Breaking News
Home / آرٹیکلز / جنرل رانی کون تھی پاکستان کو دو ٹکڑے کرنے میں اس کا کیا کردار تھا پاکستان کی تاریخ کا سب سے شرمناک باب اس رپورٹ میں

جنرل رانی کون تھی پاکستان کو دو ٹکڑے کرنے میں اس کا کیا کردار تھا پاکستان کی تاریخ کا سب سے شرمناک باب اس رپورٹ میں

جنرل رانی کون تھی پاکستان کو دو ٹکڑے کرنے میں اس کا کیا کردار تھا پاکستان کی تاریخ کا سب سے شرمناک باب اس رپورٹ میں پاکستانی تاریخ میںایک عام غریب گھرانے سےاٹھ کر طاقت اور اختیارات کی بلندیوں کوچھونے والی ایک خاتون ایسی بھی تھی جو اس وقت کےجرنیلوں،سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کو اپنی انگلیوں پر نچاتی تھی۔وہ جنرل رانی کہلاتی تھی،۔ اسے سرکاری پروٹوکول ملتا تھا،اس خاتون کے گناہ آلود کردار نے ایسے ایسے کارنامے سرانجام دیے جن کی وجہ سے یہ ملک ٹوٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا۔کہتے ہیں کہ ایک بار شاہِ ایران سرکاری دورے

پر پاکستان آئے ہوئے تھے۔ جب ان کی واپسی کا وقت آیا تو صدر یحییٰ خان اپنے کمرے سے نہیں نکل رہے تھے۔ پروٹوکول کا بہت سنگین مسئلہ پیدا ہو گیا کیوں کہ کوئی ان کے بیڈ روم میں داخل ہونے کی جرات نہیں کر رہا تھا۔آخر صدر کے ملٹری سیکریٹری جنرل اسحٰق نے اقلیم اختر رانی نامی ایک خاتون سے کہا کہ وہ اندر جائے اور صدر کو باہر لائے۔ وہ کمرے میں داخل ہوئی تو ملک کی ایک مشہور ترین گلوکارہ کو صدر کے رنگ رلیاں مناتے پایا۔ خود رانی کو اس منطر سے بڑی کراہت محسوس ہوئی۔ اس نے کپڑے پہننے میں صدر کی مدد کی۔1971میں جب پاکستان ٹوٹ گیا۔ پاک فوج نے بھارت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تو جنرل رانی کو گجرات میں ان کے گھر میں قید کر لیا گیا۔ فون کاٹ دیا گیا ۔ اور ان کے گھر کے باہر پولیس بٹھا دی گئی تاکہ وہ فوج اور ملکی وفاع کےخلاف کوئی بیان نہ دے دیں۔ان دونوں واقعات کو بیان کرنے کا مقصد اپنے ناظرین کو ایک خاتون کی طاقت اور اثر و رسوخ سے چھوٹا ساتعارف پیش کرنا تھا۔لیکن جنرل رانی کہلانے والی آخر تھی کون ، کہاں سے آئی تھی۔ اور اس طاقت کی ان منزلوں تک کیسے پہنچی۔پہلے یہ جان لینا ضروری ہے۔جنرل رانی کا اصلی نام اقلیم اخترتھا۔جنرل رانی یعنی اقلیم اختر رانی گجرات کے ایک چھوٹے سے زمیندار کے گھر میں پیدا ہوئی ۔ اس نے میٹرک بھی مکمل نہیں کی تھی ۔ اس کی شادی ایک پولیس افسر سے کردی گئی۔اس شادی سے اس کے چھ بچے پیدا ہو ئے۔ ایک روز بیگم اقلیم اختر برقع اوڑھے لاہور کےمال روڈ پر اپنے شوہر کے ہمراہ جارہی تھی۔ شدید گرم موسم تھا۔اچانک ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا کہیں سے آگیا۔ گرمی کی ستائی اقلیم اختر نے ہوا کے اس جھونکے کو اپنے چہرے پر محسوس کرنےکےلئےاپنا نقاب چہرے سےہٹا لیا۔ پولیس افسر کو اپنی بیوی کی بے پردگی اتنی ناگوار محسوس ہوئی کہ اس نے وہیں راہ چلتے اپنی بیوی کی ذلت آمیز ڈانٹ ڈپٹ کی ،جس پر اس خاتون کے اندر کا لاوا ، جو لمبے عرصے سے اندر ہی اندر پک رہا تھا، کھولتا ہوا باہر نکل آیا۔اسے طاقتور مردوں کے حاکمانہ رویے سے نفرت تھی۔اور اس کے خیال میں ایسے مردوں کو اپنی بھڑاس نکالنے کےلئے بستر فراہم کرکے طاقت کی یہ بازی جیتی جاسکتی ہے۔ اس نے وہیں وہ برقع اتار پھینکا اور اپنےشوہر کو چھوڑ کر راولپنڈی آگئی۔جہاںاس نے مردوں کی خواہشات پوری کرنے کےلئے ایک ایجنسی کھول لی۔ اور کئی لڑکیاں رکھ

