Breaking News
Home / کہانیاں / اے سمندر تو چڑیا سے ڈر گیا

اے سمندر تو چڑیا سے ڈر گیا

آج ہم آپ کو ممتا کی ایک انوکھی کہانی سنائیں گے، جسے پڑھ کر آپ ایک ماں کی محبت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ، سمندر کِنارے ایک درخت تھا جس پر ایک چڑیا نے گھونسلا بنایا ہوا تھا ایک دن تیز ہوا چلی تو چڑیا کا بچہ سمندر میں گرگیا۔ چڑیا بچے کو

نکالنے لگی تو اُس کے پر گیلے ہوگئے اور وہ لڑکھڑا گئی…. اُس نے سمندر سے کہا، ’’اپنی لہروں سے میرا بچہ باہر پھینک دے‘‘، لیکن سمندر نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ چڑیا بولی، ’’دیکھ میں تیرا سارا پانی پی سارا پانی پی جاوُں گی، تجھے ریگستان بنا دوں گی…‘‘ سمندر اپنے غرور میں گرجا کہا، ’’اے چڑیا! میں چاہوں تو ساری دنیا کو غرق کردوں، تو میرا کیا بگاڑ سکتی ہے؟‘‘ چڑیا نے یہ سُنا تو بولی، ’’چل پھر خشک ہونے کو تیار ہوجا‘‘، یہ کہہ کر اُس نے سمندر سے پانی کا ایک گھونٹ بھرا، اُور اڑ کر درخت پہ بیٹھ گئی پھرآئی گھونٹ بھرا، پھر درخت پر جا بیٹھی، یہی عمل اُس نے کئی بار کیا تو۔ سمندر گھبرا کے بولا، ’’پاگل ہوگئی ہے کیا، کیوں مجھے ختم کرنے لگی ہے ؟‘‘، مگر چڑیا اپنی دھن میں یہ عمل دُھراتی رہی، ابھی اُس نے صرف بیس پچیس بار ہی پانی کے گھونٹ پیے ہوں گے کہ، سمندر نے ایک زور کی لہرماری اور چڑیا کے بچے کو سمندر سے باہر پھینک دیا درخت جو کافی دیر سے یہ سب دیکھ رہا تھا، سمندر سے بولا، ’’اے طاقت کے بادشاہ تو جو ساری دُنیا کو پل بھر میں غرق کر سکتا ہےاس کمزور سی چڑیا سے ڈر گیا یہ بات میری سمجھ نہیں آئی ؟‘‘ سمندر بولا، ’’تو کیا سمجھا میں

جو تجھے ایک پل میں اُکھاڑ سکتا ہوں، اک پل میں دُنیا غرق کرسکتا ہوں، اس چڑیا سے ڈروں گا؟‘‘ ایسا نہیں ہے۔ دراصل میں تو ایک ماں سے ڈرا ہوں۔ ماں کے جذبے سے ڈرا ہوں۔ اک ماں کے سامنے تو عرش ہل جاتا ہے، تو میری کیا مجال، جس طرح وہ مجھے پی رہی تھی، مجھے لگا کہ وہ مجھے ریگستان بنا ہی دے گی پیارے بچو! دیکھا آپ نے ایک چڑیا کو، کیسے اپنے بچے کے لیے سمندر سے لڑ پڑی، کہنے کو چڑیا ہے، لیکن ممتا کا جذبہ اُس میں بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ سب ماؤں کو اپنے بچے عزیز ہوتے ہیں۔ آپ کی ماں بھی آپ سے بہت پیار کرتی ہوں گی۔ آپ کی ذراسی تکلیف، دکھ پر پریشان ہو جاتی ہوں گی۔ ہے ناں، یہ ہی بات، پتا ہے آپ کو، ماں دنیا کی عظیم ہستی ہے۔ اُس کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ ماں اللہ تعالیٰ کی سب سے عظیم نعمت ہے، اللہ سے دعا کریں کہ ماں کا سایہ ہمارے سروں پر قائم رکھے، ہم سب کو والدین کے حقوق اور اپنے فرائض سمجھنے کی توفیق دے، ہمیں اپنے والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین

Share

About admin

Check Also

صرف محبت

وہ میرے سامنے میز کی دوسری طرف بیٹھ کر بڑے اعتماد سے بولی ،جو عورت …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares

Powered by themekiller.com