Breaking News
Home / آرٹیکلز / عشق میں حساب کتاب کہاں ہوتا ہے؟

عشق میں حساب کتاب کہاں ہوتا ہے؟

مولانا رومی ایک دن خرید و فروخت کے سلسلے میں بازار گئے۔ ایک دکان پر جا کر رک گئے۔ دیکھا کہ ایک عورت کچھ سودا سلف لے رہی ہے۔ سودا خریدنے کے بعد اس عورت نے جب رقم ادا کرنی چاہی تو دکان دار نے کہا،“عشق میں حساب کتاب کہاں ہوتا ہے، چھوڑو پیسے اور جاؤ۔“ مولانا رومی یہ سن کر غش کھا کر

گر پڑے۔ دکان دار سخت گھبرایا اس دوران وہ عورت وہاں سے چلی گئی۔ خاصی دیر بعد جب مولانا رومی کو ہوش آیا تو دکاندار نے پوچھا،“مولانا صاحب آپ کیوں بے ہوش ہوئے؟“ مولانا رومی نے جواب دیا، “میں اس بات پر بے ہوش ہوا کہ تم دونوں میں اتنا قوی اور مضبوط عشق ہے کہ آپس میں کوئی حساب کتاب نہیں جب کہ اللہ کے ساتھ میرا عشق کتنا کمزور ہے کہ میں تسبیح کے دانے بھی گن گن کر گراتا ہوں۔“

About admin

Check Also

ڈاکٹر عبدالقدیر خان اکثر اپنے کالج کا دورہ کیا کرتے تھے،وہ کبھی بھی موجودہ پرنسپل کے سامنے کی نشست پر نہیں بیٹھتے تھےکیونکہ۔۔۔ قومی ایٹمی سائنسدان کی زندگی کے بارے میں حیران کن انکشاف

پاکستان کے ایٹمی سائنسدان محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کراچی کے ڈی جے سائنس …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com