پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں اچانک 25 روپے کا اضافہ کیوں کیا گیا؟ تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد( نیوز ڈیسک) ملک میں اس وقت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں پچیس روپے اضافے کے بعد سے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت پر شدید تنقید کی جارہی ہے کہ انہوں نے پیٹرول کے بحران پر قابو پانے اور پٹرول کا بحران پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کی

بجائے اچانک پیٹرول کی قیمت میں پچیس روپے کا بڑا اضافہ کیوں کر دیا؟ پیٹرول مافیا نے کیسے پہلے پٹرول کا بحران پیدا کیا اور بعد میں کیسے حکومت کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے 70 ارب روپے کا منافع کمایا؟ اس حوالے سے سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے ساری کہانی بیان کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اس تمام کارروائی کی اندرونی کہانی بتاتے ہوئے سینئر تجزیہ کار رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں پچیس روپے کا اضافہ کرنا جب عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمتیں گر رہی ہیں لوگوں کی نظروں میں حکومت کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کر گیا ہے، جس کے بعد لوگوں کی جانب سے عمران خان پر تنقید کا سلسلہ جاری ہو گیا ہے کہ انہوں نے کیوں ان مافیا کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کردیا؟رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ جب عمران خان اپوزیشن میں تھے طالبان کی جانب سے یہ اکثر سننے میں آتا تھا کہ یہ سب مافیاز ہیں جن کے خلاف میں حکومت میں آنے کے بعد کاروائی کروں گا لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ عمران خان اپنے ماضی کے بیانیے سے ہٹتے نظر آ رہے ہیں، وزیراعظم عمران خان پر آٹا ، چینی اور پیٹرول بحران کے بعد یہ الزام لگنا شروع ہو گیا تھا کہ ان کی اپنی کابینہ میں مافیا بیٹھا ہوا ہے، جس پر انہوں نے مافیا کے لفظ کو تھوڑا فینسی کرتے ہوئے ان کے لیے “ایلیٹ کیپچر” کا لفظ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، یعنی اس سے مراد وہ
کاروباری حضرات ہیں جو اپنا اکٹھ کر کے ملک میں کسی چیز کی قلت پیدا کر دیتے ہیں۔لوگوں کی جانب سے حکومت کے اس اقدام کو بڑا سراہا گیا تھا جب حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرتے ہوئے پیٹرول کی فی لیٹر کمی 75 روپے کر دی تھی، عوام میں تب حکومت کی جانب سے ایک بڑا ریلیف ملنے کی امید پیدا ہو گئی تھی کیوں کہ کرونا وائرس کی وجہ سے بہت سے لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں اور ان کی ذخیرہ کی گئی رقم بھی اب ختم ہونے کو ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ہیں عمران خان کی شہرت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔روف کلاسرا کا کہنا تھا کہ منافع خور مافیا کا چہرہ اور بدمعاشی تب عیاں ہوتی ہے جب حکومت کی جانب سے کسی بھی چیز کی قیمتوں میں کمی کی جاتی ہے اور اسی کمی کے فورا بعد مافیا کی جانب سے اس چیز کی قلت پیدا کردی جاتی ہے، تاہم اس چیز سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران کس قدر بوگس بیوروکریسی کے آگے بے بس ہیں، اس بوگس بیوروکریسی کے بہت سے لوگ عمران خان کی کابینہ میں موجود ہیں، جن کے آگے عمران خان بے بس دکھائی دیتے ہیں۔پیٹرول مافیا نے کس طرح سے حکومت کو یرغمال بناتے ہوئے عوام کی جیبوں پر ایک دن میں 70 ارب روپے کا ڈاکہ کیسے ڈالا کے حوالے سے بتاتے ہوئے راؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ وزارت پیٹرولیم کی جانب سے 25 مارچ کو ایک لیٹر

جاری کیا گیا جس میں آئل مارکیٹنگ کمپنی کو کہا گیا کہ اب آپ آئل امپورٹ نہیں کریں گے، اور یہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جو عالمی تیل کی مارکیٹ میں آئل مارکیٹنگ کمپنیاں تیل بیچنے کے لیے خریدار ڈھونڈنے رہی تھیں، اور مارکیٹنگ کمپنیوں کو لیٹر لکھنے کی وجہ ہے وزارت پٹرولیم کی جانب سے یہ بیان کی گئی کہ کرونا وائرس کی وجہ سے سڑک پر ٹریفک کا بہاؤ نہ ہونے کے برابر ہو گیا ہے جس کی وجہ سے اب ہم نے پٹرول امپورٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ وزارت پٹرولیم کی جانب سے لکھے گئے خط کے بارے میں پوچھنے پر کہا گیا کہ یہ صرف اس لئے کیا گیا ہے تاکہ پاکستان کی آئل ریفائنریز بند نہ ہو جائیں، جب وزارت پٹرولیم نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو تیل باہر سے منگوانے سے روک دیا تو پاکستان میں آئل ریفائنری کے مالکان نے اپنی بدمعاشی دکھاتے ہوئے اپنی پیداوار میں کمی کر دی جس کی وجہ سے پاکستان میں پٹرول کا بحران پیدا ہوگیا، بحران پیدا ہوتے ہیں حکومت کو پتہ چلا کہ ہماری جانب سے جاری کئے گئے اور مارکیٹنگ کمپنیوں کو لیٹر کی وجہ سے بحران پیدا ہو رہا ہے تو انہوں نے 25 اپریل کے خط کو ایک مہینے کے بعد ود ڈرا کر دیا، لیکن ایک مہینے کا گیپ آنے کی وجہ سے پیٹرول کا بحران برقرار رہا، جس کا سارا فائدہ پاکستان میں موجود آئل ریفائنریز کے مالکان نے اٹھاتے ہوئے اربوں روپے کمائے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *