کپتان چھا گیا۔۔۔!!! آئی ایم ایف کا تنخواہوں میں 20 فیصد کٹوتی کا مطالبہ، حکومت نے صاف جواب دے دیا، ملازمین کو اب تک کی سب سے بڑی خوشخبری سنا دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت کی جانب سے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) پر واضح کیا گیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہوں میں کٹوتی نہیں کی جائے گی۔آئی ایم ایف کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کیا جائے بلکہ تنخواہوں

میں 20 فیصد کٹوتی کی جائے جبکہ گریڈ 18 سے 22 تک کے ملازمین کی تنخواہیں منجمد کی جائیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کا یہ مطالبہ ماننے سے انکار کردیا ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف اور پاکستانی وزارت خارجہ حکام کے مابین مذاکرات کے 2 آن لائن سیشن ہوئے جس میں آئی ایم ایف کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کا مطالبہ کیا گیا۔ آئی ایم ایف کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران پٹرول سستا ہونے سے ٹرانسپورٹ سمیت دیگر اخراجات کم ہوئے ہیں۔ جی 20 ممالک نے ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد کٹوتی کی ہے اس لیے پاکستان کو بھی یہ قدم اٹھانا چاہیے۔ نجی ٹی وی ہم نیوز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ وزارت خزانہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کے مطالبے کو تسلیم نہیں کیا تنخواہیں بڑھانے یا نہ بڑھانے کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیر برائے انسداد منشیات سینیٹر اعظم خان سواتی نے کہا ہے کہ ہم دوبارہ سخت لاک ڈاون کی طرف جارہے ہیں، عوام ایس او پیز پرعمل درآمد نہیں کر رہے، سخت لاک ڈاون کے فیصلے کرنے پڑیں گے۔مانسہرہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعظم خان سواتی کا کہنا تھا کہ سیاحت نا صرف ملکی بلکہ مقامی معتات کی ریڑھ کی ہڈی ہے، چند روز میں سیاحت کو کھول دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کورونا ایس او پیز پر عمل درآمدکرنے سے ہی موذی مرض سے بچا جاسکتا ہے، ایس او پیز پر 10فیصد بھی عوام عمل نہیں کر رہے، جس کی رپورٹ وزیراعظم کوپیش کروں گا۔اعظم خان سواتی نے کہا کہ سندھ بالخصوص کراچی کی عوام نے ایس او پیز پرعملدرآمد نہیں کیا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.