لیں۔ شہر کی بڑی بڑی اور طاقتور شخصیات کا یہاں آنا جانا شروع ہوگیا ۔جن میں جنرل یحییٰ بھی شامل تھے۔پھر تو جنرل یحییٰ بیگم اقلیم اختر کی زلفوں کے اس مہمان خانے کے ایسے رسیا بن گئے کہ اکثرو بیشتر ہی یہاں آنے جانے لگے۔ اس ایجنسی میںگلوکارہ ترانہ اور میڈم نور جہاں بھی بڑے لوگوں سے ملاقاتیں کرکے شہرت اور بلندیوں تک پہنچ گئیں۔1965میں پاکستان اور بھارت کی جنگ چھڑ گئی۔لکھنے والے لکھتے ہیں کہ یحییٰ خان اس وقت چھمب جوڑیاں سیکٹر میں انچارج تھے۔وہ جنگی محاذوں سے بھی فرصت نکال کر ہیلی کاپٹرکے ذریعے بیگم اقلیم اختر کے پاس آجاتے تھے۔1968میں جب جنرل ایوب اقتدار کی کانٹوں سے بھی نشست سے اتر کر ذمہ داری جنرل یحییٰ سونپ گئے تو جنرل یحییٰ نے مارشل لا لگا کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔وہ اس سب کےلئے لمبے عرصے سے کوششیں کررہے تھے۔ اب جب اقتدار اور بے پناہ طاقت ان کو مل گئی توبیگم اقلیم اختر کے بھی دن پھر گئے۔ملک کی بڑے بڑے عہدوں پر فائز انتہائی طاقتور شخصیات کا اقلیم اختر کے گھر آناجانا شروع ہو گیا۔ اوریہیں سے وہ جنرل رانی کہلائی۔ اسے یہ نام دینے والا شخص اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ جو خودبھی جنرل رانی کے تعلقات استعمال کرکے کئی حسینائوں کی قربت کا لطف اٹھا چکے تھے۔1971میں جب مشرقی پاکستان میں ہمارے فوجی مررہے تھے جو جنرل یحییٰ پشاور میں سرکاری خزانے سے بنائے گئے اپنے عالی شان بنگلے کے افتتاح پر ایک پارٹی کررہے تھے۔رات دو بجے کا وقت تھا۔ شراب و شباب کی محفلیں تھی۔سی آئی اے کے ایک جرمن ایجنٹ کی اہلیہ نے بکنی پہن رکھی تھی ۔اور یحییٰ سمیت کئی جرنیل اسے اٹھا اٹھا کرسوئمنگ پول میں پھینک رہے تھے اوراس کھیل پر خوب قہقہے ماررہے تھے۔اس تقریب میں جنرل رانی بھی شریک تھی۔جنرل رانی اپنی طاقت کے عروج پر اتنی بااثر تھی کہ اس کی ایک فون کال پر سنگین سے سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کو جیلوں سے رہا کیا جاتا رہا۔لیکن جب ملک ٹوٹنے کے بعد جنرل یحییٰ کے اقتدار کا زوال آیا تو جنرل رانی کو بھی گھر میں نظر بند کردیا گیا۔اس کے گھر کا فون کاٹ دیا گیا۔ اور گھر کے باہر پولیس بٹھا دی گئی۔اس کے بیانات پر پابندی لگا دی گئی۔جنرل رانی بھٹو سے ناراض تھی۔ کیونکہ اس کے خیال میں کئی رنگین دعوتوںاور ملاقاتوں کااسے ایسا صلہ نہیں ملنا چاہیے تھا۔جنرل رانی بڑے بڑےجرنیلوں اور سیاستدانوں کے سارے راز نیاز جانتی تھی۔اور سب کے کچے چٹھے کھول سکتی تھی۔ اسی بات سے ہر کوئی ڈرتا تھا۔ حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ طاقت اور اختیارات سے حکومتی ایوانوں اور بڑے لوگوں کے محلات کی بنیادوں کو ہلادینے والی یہ خاتون ایسی در بدر ہوئی۔کہ اس کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہونے والے سبھی لوگوں نے ایک ایک کرکے اس سےآنکھیں پھیر لیں۔نئے حکمران آگئے ،نئے چہرے نئے ، لوگ ، جنرل رانی سے ملنے جلنے والوں نے ماضی کے گناہوں کے چھینٹوں سے بچنے کےلئے اس سےہر طرح کے تعلقات ختم کرڈالے۔اور ایک وقت میں ملکہ بن کر راج کرنے والی یہ خاتون کسی کے ہاں پناہ مانگنے کےلئے دردر کی ٹھوکریں کھاتی رہی۔ سابق گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر کے دور میں تو جنرل رانی پر اتنا برا وقت آیاانٹرکانٹی نینٹل کے نام سے بنائے گئے اس کے مہمان خانے میں اپنی شامیں رنگین کرنے والے کئی بیورو کریٹس نے بھی اس کی مدد سے انکار کردیا۔جنرل رانی نے بڑی مشکل سے اس زمانے کے مشہور صحافی آغا شورش کاشمیری کے گھر میں ایک رات کےلئے پناہ لی اور انھیں بڑے لوگوں کی عیاشیوں کے پول کھولنے والا ایک تصویری البم پیش کردیا لیکن اس صحافی نے اس البم کو وہیں پر یہ کہہ کر آگ لگا دی کہ جولوگ چلے جائیں ان کے عیب سب کے سامنے لانا بزدلوں اور کم ظرف لوگوں کا کام ہوتا ہے ۔پھر بھٹو حکومت سے جنرل رانی کی’’ خفیہ ڈیل‘‘ ہو گئی۔ جنرل رانی بھی زیرِ زمیں چلی گئی اور اس کے بارے میں اچھالی جانے والی رنگین داستانوں پر بھی پردہ ڈال دیا گیا۔جنرل رانی یعنی اقلیم اختر 2002میں زندگی کے نشیب و فراز دیکھنے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔ایک دلچسپ حقیقت آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ پاکستان کے دو مشہور گلوکار عدنان سمیع خان اور فخر عالم جنرل رانی کے نواسے ہیں

مشرقی پاکستان کے ہم سے علیحدہ ہونے کی بہت ساری وجوہات تھیں۔ لیکن اس رپورٹ سے آپ کو انداز ہ ہواہوگا کہ پاکستان کو دو ٹکڑے کرنےمیں جنرل رانی اور اس جیسے کئی لوگ بھی ایک اہم وجہ تھے۔

About admin

Check Also

ایک شخص کی بیوی نیک تھی

ایک شخص گھر آیا تو اس کی بیوی نےکہا :۔ “ہمارے غسل خانے کے پاس …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com