شہزادہ محمد بن سلمان کے گرد گھیرا تنگ۔!!! خوف کا شکار ہوکر کہاں پناہ لے لی؟ سنسنی خیز انکشافات نے عربوں کو مشکل میں ڈال دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ چڑیل بڑے دن بعد ایک خبر لے کر آئی ہے، سعودی عرب میں اقتدار کا کھیل جاری ہے اوراسکے مرکزی کردار محمد بن سلمان بری طرح خوف کا شکار ہو چکے ہیں،عالمہ سطح پر ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی غیر مقبولیت

اور الیکشن میں متوقع نتائج نے انہیں مزید پریشان کر دیا ہے،کئی شہزادوں نے بھی اپنی رہائی کے لئے انٹرنیشنل فرمز سے لابنگ کر لی ہے۔ مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ محمد بن سلمان اور امریکہ کے مابین تعلقات میں‌ تناؤ محسوس کیا جا رہا ہے، رمضان میں امریکہ نے اپنی دو میزائل بیٹریز سعودی عرب سے ہٹا لی تھیں حالانکہ جب پہلے ہی ایران سے پراکسی وار کے نتیجے میں سعودی آئل فیلڈ پر ڈرون حملے بھی ہوئے،اسکی ایک وجہ بتائی جا رہی ہے کہ یو ایس سیکرٹری آف سٹیٹ مائیک پومپو نے ریاض میں 3 دن گزارے جس کا مقصد یمن میں جنگ کا خاتمہ اور امریکیوں کی رہائی تھی جس میں انہیں خاطر خؤاہ کامیابی نہیں ملی۔ مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جب محمد بن سلمان کو واشنگٹن کی پالیسی میں تبدیلی نظر آئی تو وہ سعودی عرب میں بھی پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہو جائے سعودی عرب میں پالیسی صرف اسی کی چلے گی،دوسری طرف وبا اور تیل کی جنگ نے سعودی عرب کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، کہا جا رہا ہے کہ سعودی عرب کو اتنا نقصان وبا نے نہیں پہنچایا جتنا محمد بن سلمان نے روس سے تیل کی قیمتوں کی جنگ شروع کر کے پہنچایا،محمد بن سلمان کو معلوم تھا کہ انکے ارد گرد کوئی ایسا شخص ہے جس پر وہ بھروسہ کر سکتے ہیں، بنیادی طور پر وہ خوف میں مبتلا رہتے ہیں،ایسے ماحول میں وفاداری اور اخلاص‌ پر مبنی تعلقات کی توقعات مشکل معلوم ہوتی ہیں۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ مہینوں کی گرفتاریوں کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی مایوسی کے طور پر دیکھا گیا، ہیومن رائٹس واچ کے مشرق وسطیٰ کے نائب ڈائریکٹر مائیکل پرک نے کہا ہے کہ تنقید کی لہروں کے باوجود سعودی حکام کا غیر قانونی سلوک بدستور جاری ہے،سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے والد کے بعد بادشاہت کا تاج اپنے سر پر دیکھنا چاہتے ہیں اور سجانا چاہتے ہیں،اور اس کے لئے وہ مستقل طور پر کوشش بھی کر رہے ہیں کہ یہ راستہ خطرات سے خالی نہیں اور محلاتی سازشوں کا نتیجہ خوفناک بھی نکل سکتا ہے۔ مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب میں ابھی تک بادشاہت کے قوانین کی بات کی جائے تو محمد بن سلمان اس کے مطابق باشادہ نہیں بن سکتے اس حوالہ سے دو قانون ہیں ، ایک سینئر کا ہونا اور السعود خاندان کی کونسل کا اتفاق ہونا، 34 سالہ محمد بن سلمان اپنے 84 سالہ والد سلمان بن عبدالعزیز کی جگہ بادشاہ بننا چاہتے ہیں،اس لئے سعودی تخت نشینی کے قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ سعودی عرب کا استحکام داؤ پر لگا رہے ہیں۔ مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر محمد بن سلمان منزل اور مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ہر اس شخص کو راستے سے ہٹانا ہو گا جو سنیارٹی کے حساب سے زیادہ مستحق ہے اور بادشاہت کے لئے کھڑا ہو سکتا ہے، کونسل 2007 میں شاہ عبداللہ نے قائم کی تھی تا کہ بادشاہ کے انتقال کے بعد بادشاہت کی منتقلی آرام سے ہو سکے، 23 جنوری 2015 میں سعودی فرماںروا عبداللہ بن عبدالعزیز کی وفات تک آل سعود کا دربار کافی حد تک پرسکون انداز میں کام کرتا رہا،البتہ پہلے مارچ 1975 میں شاہ فیصل کے قتل جیسے ناگوار واقعہ پیش آیا ،

عبداللہ کی وفات کے بعد درباد کی صورتحال متزلزل رہی، گزشتہ پانچ برسوں میں گویا آل سعود میں طوفان سا برپا رہا،اور اس میں سعودی عرب کے دو ولی عہد، دو وزیر خارجہ سمیت کئی حکومتی عہدیدار معزول کیے گئے، اور نئے چہرے متعارف کروائے گئے۔ مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ نومبر 2017 میں 200 سے زائد شہزادے اور تاجر گرفتار کئے گئے چند مہینے پہلے بھی شہزادوں کو گرفتار کیا گیا اور یہ سب جانتے ہیں کہ یہ سب محمد بن سلمان نے کیا اور انہوں نے خاندان میں اثرو رسوخ رکھنے والے افراد کو کمزور کر دیا،اور اپنے پسندیدہ افراد کو اہم اور حساس عہدوں پر براجمان کیا۔ مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ شہزادہ محمد بن سلمان ان اقدامات کی وجہ سے فرمانروائی کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں،اور اب یوں دکھائی دے رہا ہے کہ طوفان تھمنے کی بجائے مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے،اگرچہ سعودی عرب کے حکمران کوشش کر رہے ہیں کہ دربار کی خبریں سامنے نہ آئیں لیکن چڑیل تو چڑیل ہے،اور اس کا اس مقصد میں کامیاب ہونا ضروری ہے اور وہ لے آتی ہے۔ مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے حریفوں پر پرتشدد کاروائیاں کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے،کچھ شاہی خاندان کے افراد بھی ایسی جارحانہ کاروائیوں سے محفوظ نہیں ہیں،رواں برس کے شروع کے مہینوں میں انہوں نے 15 ہزار افراد پر مشتمل وسیع تر فیملی کے متعدد افراد کو گرفتار کروایا،اور گرفتاری کا معاملہ بین الاقوامی تحریک کی شکل اختیار کر گیا،شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کی رہائی کے لئے مہم چلائی گئی جو 2018 میں گرفتار کئے گئے تھے انکی گرفتاری کی وجہ نہیں پتہ چل سکے،
وہ فلاحی کاموں میں آگے تھے، وہ سابق فرماںروا شاہ عبداللہ کے داماد بھی ہیں انہوں نے سیاست میں آنے کی بھی خواہش نہیں کی،تا ہم انہوں نے امریکی انتخابات کے سلسلے میں‌ ٹرمپ کے ناقد سے ملاقات کی، محمد بن سلمان ٹرمپ کے دوست ہیں،شہزادہ سلمان کو آزاد کروانے کی کوشش کی جار ہی بین الاقوامی طور پر.یہ مہم گرفتار شہزادے کی رہائی کے لئے چلائی جا رہی ہے۔ مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی سلطنت اس وقت شدید معاشی بحران سے گزر رہی ہے،معاشی طور پر تیل کی قیمت مین کمی ، کرونا وائرس کی وجہ سے معاشی مشکلات ہیں، صحافی جمال خشوگی قتل کیس کی وجہ سے بھی بین الاقوامی طور پر سعودی عرب کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے،اور ان دونوں مہموں کے اقدامات اور نتائج کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ریاض حکومت نے عدالتی اصلاحات منظور کی ہیں، کوڑے مارنے کی سزا ختم کرنے کا اعلان کیا ہے،18 سال سے کم عمر افراد کی پھانسی ختم کرنے کا معاملہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اگر محمد بن سلمان کے والد شاہ سلمان کے جانشین بنتے ہیں تو ریاست کی سربراہی کرنے والے نئی نسل کے پہلے بادشاہ ہوں گے۔ مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بادشاہ بننے کے لئے تنازعات سے بھی گریز نہیں کر رہے،وہ سب بلا خوف و خطر کرتے آئے ہیں کیونکہ وائٹ ہاؤس میں انکے خاص دوست ٹرمپ ہیں، ایم بی ایس کے والد کی صحت خراب ہوتی جا رہی ہے، محمد بن سلمان کی شہزادہ احمد نے بیعت کرنے سے انکار کر دیا ہے،وہ خاندان کے اہم رکن ہیں، شہزادہ احمد اور نائف شاہی خاندان کے کچھ اہم افراد ہیں اور ولی عہد شہزادہ ان کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں اور وہ ان کے نظریہ کو پسند نہیں کرتے اور ان کے اقدام کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ پھر شہزادہ احمد کا ایم بی ایس کے مقابلے میں تخت نشینی کا دعویٰ ہے ،
جو یقینا ان کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ وہ محمد بن سلمان کے نقاد ہیں، عوامی سطح پر بھی محمد بن سلمان کی سیاست پر احمد تنقید کرتے نظر آتے ہیں، محمد بن سلمان نے نہ صرف انہین بلکہ دیگر کئی شہزادوں کو گرفتار کیا ہے۔ مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ محمد بن سلمان امریکی بلاک میں اپنی پسند کھو رہے ہیں۔مائک پومپیو سعودیہ اور ایم بی ایس کی مخالفت میں آواز بلند کررہے ہیں نیز انہوں نے اپنی دو اہم بحری اکائیوں کو ختم کردیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اب یمن کے ساتھ تنازعہ طے کرنا ہے اور جمال خشوگی قتل جیسے معاملات پر پشت پناہی نہیں کی جائے گی۔ مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ محمد بن سلمان جانتا ہے کہ بادشاہ بننے کے اس کے عزائم کو تب ہی پورا کیا جاسکتا ہے جب سعودی قانون سازی میں طے شدہ ضروریات کو سب سے پہلے سنیارٹی اور پھر شاہی کونسل کے ذریعہ انتخاب کو پورا کیا جائے۔ ایم بی ایس کو اس معاملے کا پہلے ہی اندازہ تھا لہذا وہ شاہی کے تمام اہم ممبروں کو ہٹاتا رہا ہے اور شاہی کنبہ کے زیادہ تر افراد کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا اور مختلف معاملات میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ اب ان بین الاقوامی حکومتوں اور غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے ان عہدیداروں کی رہائی کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ محمد بن سلمان نے پچھلے 5 برسوں میں خود کو طاقتور بنایا، خواتین کو آزادی فراہم کی دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنان کو جیل بھجوایا،سعودی شاہی دربار کی خبریں فراہم کرنے والے خاموش ہیں، شہزادہ نائف کو ہارٹ اٹیک کرنے کی ٹویٹ کی گئی اور بعد میں اسے ڈیلیٹ کر دیا گیا ،ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ایک کڑی تھی۔ مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی فرمانروا سلمان کی موت کی افواہیں گردش کرتی رہتی ہیں اگر تیل کی قیمتیں کم رہیں تو یہ صورتحال محمد بن سلمان کے لئے تباہ کن ثابت ہوں گی بالکل انہی شہزادوں کی طرح جن کو وہ راستے سے ہٹا چکے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.