پاکستانی پائلٹس کی جعلی ڈگریوں کا معاملہ، غیر ملکی میڈیا نے معاملے کو ایوی ایشن کی تاریخ کا بڑا سکینڈل قرار دے دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستانی پائلٹس کی جعلی ڈگریوں کا معاملہ، غیر ملکی میڈیا نے معاملے کو ایوی ایشن کی تاریخ کا بڑا سکینڈل قرار دے دیا ہے، غیرملکی خبررساں ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے ایک صحافی نے پاکستان میں پائلٹس کے جعلی لائسنس کے معاملے کو ایوی ایشن کی تاریخ کا بڑا سکینڈل

قرار دیدیا ہے۔ صحافی کا کہنا تھا کہ پاکستانی ایویشن اتھارٹی کے مطابق ایک تہائی پائلٹ طیارہ اڑانے کے لیے کوالیفائی ہی نہیں کرتے، دنیا میں کہیں اس کی مثال نہیں ملتی، پاکستان میں ائیر لائنز کی سیفٹی کے حوالے سے انتہائی سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی ائیر لائن کے ایک تہائی پائلٹ کے لائسنس جعلی ہیں یا مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتے۔حالانکہ جو طیارہ حادثے کا شکار ہوا اس کے پائلٹ کا لائسنس صحیح تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک ملک تسلیم کر رہا ہے کہ کمرشل ائیر لائن سیکٹر میں مشکوک فلائنگ لائسنس موجود ہیں جس سے پاکستان میں ائیر لائنز کی سیفٹی کے حوالے سے انتہائی سنگین سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔صحافی کا کہنا تھا کہ ایسے انفرادی کیسز موجود ہیں جہاں ہم نے دیکھا کہ پائلٹ جعلی لائسنس پر دہائیوں تک جہاز اڑاتے رہے لیکن وہ پائلٹ پیشہ ورانہ اعتبار سے ماہر ہوتے تھے لیکن پاکستان میں معاملہ ہی کچھ اور ہے، یہاں پائلٹ لائسنس کی ہول سیل لگی ہوئی ہے اور وہ لوگ جہاز اڑا رہے ہیں جن کو نہیں اڑانا چاہیے۔واضح رہے کہ وفاقی وزیرہوابازی نے 262 کمرشل پائلٹس کے لائسنس جعلی ہونے کا انکشاف کیا ہے،وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور نے انکشاف کیا تھا کہ پی آئی اے کے 262 کمرشل پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں، جبکہ پی آئی اے نے مشتبہ لائسنس والے 150پائلٹس کو گراؤنڈ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *