1 کھرب سے زائد کا ٹیکہ تیار۔۔!!کرونا وائرس میں گھرے پاکستانیوں پر مہنگائی کاایک اوربم گرانے کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا کی وبا کے دوران گیس صارفین پر اضافی 104 ارب روپے کا بوجھ ڈالنے کی تیاریاں ، گیس کمپنیوں نے یکم جولائی سے گیس 623 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک مہنگی کرنے کی درخواست جمع کر ا دی . اوگرا نے گیس قیمتوں میں اضافے کی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کرلیں۔

روزنامہ جنگ کے مطابق سوئی ناردرن نے گیس 623 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مہنگی کرنے کی درخواست دی ہے جبکہ سوئی سدرن نے گیس 85.35 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مہنگی کرنیکی درخواست دی ہے ،سوئی ناردرن کی درخواست کی منظوری پر صارفین پر اضافی 73 ارب روپے کا بوجھ پڑیگاجبکہ سوئی سدرن کی درخواست کی منظوری پر گیس صارفین پر31 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑیگا،سوئی ناردرن نے گیس کی اوسطاً قیمت 1287.19فی ایم ایم بی ٹی یو کرنے کی درخواست کی ہے اس وقت سوئی ناردرن کی گیس کی اوسط قیمت 664.24 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہے ،سوئی سدرن نے گیس کی اوسط قیمت 881.53 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کرنے کی درخواست کی ہے ،اس وقت سوئی سدرن کی اوسط گیس قیمت 796.18 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہے ،اوگرا 24 جون کو سوئی ناردرن کی درخواست اور 25 جون کو سوئی سدرن کی درخواست پر سماعت کریگا ۔دوسری جانب سندھ صوبائی بجٹ 2020-21ء آج پیش کیا جائے گا۔ وفاقی حکومت کے سالانہ بجٹ اور پنجاب کے صوبائی بجٹ کے بعد آج سندھ صوبائی بجٹ 2020-21ء پیش کیا جائے گا جس کے لئے اب سندھ کابینہ نے 12 کھرب روپے سے زائد کے بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔ اس حوالے سے سندھ حکومت کے ذرائع نے بتایا ہے کہ سندھ حکومت نے پنجاب اور وفاقی حکومت کے فیصلے کے خلاف جاتے ہوئے سرکاری ملازم کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ صوبائی بجٹ 2020-21ء میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے گا، گریڈ ایک تا 16کےملازمین کیلئےتنخواہوں میں

10فیصد اضافہ جبکہ گریڈ 17سےگریڈ 21تک افسران کی تنخواہوں میں 5فیصد اضافہ کیا جائےگا۔اس کے علاوہ کابینہ کی منظوری کے بعد بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ بجٹ میں سرکاری ملازموں ، کاشتکاروں اور پرائیویٹ سیکٹر کو ریلیف دیا گیاہے، اگرچہ سندھ حکومت کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، لیکن پھر بھی سرکاری ملازمین اور عوام کا مکمل ریلیف دینے کی کوشش کی گئی ہے۔بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ مشکل صورتحال میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے، مشکلات کے باوجود ہم نے ترقیاتی کاموں کے لئے بجٹ رکھا ہے۔ اس کے علاوہ اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مراد علی شاہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہم نے کوشش کی ہے کہ اس سال سندھ صوبائی بجٹ 2020-21ء کو ایک متوازن بجٹ کے طور پر پیش کریں۔ اس کے علاوہ ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ بجٹ دستاویزات کے مطابق کراچی ٹھٹھہ ڈبل ٹریک روڈ کیلئے 1 ارب 86 کروڑ مختص کرنے کی تجویز کی گئی ہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت نے سالانہ بجٹ پیش کر دیا ہے جس کے بعد آج سندھ حکومت بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے۔ لیکن سندھ حکومت کے بجٹ میں خوش آئند بات یہ ہے کہ سندھ کے سرکاری ملازمین اور پینشن والے افراد کی تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت نے اس سال تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.