Home / Other / دس سال سے اولاد کے لیے ترسی ہوئی بھانجھ بیوی نے بچہ پیدا کرنے کی خاطر صرف

دس سال سے اولاد کے لیے ترسی ہوئی بھانجھ بیوی نے بچہ پیدا کرنے کی خاطر صرف

اسکو بچے کی طلب کے وہ چاہتی تھی اس کی گود میں گول مٹول سا بچہ کھیلے ۔شادی کے بعد وہ بہت زیادہ پریشان تھی شادی کا دس سال گزر چکے تھے لیکن اس کی نہیں بھری تھی۔ ان دونوں میں بہت زیادہ علاج کرایا لیکن رپورٹ میں جو بات سامنے آئی وہ بات ایسی تھی کہ یقین نہیں ہو رہا تھا۔ رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی کہ خیرآباد ہے وہ زندگی میں کبھی بھی بچہ پیدا نہیں کرسکتی

آج سے دس سال پہلے کی بات ہے کہ حرا نے اسلم کے ساتھ شادی کی ان دونوں میں بہت زیادہ پیار تھا لیکن گھر والے ان دونوں کی شادی کرانے کو تیار نہیں تھے لیکن اس نے اپنے گھر والوں کو بڑی مشکل سے رضامند کرلیا لیکن پھر بھی لڑکی کا باپ بھی رشتے کے لئے راضی نہیں تھا لیکن آخر کار لڑکی کی خوشی کو دیکھتے ہوئے وہ اپنے رشتے کے لئے ہاں کردی دیکھتے دیکھتے کئی سال گزر گئے لیکن ان کی گود ابھی تک نہیں بھری شوہر نے بیوی سے کئی مرتبہ اس بارے میں بات کی لیکن بیوی نے اس کو آگے سے بولا کے اگر آپ چاہیں تو دوسری شادی کر سکتے ہیں لیکن شوہر کا اپنی بیوی سے بے حد پیار تھا اس وجہ سے وہ دوسری شادی کرنے کو تیار نہ ہوا۔شادی کے دس سال بعد اچانک حرا کی بہن اس کے گھر رہنے کے لئیے آئی۔تو ہیرا کے ذہن میں ایک خیال ہے اس نے سوچا کیوں نہ کہ میں اپنے شوہر کی خوشی کے لیے اسے بہن کے ذریعے وارث دے دوں پھر اپنی بہن سے۔ اس نے شوہر سے اس متعلق بات کی لیکن وہ اس کام کے لئے راضی نہ ہوا لیکن جب اس نے اپنے بہن کے ساتھ بات کی تو بہن پہلے تھوڑا بہت ہچکچائی لیکن بعد میں اس نے اس کام کے لیے ہاں کردی۔

تو پھر تو پھر اس نے دونوں کو ملو آیا تو دونوں نے آپس میں اس نے اس بات پر رضامندی کی کہ وہ بچہ پیدا کر کے ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں گے۔لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا پھر ایسا ہوا کہ جیسے ایک دوسرے کے وہ قریب کے تو دونوں سچا پیار پیدا ہوگیا تھا اسلم کو حرا کیا بالکل بھی چاہت نہیں رہی۔جیسے ہی اسے بچے آس نظر آئی تو شوہر نے اپنی سالی سے شادی کرنے لئےاپنی خواہش کا اظہار کیا تو سالی نے ہاں کر دی کیونکہ اس نے اس کے ساتھ کچھ ٹائم گزارا تھا تو اس لیے اس کو بھی اسلم سے پیار ہوگیا۔ تو وہ دونوں اس ایک وقت ملنے کے بعد دوبارہ ایک دوسرے سے ملتے رہے تو اسلم کا حرا سے دل بالکل بھر چکا تھا۔

ہیرا نے اپنی بہن کو سمجھ آیا اس نے کہا کہ دیکھو میں نے تمہارے جیجا جی صرف ایک رات کی بات بھی تھی اور تم ان کو چھوڑ دو اب تم کیوں میرا ہنستا بستا گھر برباد کرنا چاہتی ہوں۔بہن نے اسے جواب دیا کہ میں آپ کے کہنے پر یہ سب کر چکی ہوں اب دنیا مجھے کیا کہیں گے دنیا مجھے طعنے دے گی تو نے مجھ پر طرح طرح کے الزام لگائے گی۔تو پھر اسلام نے ہر کو طلاق دے کر اپنی سالی سے شادی کرلی کیسے اپنی بہن نے اپنی بہن کا گھر اجاڑ دیا اس کا ایک ہی سبق ہے کہ برے کام کا انجام برا ہوتا ہے

About admin

Check Also

شوہر کے سامنے گرجنے والی بیوی

۱)واضح رہے کہ شرعاً شوہر پر یہ تو واجب ہے کہ وہ اپنی بیوی کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Powered by themekiller.com