Home / پاکستان / سچ تو یہ ہے کہ مجھ سمیت یہ لوگ وزیراعلیٰ پنجاب بننا چاہتے تھے ۔۔۔۔ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کا دنگ کر ڈالنے والا اعتراف۔۔۔

سچ تو یہ ہے کہ مجھ سمیت یہ لوگ وزیراعلیٰ پنجاب بننا چاہتے تھے ۔۔۔۔ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کا دنگ کر ڈالنے والا اعتراف۔۔۔

اسلام آباد(ویب ڈیسک)گورنر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کو عدالت نے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی،اب انہیں واپس آجانا چاہئے،شہبازشریف کی نوازشریف کے بغیر کوئی حیثیت نہیں،حتمی فیصلہ اب بھی نوازشریف کا ہی مانا جاتا ہے،کیونکہ عوام صرف نوازشریف کو ہی ووٹ دیتے ہیں،

مجھ سمیت،شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے خواہشمند تھے لیکن عمران خان نے عثمان بزدار کو چنا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کہا کہ نوازشریف کی صحت دیکھ کر لگتا تھا کہ علاج باہر ہی ہوگا،تاثر پایا جاتا ہے کہ ان کی بیماری کا وہاں علاج نہیں ہوا ہے لیکن جب میڈیکل رپورٹس سامنے آئیں گی تو حقیقت کا پتہ چل جائے گا۔چوہدری سرور نے کہا کہ کرپشن نے ملک کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے،ملک اور اداروں کو تباہ کردیا ہے، کرپشن کے خلاف ہماری پالیسی زیرو ٹالرنس والی ہے۔ احتساب سب کے لئے یکساں ہونا چاہئے، حکومت نیب نہیں ہے اور نیب کا ادارہ تحریک انصاف نہیں ہے،دونوں کے گٹھ جوڑ کا تاثر غلط ہے۔نیب نے ہمارے وزراء کو بھی طلب کیا ہے۔حکومت اور قوم نوازشریف کے بارے میں حقیقت جاننا چاہتی ہے۔مسلم لیگ(ن) اور شریف خاندان کو اندرونی اختلافات ختم کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ جب تحریک انصاف حکومت بنی تو ملک کو بہت سے چیلنجز درپیش تھے،ہمیں سب سے بڑا چیلنج قرضے کی قسطیں ادا کرنے کا تھا۔وزیراعظم کے سامنے پہلا ٹاسک ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا تھا۔ہمارے ملک میں انکوائری اور کمیشن کی رپورٹس منظر عام پر لانے کا رواج ہی نہیں تھا،عمران خان نے حقائق عوام کے سامنے رکھنے کی روایت ڈالی ہے۔جہانگیر ترین کو این آر او دینے کی باتوں میں کوئی حقیقت نہیں ہے، وزیراعظم عمران خان نے شوگر قیمتوں پر تحقیقات کا حکم دیا ہے۔جہانگیر ترین اداروں کی تفتیش اور عدالت میں اپنا دفاع کرکے خود کو کلیئر کروالیں تو دوبارہ فعال ہوسکتے ہیں۔علیم خان اور سبطین خان کے خلاف انکوائری ہوئی کلیئر ہونے کے بعد دوبارہ وزیر بن گئے۔وزیراعظم عمران خان کو پارٹی کے اندر معیار قائم کرنے کا کریڈٹ دیتا ہوں،اگر جماعت کے اندر کسی کے خلاف مہم چلتی ہے تو وزیراعظم اس کا الٹا اثر لیتے ہیں،وہ سنی سنائی باتوں پر کان دھرنے کی بجائے اپنا ذہن استعمال کرکے فیصلہ کرتے ہیں۔کسی کو وزیراعلیٰ رکھنا یا ہٹانا وزیراعظم کا اختیار ہے۔سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے کسی بھی جگہ وزیراعلیٰ بننے کی خواہش ظاہر نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ تحفظ اسلام بل پر اس وقت تک دستخط نہیں کروں گا جب تک تمام مکاتب فکر کے لوگ اس پر متفق نہ ہوجائیں۔96 فیصد مسلم آبادی والے ملک میں اسلام کو کوئی خطرہ نہیں ہے،ہمیں آئے روز نئے جھگڑے شروع نہیں کرنے چاہئیں۔

Share

About admin

Check Also

فضل الرحمان فتویٰ دیں ، بھوک میں سرکاری گوداموں کو لوٹ لیا جائے محمود خان اچکزئی نے عوام کو لوٹ مار کے لیے اکسانے کی کوشش کی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)محمود خان اچکزئی پی ڈی ایم جلسوں میں انتشار پھیلانے کی روش سے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com