رنگ گورا کرنے والی مشہور کریم ’ فیئر اینڈ لولی‘ کا نام تبدیل کرنے کا اعلان، نام کی تبدیلی میں 3 پاکستانی سہیلوں نے کیا کردار ادا کیا؟ کمپنی نے ہار مان لی

لاہور( ویب ڈیسک) پاکستان ہو یا انڈیا اکثر نوجوان لڑکیاں اپنی رنگت نکھارنے اور خود کو گورا کرنے کے لیے کئی پاپڑ بیلتی ہیں۔ یوں تو بازار میں ’گورے پن‘ کی ڈھیروں مصنوعات موجود ہیں لیکن ’فیئر اینڈ لولی‘ کے نام سے بکنے والی کریم کا کوئی مقابلہ ہی نہیں رہا۔یہاں تک کہ رنگت

نکھارنے والی اکثر کریموں کو ’فیئر اینڈ لولی‘ کہہ کر ہی پکارا جاتا ہے۔لیکن اب اس مشہورِ زمانہ کریم بنانے والی کمپنی یونی لیور نے اعلان کیا ہے کہ وہ دنیا میں آنے والی تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کے لیے اس کریم سے ’فیئر‘ یعنی ’گوری رنگت‘ کا لفظ ہٹا رہے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق کمپنی نے اپنی مصنوعات سے رنگت کی سفیدی اور گورے پن سے جڑے دوسرے کئی لفظوں کا استعمال بھی بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ’فیئر‘ کے بغیر ’فیئر اینڈ لولی‘ کریم کا نیا نام کیا ہوگا، یہ ابھی طے کیا جارہا ہے۔کمپنی کی جانب سے جاری کی گئی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ جِلد کی حفاظت سے متعلق تمام مصنوعات کے اشتہارات اور پیکجنگ میں تبدیلی کا عمل پہلے ہی شروع کیا جاچکا ہے۔رواں سال 9 جون کو امریکہ میں مقیم تین پاکستانی سہیلیوں نے ایک آن لائن پٹیشن شروع کی تھی جس میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ فیئر اینڈ لولی اور گورے پن کی تشہیر کرنے والی دوسری مصنوعات پر فوری طور پر پابندی عائد کی جائے۔ہیوسٹن میں مقیم انعم چندانی کہتی ہیں کہ امریکہ میں سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت اور اس کے نتیجے میں چلنے والی ’بلیک لائیوز میٹر‘ یعنی ’سیاہ فاموں کی زندگیاں بھی اہم ہیں‘ تحریک کے بعد سے وہ اور ان کی سہیلیاں کافی پریشان تھیں۔’یہاں ایک نیا ماحول ہے، ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے۔ مجھے لگا کہ بادامی رنگت والے ہمارے جیسے لوگ یہاں ایک طرف بیٹھ کر یہ تماشہ نہیں دیکھ

سکتے کہ نسل پرستی سیاہ اور سفید فاموں کا آپسی جھگڑا ہے۔مجھے محسوس ہوا کہ ہمیں بھی گروہ کے طور پر اپنے معاشرتی رویوں میں سفید رنگت کو برتر سمجھنے کے خیال پر غور کرنا ہوگا۔ اور اسی غور و فکر کے دوران مجھے یہ احساس ہوا کہ سفید رنگت کی برتری کو بڑھاوا دینے میں رنگت گوری کرنے والی کریم خاص کر ’فیئر اینڈ لولی‘ کا بہت عمل دخل ہے۔‘پھر انعم نے امریکہ کی دوسری ریاستوں میں مقیم اپنی دو دوستوں ماروی احمد اور حرا ہاشمی سے رابطہ کیا اور ایک آن لائن پٹیشن تیار کی جس میں یہ کہا گیا کہ فیئر اینڈ لولی گہری رنگت کے بارے میں کمتری کا احساس جگانے اور رنگت کی بنیاد پر تفریق کی حوصلہ افزائی کرنے کا سبب بن رہی ہے۔لہذا ان کا مطالبہ تھا کہ اس کریم کی تیاری بند کی جائے۔یونی لیور کے سی ای او کے نام لکھی اس پٹیشن میں انعم، حرا اور ماروی نے کہا کہ ’فیئر اینڈ لولی‘ کے اشتہاروں میں گہری رنگت رکھنے والے افراد کو احساس کمتری اور اعتماد کی کمی کا شکار دکھایا جاتا رہا ہے اور لوگوں کو یہ باور کروایا جاتا رہا ہے کہ دنیا میں کامیابی کے لیے، یہاں تک کے اچھا جیون ساتھی پانے کے لیے، رنگت کا گورا ہونا ضروری ہے۔حرا ہاشمی کہتی ہیں کہ گہری رنگت کے خلاف تعصب سے صرف خواتین ہی نہیں بلکہ مرد بھی متاثر ہوئے ہیں۔اس مہم کے دوران بہت سے مردوں نے ہمارے ساتھ اپنی کہانیاں شیئر کیں جب انھیں رنگت کی وجہ

سے تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔ایک لڑکے نے بتایا کہ کس طرح اسے کرکٹ کھیلنے سے صرف اس لیے روکا جاتا رہا کہ اس کا رنگ کالا ہوجائے گا۔ اور یہ کہ وہ ’گلی کے لڑکوں‘ کی طرح لگے گا۔‘انعم، حرا اور ماروی نے اس پٹیشن کی حمایت کے حصول کے لیے دن رات کوشش کی۔اور 15 دنوں میں 94 ملکوں کے13 ہزار سے زیادہ افراد نے اس پٹیشن کی حمایت کی جس میں شوبز سے تعلق رکھنے والی اور دوسری کئی نامور شخصیات شامل ہیں۔اس پٹیشن کو دنیا کے کئی نامور جریدوں نے بھی سپورٹ کیا اور دو ہفتے میں ہی یونی لیور کا اعلان سامنے آگیا۔پاکستان میں خواتین نے یونی لیور کے اس اعلان کی حمایت کی ہے۔ مدیحہ جاوید کا کہنا تھا کہ ’نسل پرستی جیسے معاملات پر بات ہو رہی ہے۔ ایسے ماحول میں یہ ایک اچھا قدم ہے۔ لیکن ایسے فیصلوں کے اثرات نیچے تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ لوگ اس کو کیسے لیں گے۔‘اس ضمن میں یونی لیور کے بیوٹی اینڈ پرسنل کیئر ڈویژن کے صدر سنی جین نے کہا کہ وہ اس کریم کے نام میں استعمال کیے جانے والے لفظ ‘فیئر کو درست نہیں مانتے اور وہ اسے صحیح کرنا چاہتے ہیں۔کمپنی کے مطابق وہ کریم کے نام سے فیئر کا لفظ نکال کر کوئی ایسا لفظ استعمال کریں گے جس سے کسی بھی نسل کے لیے تعصب ظاہر نہ ہو جب کہ پروڈکٹ کا نیانام ریگولیٹری اپروول کے بعد اعلان کیا جائیگا۔یونی لیور پاکستان کے سی ای او عامر پراچہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یونی لیور ایک ایسی کمپنی ہے جو گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ تجربہ کر رہی ہے اور اب ہم نے خوبصورتی کے حوالے سے اپنی ارتقاء میں جرات مندانہ قدم اٹھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی 2019 میں کمپنی نے کریم کی پیکیجنگ سے دو رنگ کے چہرے اور شیڈ کارڈ کو ہٹانے کا اقدام کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ فیئر اینڈ لولی کے نام میں تبدیلی کے علاوہ برانڈ کا اسکن کیئر پورٹ فولیو بھی مثبت خوبصورتی کے نئے وڑن کی عکاسی کرے گا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *