چین آہستہ آہستہ بھارت میں قدم جمانے لگا ۔۔۔۔ لداخ کے بعد کونسے پہاڑوں پر قبضہ کر لیا؟ مودی کے پسینے چھڑا دینے والی خبر

لداخ (ویب ڈیسک) چینی فوج نے لداخ میں پیانگونگ تسو جھیل کے قریبی پہاڑوں پر بھی قبضہ کرلیا، چینی فورسز نے پیانگونگ تسو جھیل کے قریبی پہاڑوں پر قبضہ کرکے بھارتیوں کو پٹرولنگ سے روک دیا، موبائل نیٹ ورک بھی بند کردیاگیا۔ تفصیلات کے مطابق مشرقی لداخ میں چینی فورسز نے پیانگونگ تسو جھیل کے قریبی پہاڑوں

پر قبضہ کرکے بھارتیوں کو وہاں پٹرولنگ سے روک دیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق مقامی چرواہوں کو بارڈر کی طرف جانے سے روک دیا گیا جبکہ موبائل نیٹ ورک بھی بند کردیاگیا ہے۔ لداخ ہل ڈویلپمنٹ کونسل کے رکن نے بھارتی اخبار کو بتایا کہ لداخ کے لوگوں نے ماضی میں کبھی اتنی کثیر تعداد میں فوج نہیں دیکھی ، مقامی لوگ سخت خوفزدہ ہیں۔ یاد رہے کہ لداخ کی وادی گلوان میں دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان دو ہفتوں کی پرتشدد جھڑپوں کے بعد ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی ٹھوس بیان سامنے نہیں آیا ہے۔حکومت کے بیانات میں کوئی ہم آہنگی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ چین میں انڈین سفیر کے بیان کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی نظر آتی ہے۔ ادھر بھارتی نیوی نے بحر ہند میں اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کر دیا۔ اس سے قبل خبر آئی تھی کہ چین نے لداخ میں دولت بیگ اولڈی، گلوان ویلی کے اہم حصے کا مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ وادی گلوان لداخ اور اکسائی چین کے درمیان بھارت اور چین کی سرحد کے نزدیک واقع ہے۔اب چینی فوج نے علاقے میں مشقیں بھی شروع کردیں جبکہ بھارتی فوج کے ساتھ جھڑپ میں چینی فوج نے 2مزید بھارتی فوجی مار ڈالے ہیں۔ بھارت اور چین کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے ڈویژن کمانڈر سطح پر ہونے والی مذاکرات کے کئی دور ناکام رہے۔ دوسری جانب یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ چین نے بھارت سے جھڑپ سے قبل ہی مارشل آرٹس فائٹرز کو سرحد پر بھیج دیا تھا،چائنہ نیشنل ڈیفنس نیوز نے بتایا ہے کہ پانچ نئے ملیشیا ڈویژنز، ماؤنٹ ایورسٹ ٹارچ ریلے ٹیم کے سابق ارکان اور مکسڈ مارشل آرٹس کلب کے جنگجو 15 جون کو تبت میں لاسا کے مقام پر معائنے کے لیے پیش ہوئے تھے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں ماہ لداخ کے علاقے وادی گلوان میں بھارت کے ساتھ ہونے والی جھڑپ سے پہلے ہی بیجنگ نے اپنی بارڈر سکیورٹی فورس کو مضبوط کرنے کے لیے مارشل آرٹس اور پہاڑوں پر چڑھنے کے ماہر فوجی بھیج دیے تھے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *