Breaking News
Home / اہم خبریں / انا للہ وانا الیہ راجعون : تحریک انصاف کا بہت بڑا محسن انتقال کر گیا

انا للہ وانا الیہ راجعون : تحریک انصاف کا بہت بڑا محسن انتقال کر گیا

لاہور (ویب ڈیسک) منصور صدیقی کے انتقال کی خبر سن کر دل بہت دکھی اور بہت بھاری ہے۔ ایک بہترین دماغ، تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال، ملک کے بہتر مستقبل، عام آدمی کی زندگی بدلنے کے جذبے سے کام کرنے والا منصور صدیقی چلا گیا۔ وہ منصور صدیقی جو ساری عمر الفاظ کے ساتھ کھیلتا رہا،

نامور کالم نگار محمد اکرم چوہدری اپنے ایک کالم میں بتاتے ہیں ۔۔۔۔۔ وہ منصور صدیقی جو عوام کو متحرک رکھنے کے لیے پر اثر نعرے تخلیق کرتا رہا، وہ منصور صدیقی جو جلسے جلوسوں کی جان تھا، وہ منصور صدیقی جس کا ذہن لمحوں میں برسوں کا کام کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا، وہ منصور صدیقی جو کمپیوٹر سے بھی زیادہ تیز کام چلتا تھا، وہ منصور صدیقی جو ایک عام سیاسی کارکن کو قومی سطح کا سیاست دان بنانے کی صلاحیت رکھتا تھا، وہ منصور صدیقی جس کے ذہن کی بدولت کئی سیاسی جماعتوں نے بڑی کامیابیاں حاصل کیں، وہ منصور صدیقی جس نے کرباٹھ میں پیش آنے والے دلخراش واقعے کے بعد ملک میں احتجاج کا ایک نیا انداز متعارف کروایا، وہ منصور صدیقی جس نے پاسبان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا، وہ منصور صدیقی جو عوام کے دلوں کو گرمانے کا فن سب سے بہتر جانتا تھا، وہ منصور صدیقی جو سوچ اور تخلیق میں کسی ساتھی کا محتاج نہیں تھا، وہ منصور صدیقی جو تخلیق کی خداداد صلاحیتوں سے مالا مال تھا، وہ منصور صدیقی جو سچا اور پکا پاکستانی تھا، وہ منصور صدیقی جو پی ٹی آئی کے بانی کارکنان میں شامل تھا، وہ منصور صدیقی جس نے ابتدائی طور پر عمران خان کے سیاسی کیرئیر پر گہرا اثر ڈالا، وہ منصور صدیقی جو عمران خان سے ہمیشہ بے تکلف رہا، وہ منصور صدیقی جو ساری عمر صرف محنت اور جائز کمائی کے ذریعے تلاش کرتا رہا، وہ منصور صدیقی جو ساری عمر اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے الزامات کی زد میں رہا،

