حکومت نے پیٹرول مہنگا کر کے آئل کمپنیوں کو کتنے سو ارب کا فائدہ پہنچایا؟ تیل کی بہتی گنگا میں کس کس نے ہاتھ دھوئے؟ تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پی ٹی آئی حکومت نے عوام پر پیٹرول کا تاریخی بم گرادیا۔ معاشی تجزیہ کار فرخ سلیم نے بھی موجودہ حکومت کی جانب سے ایک نہیں دو نہیں پورے پچیس روپے ایک ساتھ بڑھانے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ اپنی نئی ویڈیو میں حکومت کی دھجیاں اڑادیں۔تفصیلات کے مطابق ملک میں

جاری پیٹرول بحران کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر معاشی تجزیہ کار فرخ سلیم نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے پیٹرول کی قیمت کی تھی چوہتر روپے باون پیسے فی لیٹر اس میں ٹیکس اکتالیس روپے ،خرچے نوروپے ستر پیسے اور تیل کی بیس کی قیمت تقریباًچوبیس روپے تھی، اب قیمت کردی سو روپے فی لیٹر، ٹیکس چوالیس روپے پچپن پیسے، خرچے نو روپے ستر پیسے اور تیل کی بیس کی قیمت پنتالیس روپے چھیاسی پیسے۔ اس کاموازنہ کیا جائے تو حکومت کو اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ ٹیکس میں کوئی اضافی پیسے آنے والے نہیں۔فرخ سلیم نے واضح کیا حکومت کو تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، حکومت نہ فائدہ شیل، ٹوٹیل، ہیسکول اور اٹک پیٹرولیم آئل کمپینوں کو پہنچایا ہے۔ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ بحران کی وجہ سے جن چار آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر حکومت نے گیارہ جون کو ایک کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا تھا، اب اُنہی کو 300 ارب روپے کا فائدہ پہنچادیا گیا ہے یہ ہوتا ہے مافیا کہ جرمانہ ایک کروڑ کا جرمانہ تین سو ارب کا، حکومت کو صرف انڈا ملا ہے، عوام کو بھی تین سو ارب کا ٹیکا لگا ہے، یہ ہوتا ہے مافیا اب کرلو کمائیاں۔وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری منظور کی، جس کے بعد وزارت خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔جس کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 25 روپے فی لیٹر تک اضافہ کردیا گیا تھا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *