Breaking News
Home / دلچسپ و عجیب / شادی کے بعد عورت کا ہی نام کیوں بدلتا ہے؟

شادی کے بعد عورت کا ہی نام کیوں بدلتا ہے؟

اسلام واحد مذہب ہے جو ہر طرح سے مکمل ہے قرآن و حدیث کا مجموعے کو دیکھتے ہوئے کئی طرح کے سوالات ذہن میں آتے ہیں اور اس میں سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا عورت شادی کے بعد اپنا نام بدل سکتی ہے ؟

اور کیا سلام اس بات کی اجازت دیتا ہے ؟
رواج کے مطابق اکثر لوگوں کے نام کے ساتھ والد کا نام لکھا ہوا ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اکثر صحابہ کرام کے ناموں کے ساتھ ان کے والد کا نام ذکر ہوتا ہے ۔ جیسے عمن بن خطاب ، عبد اللہ بن عباس، بن کا لفظ بیٹے کے لئے استعمال ہوتا ہے ، اور اسی طرح بنت کا لفظ بیٹی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جیسے زینب بنت جحش، سودۃ بنت زینیۃ ۔
اسی طرح آپ کے ازواج مطھرات کے نام کے ساتھ بھی ان کے والدین کا نام لکھا ہوا ہوتا تھا اور کسی نے بھی اپنے نام کے ساتھ محمد ﷺ کا نام نہیں لکھا بلکہ اپنے اصلی نام اور ان کی نسبت باپ کے نام کے ساتھ ہوتی تھی ۔اس بات کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ عورت شادی کے بعد اپنا نام ضرور بدلے یا عورت کا اپنا نام بدلنا شرعا جائزنہیں ۔ آپ ﷺ کے دور مبارک میں عورت اپنے نام کے ساتھ باپ کا نام لیتی لیکن اس کے ساتھ جب اس کی شادی ہو جاتی تو اس کو فلاں کی بیوی کہ کر پہچانا جاتا تھا ۔

جیسے زینب بنت جحش زوجہ رسول ﷺ بہرحال کچھ فقہاء اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ عورت اپنے نام کے ساتھ اپنے شوہر کا نام لگائیں ان کی دلیل آپ ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے :
“(وقال النبي صلى الله عليه وسلّم : مَنْ انْتَسَبَ إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ .. فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (رواه ابن ماجة ,كتاب الحدود,2707 وهو في صحيح الجامع 6104”)
جس نے اپنی نسبت اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف کی تو اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ۔
موجودہ زمانہ میں عورت کا اپنے نام کے ساتھ اپنے شوہر کا نام لگانا ۔

ہمارے معاشرہ میں جب کسی عورت کی شادی ہوتی ہے تو اس کے نام کے ساتھ اس کے شوہر کا نام لگ جاتا ہے اور اس کی وجہ بھی واضٓح ہے کیونکہ اب وہ اس شخص کی ذمہ داری بن جاتی ہےاور اس کی شناخٹ اب اس کی بیوی کی حثییت سے کی جاتی ہے ۔
اسی وجہ سے موجودہ دور میں بچوں کے نام کے ساتھ خود بخود اس کے والد کا نام لکھا جاتا ہے ۔ یہ ایک عمومی بات ہے اور روز مرہ کا مشاہدہ ہے اسی طرح اگر عورت کا نام کے آخر میں محمد اور مرد کا نام علی ہو تو دونوں کو مسٹر اور مسسز علی کہ کر پکارا اور لکھا جاتا ہے ۔

اسی طرح جب کسی عورت کے نام کے ساتھ اس کے شوہر کا نام نہ ہو تو اس کےبچے کا نام اس سے الگ ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے بچے کو قانونی کاروائیوں میں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مستقبل میں ایک مستقل مسئلہ کی صورت میں موجود رہتا ہے ۔
مفتی وسیم خان کہتے ہیں کہ عورت کا اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام جوڑنا کوئی اسلام کا حکم نہیں ، اور نہ کہا جا سکتا ہے کہ اس سے اسلام کا اظہار ہوتا ہے ۔ ہاں موجودہ زمانہ میں یہ ایک طرح سے رواج پا چکا ہے اور اس کے بہت سے فوائد ہوتے ہیں ۔
اسی طرح اگر کوئی عورت نام نہیں لکھتی تو اس سے وہ گناہ گار ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس کو اختیار ہوتا ہے ۔

Share

About admin

Check Also

وزیر کو کتوں کے آگے پھینگ دیا جائے

کسی زمانے میں ایک بادشاہ تھا جس نے دس جنگلی کتے پالے ہوئے تھے, اس …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

shares

Powered by themekiller.com