وہ منصور صدیقی جس نے کبھی الزامات کا جواب نہ دیا، وہ منصور صدیقی جس کے زرخیز ذہن سے پاکستان تحریک انصاف نے بے پناہ فائدہ اٹھایا، وہ منصور صدیقی جس کے الفاظ اور مشوروں پر مرحوم قاضی حسین احمد آنکھ بند کر کے عمل کرتے تھے، وہ منصور صدیقی جو منور حسن کو بھی بہت پیارا تھا، وہ منصور صدیقی جس کی امیر جماعت اسلامی سراج الحق بھی بہت قدر کرتے ہیں، وہ منصور صدیقی جسے اس کے اعلیٰ دماغ کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا، وہ منصور صدیقی جسے تخلیقی صلاحیتوں کی وجہ سے ہمیشہ طاقتور طبقے کی مخالفت کا سامنا رہا، وہ منصور صدیقی جس کے نعروں نے سیاسی جماعتوں کو ملک گیر مقبولیت دی، وہ منصور صدیقی جس نے لکھا “ہم بیٹے کس کے، قاضی کے” وہ منصور صدیقی جس نے لکھا”ظالمو قاضی آ رہا ہے” وہ منصور صدیقی جس نے لکھا”تو چیز بڑی عمران خان” وہ منصور صدیقی جسے بیلی پور میں کوئی بیلی نہ ملا، وہ منصور صدیقی جس کے ذہن پر آئی جے آئی کا جھنڈا بنا، وہ منصور صدیقی جو امیج بلڈنگ کا بیتاج بادشاہ تھا، وہ منصور صدیقی جس کے ذہن سے پیدا ہونے والے منصوبوں سے دشمنیاں دوستیوں میں بدل گئیں، وہ منصور صدیقی جس نے جس کے ساتھ کام کیا اس کا قد کاٹھ بڑھا دیا، وہ منصور صدیقی جو ساری زندگی بڑے بڑے منصوبے تیار اور اہداف حاصل کرتا رہا، وہی منصور صدیقی کسمپرسی میں اس دنیا سے چلا گیا ہے۔ اس کے آخری دنوں پر کیا لکھا جائے، کیا کہا جائے صرف یہ کہ منصور صدیقی اکیلا نہیں گیا

وہ ہمارا احساس، اخلاق، رواداری اور صلہ رحمی بھی ساتھ لے گیا ہے۔ ساری زندگی دوسروں کی امیج بلڈنگ کرنے والا منصور صدیقی اپنے لیے کوئی بلڈنگ کھڑی نہ کر سکا، وہ منصور صدیقی جس سے ہم چند سال پہلے ملے تو وہ سیون اپ پل کے نیچے کھڑا ہمارا انتظار کر رہا تھا ہمارے سامنے لو شوگر لیول کی وجہ سے زمین پر گر پڑا، وہ منصور صدیقی دنیا سے چلا گیا۔ جاتے جاتے ہم سب کو یہ پیغام بھی دے گیا ہے کہ جانا سب نے ہے۔ کوئی رکے گا نہیں، باری سب کی آئے گی۔ جس جس نے اللہ کے عطاء کردہ ذہن کو دبانے کی کوشش کی ان سے حساب اللہ ہی لے گا۔ وہ منصور صدیقی جس نے زندگی بھر کے تعلقات پاکستان تحریکِ انصاف پر نچھاور کر دیے۔ وہ منصور صدیقی چلا گیا جس نے لکھا تھا”وہ آ رہا ہے جو جسموں کے کینسر بھی ٹھیک کرے گا، قوم کے کینسر کا علاج بھی کرے گا”۔ وہ منصور صدیقی جو جماعت اسلامی کے کچھ دوستوں کے ساتھ صدر عارف علوی سے ملنے والا تھا لیکن زندگی نہ وفا نہ کی، وہ منصور صدیقی جسے قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر سمیت پی ٹی آئی کے کئی وزراء ، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی جانتے ہیں، شاید کچھ ایسے بھی ہوں جنہوں نے اس پر الزامات بھی لگائے ہوں انہیں خبر ہو کہ ان کا دشمن منصور صدیقی اب اس دنیا میں نہیں رہا، وہ منصور صدیقی ہم میں نہیں رہا۔ وہ منصور صدیقی جو نجیب ہارون کا بہت اچھا دوست تھا،

