مذاکرات میں ناکامی۔!!! چین نے بارڈر پر مئزائل سسٹم تعینات کر دیئے۔۔۔ائیرفورس کی ہنگامی ٹریننگ، پورے بھارت میں تھرتھلی مچ گئی

لداخ (ویب ڈیسک) چین اور بھارت کے سرحدی تنازع کے حوالے سے گزشتہ روز مزاکرات ہوئے جو ناکام ہو گئے اور بھارت کی جانب سے اپنے میڈیا پر پابندی لگا دی گئی کہ جب تک ہم کوئی خبر نہ دیں اس حوالے سے کوئی خبر نہ چلائی جائے۔ مذاکرات کی ناکامی

پر بھارت کی جانب سے ایک خبر دی گئی کہ مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں اس کے بعد پوری دنیا اس انتظار میں تھی کہ چین کی جانب سے اس حوالے سے کیا بیان آتاہے۔ چین نے بیان کی بجائے اپناپی سی ایل ون نائٹنی ون ایم آرایل ایس انہوں نے پورے چین اوربھارت کے بارڈ پر اپنا میزائل سسٹم تعینات کر دیا۔ یہ میزائل سسٹم 350کلومیٹر کی رینج کاہے جس کے بعد اب بھارت کا کوئی بھی حصہ چین کی رینج سے باہر نہیں ہے۔ چین نے اب اپنی پاورشوکی ہے اوراس کی فوج اورائیرفورس نے مشقیں شروع کردی ہیںاوربھارت کوپیغام دیاہے کہ ہم جنگ کے لیے تیارہیں جبکہ دوسری جانب بھارت میں بہار الیکشن کی تیاری ہورہی ہے اور بھارتی سیاستدان ایک دوسرے پرتنقید کے نشتر چلا رہے ہیں۔ دفاعی ذرائع کے مطابق لائن آف کنٹرول کشیدگی سے متعلق ہندوستان اور چین کے مابین بات چیت کا آغاز آج صبح ہوا،جس میں چار ایجنڈے ٹیبل پر موجود تھے۔ ایل اے سی لداخ پر سرحدی جھڑپوں کے متعلق دونوں ملکوں کے سینئر فوجی کمانڈروں کے مابین مولدو چوشول میں بات چیت کا آغاز آج صبح ہوا۔ ملٹری جنرل کمانڈر کی سطح کا اجلاس چین اور بھارت کے مابین میمالڈو میں چشول کے قریب لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر ختم ہو گیا ہے۔خفیہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوطرفہ ملاقات سے اچھی خبریں نہیں آ رہی ہیں۔ شرکاء کے چہروں سے کہانی واضح ہے کہ مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔چین نے انڈیا کے سامنے جو چار شرائط رکھی تھیں ان میں سے ایک شرط یہ تھی کہ جو آرٹیکل 370 ختم کیا گیا ہے اُسے واپس بحال کرے۔ جس پر دونوں طرف کی افواج کی بات چیت ناکام ہوئی۔ اگر ہائی لیول کے یہ مذاکرات واقعی ناکام ہو گئے تو پھر بھارت چین کے مابین یہ کشیدگی انتہائی خوفناک جنگ کا روپ دھار سکتی ہے۔چین یقیناً لداخ سے واپسی کا ارادہ نہیں رکھتا جو کہ بھارت کے لیے دنیا بھر میں انتہائی شرمندگی کا باعث ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *