پنجاب میں حالات انتہائی کشیدہ۔۔!! کورونا وائرس کو بڑھتا دیکھ پنجاب حکومت نے کیا فیصلہ کر لیا؟ بڑی خبر آگئی

لاہور(نیوز ڈیسک ) لاہور سمیت پنجاب بھر میں کورونا وائرس کی وبا خطرناک حد تک پھیل رہی ہے۔لاہور میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے مزید 15 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جب کہ 967 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے لاہور کے بڑے ٹیچنگ اسپتالوں میں کورونا مریضوں کے

لیے جگہ کم پڑ گئی ہے۔لاہور جنرل اسپتال اور پی کے ایل آئی کے ہائی ڈپنڈنس یونٹ اور آئی سی یو بھی مکمل طور پر بھر گئے ہیں۔حکومت پنجاب نے ایک ہزار کورونا مریضوں پر ایکٹی مرا انجکشن کے ٹرائل کا فیصلہ کیا ہے۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب نے ایکٹی مرا انجیکشن کے 1000 کورونا مریضوں پر ٹرائلز کی منظوری دے دی ہے۔ایکٹی مرا انجیکشن جان بچائی جانے والی دوائی نہیں۔ہر مریض کو فائدہ نہیں ہو سکتا۔وینٹی لیٹر پر 1پ میں سے تین مریضوں کو فائدہ ہورہا ہے۔انجکشن سے مکمل علاج کی قیمت ایک لاکھ دو ہزار روپے ہے۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے اعدادوشمار کے مطابق اڑتالیس افراد کورونا وائرس کے باعث جاں بحق ہوئے ہیں۔اب تک سرکاری ہسپتالوں سے کورونا وائرس کے 8300مریض صحتیاب ہوکر اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں۔گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 9ہزار 23تشخیصی ٹیسٹ کئے گئے۔مجموعی طورپر صوبہ بھر میں کورونا وائرس کے اب تک 2لاکھ 99ہزار 57 تشخیصی ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں۔حکومت کی ہدایات کے مطابق عوام کو بھی ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرنا چاہیے۔کورونا وائرس کا شکار ہونے والے 75فیصد مریضوں کی عمر 50سال سے زائد ہے۔گزشتہ چند روزسے سرکاری ہسپتالوں میں بستروں اور وینٹی لیٹرز کی کمی سے متعلق من گھڑت خبروں میں کسی قسم کی کوئی صداقت نہیں ہے۔کسی بھی مریض کو اس کی خواہش کے مطابق من پسند سرکاری ہسپتال میں نہیں بھیجاجاسکتا بلکہ زیادہ طبی سہولیات والے سرکاری ہسپتال کو ترجیح دی جاتی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.