دن خوار ہونے کے بعد احسن اقبال سے ملاقات ممکن ہوئی نوجوان نے بصد ادب تمام معاملہ گوش گزار کیا جسے سن کر وزیر صاحب موصوف نے فرمایا اگر بل گیٹس مجھے خط لکھے تو پھر یہ گارنٹی دی جا سکتی ہے۔

اب بندہ پوچھے کہ دنیا کا امیر ترین بندہ اگر پاکستان جیسے غریب ملک کو مفت میں اک انتہائی اہم یونیورسٹی دینا چاہتا ہے درخواست کرنے کی پوزیشن میں آپ ہیں یا وہ اس کو کیا پڑی ہے کہ وہ خط لکھ کر قانون سازی کے متعلق درخواستیں کرے یہ اس کا کام ہے یا آپ کامگر وزیر صاحب نے نخوت بھرے لہجے میں یہ کہہ کر بات ہی ختم کر دی کہ ہمیں سکھانے کی بجائے وہ کرو جو کہا گیا ہےبے عزتی کرانے کے باوجود نوجوان چین سے نہ بیٹھا کیونکہ وہ اس منصوبے کی اہمیت سے آگاہ تھا مزید کچھ دن خوار ہونے کے بعد اسے اک خط دیا گیا جس میں اک ڈائریکٹر نے بل گیٹس کو حکم دیا ہوا تھا کہ جونہی یہ خط ملے تو فوراً حاضر ہو جائیں تاکہ آپ کی درخواست پر ہمدردانہ غور کیا جائےاب نوجوان کی ہمت جواب دے گئی یہ خط آج بھی اس نوجوان کے پاس موجود ہے ذرا سوچیں اگر یہ خط بل گیٹس کو دے دیا جاتا تو وہ ہمارے متعلق کیا سوچتا نوجوان تو تھک ہار کر بیٹھ گیا مگر انڈین لابی متواتر کوششوں میں لگی رہی اور جب انہیں معلوم پڑا کہ اب لوہا گرم ہے تو اپنے بھارتی وزیر اعظم سے بل گیٹس کو فون کروا دیا جس نے نہ صرف ہر قسم کی ضمانت دینے کا وعدہ کیا بلکہ بل گیٹس کو بھارت آ کر خود اس کا افتتاح کرنے کی دعوت بھی دے ڈالی پھر دو ماہ بعد بل گیٹس نے بھارت جا کر نہ صرف یہ پروگرام لانچ کیا بلکہ سافٹ وئیر کی تعلیم کے لئے سو ملین ڈالر سالانہ دینے کا بھی اعلان کیا۔

بھارتیوں کے دن پھرے صرف دس سال کے قلیل عرصے میں ساڑھے دس لاکھ بھارتی امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہےتھے بلکہ اکیلے بھارتی شہر بنگلورو کی سالانہ آئی ٹی ایکسپورٹ اسی ہزار کروڑ ہو گئی امریکیوں کے بعد سب سے گوگل استعمال کرنے والے ہندوستانی آج مائیکروسوفٹ اور دیگر بڑی آئی ٹی کمپنیوں میں سی ای او سمیت دوسرے کلیدی عہدوں پر براجمان ہیں اور ان کمپنیز کے لیے بھارتیوں کو جاب دینا مجبوری بن چکا یے وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے بھارتیوں کو جاب نہ دی تو ایک سال میں بھارتی ماہرین ہم سے بھی بڑی آئی ٹی کمپنیز کھڑی کر دیں گے۔ آج گوگل کا سی ای او بھارتی سندر پیچائیئیکروسافٹ کا سی ای او بھارتی ستیا نا)اڈوب کا بھارتی شانتو نرائن، نوکیا کا سی ای او ، راجیو سوری،کوگزنیٹ کا سی ای او ، فرانسيسكو ڈی سو زا،گلوبل فاونڈیز کا سی ای او، سنجے کمار ،ہرمین انٹرنیشنل کا سی او، دنیش پالی وال،نیٹ ایپ کا سی ای او ، جورج کورین،پیسی کولا کی سی ای او، اندرا نوئے ،ماسٹر کارڈ کا سی ای او، اجے بانگا ،ڈی بی ایس کا سی ای او، پائیش گپتا ،ریکٹ بینکیزئر کا سی ای او، راکیش کپور یہ سب کئے سب بھارتی ہیں۔ سی ای او کسی بھی کمپنی کا سب سے بڑا عہدہ ہوتا ہے- اسکے علاوہ کئی ہندو لوگ نائب سی ای او اور ڈائریکٹر جنرل کے عہدوں پر فائز ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.