وہ منصور صدیقی جس کے انتقال کا دکھ امیر العظیم کو بھی ہے، وہ منصور صدیقی جس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ پاکستان تحریک انصاف کے لیے کام کیا وہ چلا گیا ہے۔ ہمارا اس سے تعلق پی ٹی آئی کے ابتدائی دنوں سے ہی قائم تھا۔ ہم نے اپنی زندگی میں مارکیٹنگ، پروجیکشن اور امیج بلڈنگ میں ان سے بہتر کوئی شخص نہیں دیکھا۔ وہ ہر دور میں پی ٹی آئی کی اندرونی الزامات کی سیاست کا شکار رہے۔ ستانوے میں وہ الزامات کی وجہ سے اپنی جماعت سے دور ہوئے، دو ہزار دو میں پھر ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا گیا پھر الزامات کا سلسلہ شروع ہوا کچھ عرصہ بعد پھر وہ کہیں گم ہو گئے، 2007 میں پھر منصور صدیقی کی یاد آئی پھر اس کے زرخیز ذہن سے فائدہ اٹھایا گیا اور پھر لاپتہ ہو گئے۔ پھر دو ہزار گیارہ کے دھرنے سے قبل وہ پی ٹی آئی کے مختلف کاموں میں متحرک رہے لیکن یہاں ایک مرتبہ پھر منصور صدیقی کے مخالفین انہیں غائب کرنے میں کامیاب ہوئے۔ پھر دو ہزار چودہ کے دھرنوں میں منصور صدیقی مولانا طاہر القادری کے نعروں اور ترانوں سے حاضرین کے لہو کو گرما رہے تھے اور پاکستان تحریکِ انصاف بھی اس دھرنا کا حصہ تھی۔ مختلف وقتوں میں منصور صدیقی پر الزام عائد کرنے والوں نے اگر انہیں آخری چند برسوں میں دیکھا ہو تو انہیں اندازہ ہو سکے کہ منصور نے کچھ نہیں بنایا اس پر عائد الزامات اس کی زندگی کے ساتھ ہی ختم ہو گئے۔

اس کی کمزور مالی حالت الزامات کی تردید کر رہی ہے۔ وہ ہر وقت متحرک رہنے، ایمانداری سے کام کرنے والے، نقطہ نظر میں، اپنی بات پر قائم رہنے والا سیاسی کارکن تھا۔ وہ اپنوں کے ستم کا شکار رہا۔جماعت اسلامی والے تو تعزیت کے لیے جا رہے ہیں تعزیت کرنے والوں میں پاکستان تحریک انصاف کو بھی شامل ہونا چاہیے بلکہ منصور صدیقی کی پی ٹی آئی کے لیے خدمات کو دیکھتے ہوئے اور نئے آنے والے سیاسی کارکنوں کی حوصلہ افزائی کے لیے پی ٹی آئی کو باضابطہ ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے تعزیت جاری کرنی چاہیے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر انہیں بخوبی جانتے ہیں ایک اعلی دماغ سیاسی کارکن اور محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے قومی اسمبلی میں دعائے مغفرت تو کروا سکتے ہیں۔ہم تو بہت دکھی ہیں کیونکہ ملک کے اعلیٰ دماغوں، تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد کے استحصال کا سلسلہ منصور صدیقی کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے گا۔ جو کچھ ہمارے سیاستدانوں، حکمرانوں نے منصور صدیقی کے ساتھ کیا ہے ایسے قابل افراد کے ساتھ مستقبل میں بھی یہی کچھ ہو گا۔ منصور نے آخری چند سال تو بہت مشکل میں گذارے ہیں اس کی کمزور مالی حالت، خراب صحت اور برین ہیمرج کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ منصور تو چلا گیا ہے لیکن ہم اس کے خاندان کے ساتھ ہمدردی کر کے، ان کا سہارا بن کر، ان کی مشکلات کو آسانیوں میں بدلنے کا سامان کر کے اپنی غلطیوں کا ازالہ تو کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ منصور صدیقی کے درجات کو بلند فرمائے ان کے اہلخانہ کو صبر جمیل عطاء فرمائے اور ہمیں ایسے زرخیز دماغوں کی قدر کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین

Share

About admin

Check Also

اسرائیلی طیاروں کے گزرنے کا معاملہ! سعودی عرب بھی میدان میں آگیا، بڑا فیصلہ سُناتے ہوئے امت مسلمہ کو سرپرائز دے دیا

ریاض (نیوز ڈیسک ) سعودی عرب نے اماراتی طیاروں کو اسرائیل جانے کے لیے اپنی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares

Powered by themekiller.com