اسلامی ریاست کا قیام :وزیراعظم عمران خان نے سود لینے اور دینے والوں کےخلاف بڑا قدم اٹھا لیا

لاہور(ویب ڈیسک) سینئر تجزیہ کار کامران خان نے کہا ہے کہ شرح سود میں کمی سے سودی معیشت کو پرکاری ضرب لگی، بینکوں میں پیسا رکھ کر سود کھانے کا اب زمانہ ختم ہوگیا، کیونکہ شرح سود میں کمی سے سرمایہ بینکوں سے نکل کر کاروبار پر لگے گا، اس کا سارا کریڈٹ وزیراعظم عمران خان

کو دوں گا۔ انہوں نے شرح سود میں کمی پر اپنے تبصرے میں کہا کہ آج انتہائی خوشی کے ساتھ یہ بات شیئر کررہا ہوں کہ پاکستان میں آج سودی معیشت کو ایک بڑی کاری ضرب لگی ہے۔آج شرح میں بڑی کمی ہوئی، پچھلے چار ماہ میں وہ شرح سود کو سوا 13فیصد ہوتی تھی اب صرف 7 فیصد رہ گئی ہے۔ گویا کہ بینکوں میں پیسا رکھ کر سود کھانے کا اب زمانہ ختم ہوگیا، کیونکہ اس میں اب کسی قسم کی کوئی کشش نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کا سارا کریڈٹ وزیراعظم عمران خان کو دوں گا۔ جن کی بھرپور کوشش رہی ہے کہ شرح سود میں کمی کی جائے اور کاروبار ی سرگرمیوں کو فائدہ پہنچایا جائے۔یہ بہت بڑی پیشرفت ہے، اب یہ سرمایہ بینکوں سے نکل کر کاروبار پر لگے گا۔ اب بینک بھی مجبور ہوں گے کہ وہ اپنا سرمایہ حکومت کی سکیورٹی کی بجائے کاروبار میں لگائیں۔ اس طرح سے پاکستان میں ایک نئی ابتدا ہونے والی ہے۔یہ بہت بڑی آج ڈویلپمنٹ ہوئی ہے۔ کامران خان نے کہا کہ یقینا جب ہم سود سے چھٹکارا حاصل کریں گے تو اللہ کی رحمت بھی ہم پر نازل ہوگی۔اسی طرح کاروبار اور بینکاری کے حوالے سے مجھے معلوم ہے کہ حکومت ایک بہت اچھا پیکج تیار کرچکی ہے، یہ پیکج چند دنوں میں سامنے آجائے گا۔ اسی طرح کنسٹرکشن انڈسٹری کیلئے جو بجٹ کے دوران خامیاں سامنے آئی تھیں، حکومت نے ان خامیوں کو بھی دور کردیا ہے، یہ بھی جلد سامنے آجائے گا۔ واضح رہے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کاروبار کو ریلیف دینے کیلئے شرح سود میں مزید کمی کردی ہے، شرح سود میں ایک فیصد کمی کے بعد پالیسی ریٹ 7 فیصد ہوگیا ہے۔کورونا وباء کے باعث کاروباری اور معاشی سرگرمیوں میں بدحالی کے باعث شرح سود میں مسلسل کمی کی جا رہی ہے۔ معاشی سست روی برقرار ہے۔ نمو میں کمی کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ شرح سود میں کمی کے فوائد گھرانوں، کاروباری اداروں کو بروقت منتقل ہوں گے۔ جولائی کے اوائل میں 33 کھرب روپے مالیت کے قرضوں کے نرخ ازسرنو متعین ہونے ہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *