لداخ میں چینی فوج سے محاذآرائی۔۔!!بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں ہنگامی بنیادوں پر کس چیز کی تعمیر شروع کردی؟معاملہ نیا رخ اختیار کرگیا

سرینگر (نیوز ڈیسک ) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فضائیہ نے جنوبی کشمیر کے علاقے بیجبہارہ میں سرینگر جموں شاہراہ سے متصل 3 کلومیٹر طویل رن وے کی تعمیر شروع کردی ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ہنگامی لینڈنگ کی سہولت کے لیے رن وے کی یہ تعمیر ایک ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب لداخ میں

بھارتی فوج اور چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے درمیان لائن آف ایکچول کنٹرول پر محاذآرائی جاری ہے۔ رن وے پر کام دو روز قبل جنگی بنیادوں پر شروع کیاگیا اور ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ یہ تین کلومیٹر لمبا ہوگا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں لڑاکا طیاروں کے لئے لینڈنگ کی سہولت کا کام دے گا۔ رن وے کی تعمیر کے لئے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ٹرکوں اورمزدوروں کو پاسز جاری کردیئے گئے ہیں۔اطلاعات میں کہا گیا کہ رات کے دوران بھی کام جاری رکھنے کے لیے مزدوروں کو خصوصی پاسزجاری کئے جارہے ہیں۔دوسری جانب چین کی فوج نےلداخ کے بڑے حصے پر قبضہ جمالیا۔ چینی فوج لداخ کے تقریباً 40 سے 60 کلومیٹر کے علاقے پر قبضہ کر چکی ہے۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری غلام حسین کا کہنا تھا کہ بھارت کی حکمران جماعت شدید دباو کا شکارہے۔اپوزیشن جماعت کانگریس نے دعویٰ کیا ہے چین نے ہمارے بڑے حصہ پر قبضہ جما لیا ہے ۔قبل ازیں لداخ میں حالیہ بھارت چین سرحدی کشیدگی کے بعد یورپی میڈیا میں مکمل جنگ کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس پر چین کے خلاف مہم اور تجارتی تنازع کے باوجود دونوں ملکوں میں ثالثی کی پیشکش بھی کردی ہے، جبکہ بھارت اور چین کی طرف سے بارڈر پر فوجوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے.بھارتی دعوے کے مطابق چین لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے اندر تک آچکا ہے سیٹلائٹ سے لی گئی تصویروں میں ایل اے سی کے اندر مبینہ بھارتی حدود میں چین کے فوجی 60 خیمے لگا چکے ہیں جبکہ چین کی اپنی حدود میں 100 خیمے نصب کیے جا چکے ہیں بھارتی دعوے کے مطابق چین بھارتی مشینری کی مدد سے بنکرز بھی بنا رہا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.