Home / انٹرٹینمنٹ / مجھے ایک خاتون ڈرائیورکے ساتھ سفر کرنے کا موقع ملا۔۔۔

مجھے ایک خاتون ڈرائیورکے ساتھ سفر کرنے کا موقع ملا۔۔۔

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) مجھے ایک ایسی خاتون کے ساتھ سفر کرنے کا موقع ملا جو “ابرو” کی گاڑی چلاتی تھی۔ میرے بہت شش و پنج میں تھا جب میں نے اسے کال کی بہرحال وہ مجھے لینے کے لئے پہنچی تو میں نے اس سے پوچھا —-“میں آگے بیٹھوں یا پیچھے “تو اس نے کہا آگے بیٹھ جائیں ۔

میں پوچھنے کے باوجود پیچھے بیٹھ گیا۔ کچھ خاموشی کے بعد اس نے بات شروع کی تو کہنے لگی کہ”آپ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے پوچھا اور پوچھنے کے باوجود پیچھے بیٹھ گئے۔ ہمارے معاشرے میں مرد مجبور عورت کا فائدہ اٹھاتے ہیں “وہ مجھے بتانے لگی کہ اکثر لوگ جو میرے ساتھ سفر کرتے ہیں وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے ہیں تو جب میں گئیر لگاتی ہوں تو وہ مجھے جان بوجھ کر کہنی سے چھونے کی کوشش کرتے ہیں حتی کہ میں جب سفر ختم کر کے گھر جاتی ہوں تو وہ مجھے راتوں کو کال کرتے ہیں تو پھر مجھے مجبوراً اکثر کسٹمرز کے نمبر بلاک کرنے پڑتے ہیں ۔عورت کیوں سب کچھ نہیں کر سکتی ۔ وہ ڈاکٹر ، ٹیچر، انجینئر، نرس ، شاپکیپر، سیلزگرل ، ڈرائیور، آیا،لوگوں کے گھروں میں صفائی کی ملازمت کرتی ہے تو اس کے راستے میں اتنی رکاوٹیں کیوں کھڑی کر دی جاتی ہیں ۔ معاشرہ اسے عزت اور تحفظ کے ساتھ روزگار کیوں نہیں کرنے کی اجازت دیتا۔ اس کی بھی تو کوئی گھریلو مجبوری ہو سکتی ہے۔؟؟؟لوگ اپنی ٹھرک کو کنٹرول کیوں نہیں کرتے، اپنی بیویوں پر پورا کیوں نہیں کرتے، کیا انکی بہنیں، بیٹیاں نہیں ہیں??? سمیرا نے اپنے ابرو ڈرائیور بننے کی مجھے اپنی روداد سنائی کہ اس کے والد تقریبا اندھے ہو چکے ہیں اور اسکی والدہ ایک گھر میں کام کرتی ہیں-

اوبر میں آنے سے پہلے اس نے ڈرائیونگ سیکھی لیکن اس کے پاس اپنی گاڑی خریدے کے پیسے نہیں تھے سو اس نے تنخواہ پر کسی کی گاڑی چلانا شروع کر دی۔ وہ ایک کمرے کے گھر میں رہتی ہے اور اکثر گھر کا کرایہ دینے اور بہن،بھائیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لئے اسے 14 گھنٹے بھی کام کرنا پڑتا ہے. یہ کہانی ہمارے لئے انسپائریشن ہے ایک لڑکی اپنی مرضی یا کسی مجبوری کی حالت میں کام کرتی ہے تو ہمیں چاہیے کہ اس کی پرائیویسی کا خیال رکھیں۔ اپنی تنقید اور ٹھرک کو کنٹرول میں رکھاکر اس کو آرام دہ اور تحفظ والا ماحول دینا چاہیے تاکہ وہ اپنی زندگی کی مشکلات سے نبردآزما ہو سکے بجائے اس کے کہ ہم اسے ہراساں کر کے اسکی جاب کو مزید مشکل بنا دیں۔۔۔یہ بھی پڑھیں۔۔۔۔‏ایک واحد پرندہ جو شاہین کے راستے کی رکاوٹ بننے کی کوشش کرتا ہے اور وہ کوا ہے۔وہ اس کی پیٹھ پر بیٹھ کر اس کی گردن پر چونچ مارتا ہے۔ تاہم ، شاہین جواب نہیں دیتا ، اور نہ ہی کوے سے لڑتا ہے۔ شاہین کبھی کوے پر اپنا وقت اور توانائی ضائع نہیں کرتا!بلکہ آسانی سےاپنے پروں کو کھولتا ہے۔۔اور آسمان میں اونچا اڑنے لگتا ہے۔ اونچی اڑان سے کوے کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پھر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کوا گر جاتا ہے۔۔۔!لہذٰا زندگی میں کووں جیسے لوگوں کے ساتھ اپنا وقت ضائع کرنا بند کرو۔شاہین بنو، خود کو بلند کروکوے اپنے آپ مٹتے جائیں گے۔

Share

About admin

Check Also

برطانیہ میں آدمی کو برگر کھانا مہنگا پڑ گیا

برطانیہ میں ایک شخص کو برگر کھانا اس وقت مہنگا پڑ گیا جب اسے لاک …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com