جسٹس فائز عیسیٰ کا فیصلہ قبول ہے یا نہیں؟ وزیر اعظم عمران خان نے بھی خاموشی توڑ دی، ناقابلِ یقین رد عمل

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے فیصلے پر وزیراعظم عمران خان کا ردِعمل بھی سامنے آگیا ہے، تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کور کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں دوسرے اہم مسائل کے پر غور کرنے کے ساتھ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے

کیس کے حوالے سے فیصلے پر بھی بات کی گئی، اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے تبڈرہ کرتے ہوئے کہا کہفیصلہ قبول کرتے ہیں، ہم نے ہمیشہ عدلیہ کی آزادی کیلئے آواز بلند کی ہے، ان سے محاز آرائی نہیں چاہتے۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران کور کمیٹی کوبیرسٹر علی ظفر اور بابر اعوان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے مختصر فیصلے پر بریفنگ دی۔اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ آنے کا انتظار کیا جائے ،ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور ان سے محاز آرائی نہیں چاہتے۔وزیراعظم نے وزراءاور کور کمیٹی کے ممبران کو قاضی فائز عیسی کیس پر بیان بازی سے روک دیا، انہوں نے کہا کہ یہ تاثر بلکل بھی نہ دیا جائے کہ حکومت اور عدلیہ میں کسی قسم کا کوئی اختلاف ہے، وزراءکی طرف سے قاضی فائز عیسی کیس پر آپوزیشن کے بیانات پر بھِی بات ہوئی، اپوزیشن اور وکلاءکی طرف سے صدارتی ریفرنس، حکومتی بدنیتی اور دیگر معاملات کو بھی وزیراعظم کے سامنے اٹھایا گیا، وزیراعظم نے وزراءکی آراءکو سن کر ہدایت کی اس پر کوئی بات نہ کرے، تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا عدلیہ کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔خیال رہے کہ کل سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں قائم 10رکنی فل کورٹ بنچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی صدارتی ریفرنس کیخلاف درخواست پرآج جمعہ کو سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، لیکن آج شام کو ہی عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائر صدارتی ریفرنس کو خارج کرتے ہوئے قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست منظور کرلی ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری شوکاز نوٹس بھی کالعدم قرار دیے گئے، جسٹس عمر عطاء بندیال نے کیس کا مختصر فیصلہ سنا دیا ہے، تفصیلی فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں صدارتی ریفرنس کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *