’’ کرنل کی بیوی کی بدتمیزی پر پوری فوج ذمہ دارجبکہ جج کی بیوی کی ناجائز دولت کا ذمہ دار جج کو نہیں سمجھا گیا۔ ‘‘سینئر صحافی جنید سلیم کے ایک ٹویٹ نے کپتان پر تنقید کرنے والوں کو جلا کر راکھ کر دیا

لاہور (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر اینکر پرسن جیند سلیم نے کہا ہے کہ کرنل کی بیوی کی بدتمیزی پر پوری فوج ذمہ دار ٹھہری جبکہ جج کی بیوی کی ناجائز دولت کا ذمہ دار جج کو نہیں سمجھا گیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے

جنید سلیم کا کہنا تھا کہ میں لوگوں کی سوچ کے دوہرے معیار پر آبدیدہ تب ہوا جب کرنل کی بیوی کی بدتمیزی پر پوری فوج ذمہ دار ٹھہری جبکہ جج کی بیوی کی ناجائز دولت کا ذمہ دار جج کو نہیں سمجھا گیا۔ ایک‌ صارف نے جنید سلیم کی ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری قوم کو کیسے پاگل بنایا جاتا ہے۔ انصاف لوگ عمران خان سے مانگتے ہیں اور اختیارات عدالتوں کے پاس ہیں۔ اور عدالت میں 1 کیس لڑتے لڑتے ہیں 20 سال گزر جاتے ہیں اور کوئی گارنٹی نہیں کہ انصاف ملے گا بھی کہ نہیں۔۔۔۔۔ لیکن انصاف سب کو عمران خان سے چاھئے۔ ایک اور صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازموں کو چاہیئے کہ بینک اکاؤنٹ اور اثاثے اپنی اہلیہ کے نام پر رکھیں اگر کوئی سوال پوچھے تو اہلیہ سے کہیں کہ آبدیدہ ہوجاؤ۔ واضح رہے کہ موٹروے پر کرنل کی بیوی نے پولیس سے بدتمیزی کی تو اس وقت سوشل میڈیا پر طوفان برپا کیا گیا تھا اور کرنل کی بیوی کی بدتمیزی کی وجہ سے پاک فوج پر تنقید کی گئی تھی اس میں ملک دشمن عناصر ملوث تھے ،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی واقعہ کا نوٹس لیا تھا۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدراتی ریفرنس کیخلاف دائر درخواست پر روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہو رہی ہے، گزشتہ روز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے ویڈیو لنک کے ذریعہ بیان ریکارڈ کروایا تھا،اہلیہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا ہے کہ جائیداد خریدنے کے لیے سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے ذریعے 7 لاکھ پاؤنڈ بیرون ملک منتقل کیے گئے ۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ میرے خاوند نے مجھے کہا ریفرنس میرے متعلق نہیں ،میرے لیے یہ بڑا مشکل وقت تھا ،میرے والد قریب المرگ ہیں ، میری شادی 25 دسمبر 1980 ء کو ہوئی ، اس دوران فاضل جج کی اہلیہ نے اپنا برتھ سرٹیفکیٹ اور اپنا پرانا شناختی کارڈ بھی دکھاتے ہوئے کہاکہ میرا نام سرینا ہے ،1983 ء میں مجھے نہیں معلوم تھا کہ 21 سال بعد لندن میں جائیداد خریدوں گی ، شادی کے 21 سال بعد میں نے لندن میں جائیداد خریدی، میرا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ 2003 ء میں بنا، اُس وقت میرے خاوند جج نہیں تھے ، میرا ویزا ختم ہوا تو نئے ویزے کے لیے اپلائی کر دیا، دوسرا ویزا جب جاری ہوا وہ سپریم کورٹ کے جج نہیں تھے ۔جنوری 2020 ء میں مجھے صرف ایک سال کا ویزا جاری ہوا،یہ ویزا جاری کرنے سے پہلے ہراساں کیا گیا،مجھے ہراساں کرنے کے لیے کم مدت کا ویزا جاری کیا گیا۔ سرینا عیسیٰ کا بیان سننے کے بعد سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ کے سربراہ نے کہا ہے کہ عدالت اس حوالے سے ان کے بیان اور جائیداد کی خریداری کے ذرائع سے بھی مطمئن ہے ، تاہم اس پر فیصلہ متعلقہ اتھارٹی نے ہی کرنا ہے ۔ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی طرف سے منی ٹریل اور آمدن کے ذرائع پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آبزرویشن دی کہ اس معاملے کو میرٹ پر نہیں دیکھ سکتے ، جب کہ سرینا قاضی کو مخاطب کرتے ہوئے جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ میرٹ پر معاملہ دیکھنے کے لیے آپ کو انکم ٹیکس یا پھر سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس جانا ہو گا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *