Home / صحت / آپ نہیں پہلے آپ

آپ نہیں پہلے آپ

لکھنو کا ایک جوڑا جب امید سے ہوا تو معروف حکیم سے پوچھا کہ حضرت ہم اولاد باادب چاہتے ہیں۔ کوئی دوا عنایت کریں کہ فطرتاً بچہ ادب آداب والا پیدا ہو جاوے۔ حکیم صاحب نے دوا دی‘ خاتون نے پابندی سے استعمال کی‘ پیدائش ہوئی۔ تو نومولود نے باہر آتے ہی کپڑے سے ستر چھپایا اور جھک کر ماں کو کہا آداب۔سب خوشی سے جھوم اٹھے کہ واہ کیا حکمت ہے‘کیا اولاد ہوئی‘ پرانا لکھنو زندہ ہے۔ سال بعد دوبرہ امید ہو چکیتو خاتون نے دوا مقدار سے زیادہ لے لی‘ اچھا ہی ہے زیادہ آداب والا آوے۔

جب دس سے گیارہ ماہ ہو چلے اور آمد کی کوئی علامت نہیں رہی تو حکیم صاحب کے ہاں دوڑے۔ حکیم صاحب نے نہایت متانت سے معائنہ کیا‘ پھر پان اگال دان میں نکالی‘ کچھ دیر سوچتے رہے اور پوچھا دوا کی مقدار کیا تھی؟ بتایا کہ دگنی مقدار استعمال کی ہے تو سر پیٹ کر کہا کہ جناب اس بار جڑواں ہیں اور جھگڑا ہے کہ پہلے آپ۔ نہیں پہلے آپ۔ حضرت سعدیؒ بیان کرتے ہیں ،میرے بچپن کی بات ہے ایک دن میں نے ایک عالم سے پوچھا کہ انسان کے بالغ ہوجانے کی نشانی کیا ہے ؟اس نے جواب دیا پندرہ سال کی عمر کو پہنچ جانا اس کے بعد اس دانا شخص نے کچھ اور نشانیاں بھی بتائیں ۔ مثلاََ شادی کرنے کی ٰخواہش پیدا ہونا وغیر ہ اور یہ ساری باتیں بتانے کے بعد۔ بولا ان سب باتوں کے علاوہ انسان کے بالغ ہوجانے کی حقیقی علامت یہ ہے کہ وہ خدا کو راضی کرنے کے لئے اس سے زیادہ کوشش کرے جتنی کوشش دنیاوی مال ودولت حاصلے لئے کرتا ہے۔ کیونکہ یہی سمجھ عقل کے پختہ اور اس کے صاحب فہم ہونے کی نشانی ہے ۔اگر کسی میں یہ نشانی نہ ہو پائے تو خواہ وہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گیا ہو اسے بالغ خیال نہ کرنا بنی اسرائیل میں ایک نوجوان تھا بہت خوبصورت اور نہایت پاک باز، وہ نوجوان ٹوپیاں اور ٹوکریاں بنا کر بیچتا تھا، ایک دن بازار میں ٹوپیاں بیچتے بیچتے بادشاہ کے محل کیطرف نکل پڑا۔ محل میں ایک حسین شہزادی کی اس پر نظر پڑی تو اس نے اپنی خادمہ کو بھیج کر اس نوجوان کو بلوا لیا۔ نوجوان نے سمجھا کہ شاید شہزادی صاحبہ نے کچھ خریدنا ہے وہ خادمہ کے ساتھ محل میں داخل ہوا تو خادمہ دروازہ بند کر کے باہر سے چلی گئی اور شہزادی برہنہ حالت میں سامنے آگئی اور بولی اے حسین نوجوان میرے قریب آ اور میری خواہیش پوری کرو۔

نوجوان نے کہا کہ اے شہزادی اس رب سے ڈر جو بڑا بے نیاز ہے،شہزادی نہ مانی اور دھمکی دینے لگ پڑی کہ اگر تو نے میری تسکین پوری نہ کی تو میں بادشاہ سلامت کے پاس شور مچاتی اسی حالت میں جاونگی اور کہوں گی کہ اس نوجوان نے میری عزت زبردستی لوٹنے کی کوشش کی ہے۔ اب نوجوان بڑا پریشان ہوا اور کچھ سوچ کر بولا اچھا مجھے نہانے کی اجازت دی جائے تا کہ میں صاف ستھرا ہو جاؤں. شہزادی بولی ٹھیک ہے پر یہاں نہیں نہانا تم نے کیوں کے تم بھاگ جاوگے ، تم اس خادمہ کے ساتھ چالیس فٹ اوپر محل کی چھت پر جا کر نہاؤ۔ نوجوان مان گیا اور اوپر چلا گیا وہاں جا کر جو اس نے دیکھا کہ اب کیا کروں تو اس کے زہین میں اس کے سوا کوئ اور حل نہ آیا کہ چالیس فٹ چھلانگ ہی لگا دی جاے، اس نے چھلانگ لگاتے وقت دعا پڑی۔ “اے اللہ پاک مجھے تیری نافرمانی پر مجبور کیا جا رہا ہے اور میں اس برائ سے بچنا چاہتا ہوں، مجھے چالیس فٹ نیچے چھلانگ مار کر مر جانا تو منظور ہے لیکن تیری نافرمانی نہیں” یہ کہہ کر نوجوان نے چھلانگ مار دی، اسی وقت ایک فرشتے کو باری تعالی سے حکم جاری ہوا کہ جاؤ اس نوجوان کو بچاو، فرشتے نے اس نوجوان کو اپنے پروں میں سما لیا اور آرام سے نیچے اتار لیا۔ نوجوان بڑا خوش ہوا اور اسی وقت شکرانے کے نفل ادا کیے اور بارگاہ الہی میں عرض کی کہ” مولا تو چاہے تو مجھے اپنے اس کام سے بے نیاز کروا سکتا ہے، اے رب مجھے تو کچھ عنائت کر تا کہ میں آرام سے بیٹھ کر کھا بھی سکوں اور تیری عبادت بھی کر سکوں” اسکی درخواست قبول ہوئ اور وہی فرشتہ جس نے اسکو بچایا ایک سونے سے بھری بوری لا دی۔ عظیم نوجوان نے پھر سجدہ شکر ادا کیا اور بولا اے میرے پروردگار یہ جو سونا اسی رزق کا حصہ ہے جو مجھے دنیا میں ملنا تھا تو اس میں برکت فرما اور اگر یہ اس اجر کا حصہ ہے جو مجھے آخرت میں ملنا ہے اور اسکی وجہ سے میرے آخرت کے اجر میں کمی ہوگی تو مجھے یہ دولت نہیں چاہئے۔ نوجوان کو ایک غائبانہ آواز آئی “یہ جو سونا تجھے عطاء کیا گیا ہے اس صبر کا ستروہ(70) حصہ ہے جو تو نے اس گناہ سے بچنے کے لیے کیا” اس نوجوان نے کہا اے میرے مالک مجھے ایسے خزانے کی حاجت نہیں جو آخر میں میرے اجر میں کمی کا باعث بنے۔ چناچہ نوجوان نے جب یہ بات کہی تو سارا سونا اسی وقت غائب ہوگیا

Share

About admin

Check Also

ڈرائی فروٹس کی قیمتیں زمیں پر کاجو میں چھپا اس خطرناک بیماری کا علاج جس میں آج کل ہر دوسرا پاکستانی مبتلا ہے

اگر آپ ڈپریشن کا شکار ہیں اور علاج سے تنگ آچکے ہیں تو ہم آج …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com