Breaking News
Home / دلچسپ و عجیب / ایک عجیب واقعہ جس نے پورے پاکستان کو چکنا کردیا

ایک عجیب واقعہ جس نے پورے پاکستان کو چکنا کردیا

پاکستان کی تاریخ میں جو واقعات اب پیش ہو رہے ہیں وہ پچھلے تہتر سالہ تاریخ میں پیش نہیں آئے ایسا ہی ایک واقعہ حافظ آباد میں پیش آیا جہاں تایا نے اپنی ہی دس سالہ سگی بھانجی کے ساتھ غلط کام کیا۔ اسے

چیز دلانے کے بہانے کھیتوں میں لے گیا اور یہ کام کر دیا۔ اس سے پہلے وہ اپنی معذور بہن کے ساتھ بھی یہ کام کر چکا ہے ۔بس اللہ ہمارے ملک کو محفوظ رکھے قیامت کی نشانیاں ہیں یہ سب۔ کوئی تایا ایسا کر سکتا ہے آج ہم کس موڑ پر کھڑے ہیں ایسے کام تواتر سے ہو رہے ہیں لیکن انصاف کا معیار ایسا ہے سزا ملنے سے پہلے ہی ملزم بچ جاتا ہے۔ دوسری جانب ایک سرکاری سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ کورونا وائرس سے متعلق لاک ڈاؤن کی وجہ سے پاکستان کے 2کروڑ 7لاکھ 60 ہزار افراد روزگار کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا اور ان میں سے ایک بڑی تعداد جولائی 2020 کے بعد دوبارہ کام پر چلی گئی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پلاننگ کمیشن نے جمعرات کو کہا کہ ملک کی 10سال یا اس سے زائد عمر کی 35 فیصد (تقریباً 5کروڑ 57لاکھ 40 ہزار) آبادی کووڈ-19 کے آغاز سے قبل کام کر رہی تھی لیکن لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد سرگرمیاں بند ہونے کی وجہ سے یہ گھٹ کر 22 فیصد (تقریباً 3کروڑ 50 لاکھ 40 ہزار) رہ گئے، پاکستان کے بیورو آف اسٹیٹ اسٹکس کے ذریعہ کیے گئے سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کمیشن نے کہا اس کا مطلب ہے کہ تقریباً 2 کروڑ 7 لاکھ 60 ہزار آبادی متاثر ہوئی۔ وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اسد عمر کی زیرصدارت ایک جائزہ اجلاس میں اس اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ جولائی کے بعد بحالی کا عمل

شروع ہوا اور 33 فیصد عوام نے اپریل جولائی 2020 کے بعد کام کرنے کی اطلاع دی، اس کا مطلب ہے کہ تقریباً 5کروڑ 25 لاکھ 60 ہزار افراد نے دوبارہ کام کرنا شروع کیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ لاک ڈاون کی وجہ سے ایک کروڑ 70 لاکھ 70 ہزار گھرانوں کا ذریعہ معاش متاثر ہوا ہے، سروے کے شواہد نے بتایا ہے کہ اگر سخت لاک ڈاؤن کا عمل جاری رہتا تو کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والے مزدوروں اور ان کے اہل خانہ پر تباہ کن اثرات دیکھنے کو مل سکتے تھے۔اجلاس میں کووڈ۔19 کے لوگوں کی فلاح و بہبود پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کئے گئے سروے کے نتائج کے بارے میں بتایا گیا، سروے میں آمدنی، ترسیلات زر، غذائی عدم تحفظ اور صحت کے سلسلے میں گھر اور اثاثوں کی جانب سے اختیار کی جانے والی حکمت عملی اور اثاثوں سے متعلق معلومات جمع کی گئیں۔اس میٹنگ میں حکومت کے “ڈیجیٹل پاکستان” پروگرام کے ایک حصے کے طور پر پاکستاب بیورو آف اسٹیٹ اسٹکس کی جانب سے بنائے گئے افراط زر کے لیے فیصلے کی حمایت کے نظام (ڈی ایس ایس آئی) تیار کرنے کے اقدام کا بھی جائزہ لیا گیا، یہ نظام پالیسی سازوں، نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی، صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو ملک میں شواہد پر مبنی پالیسی فیصلے لینے اور افراط زر کی وجوہات حل کرنے کا اہل بنائے گا، ڈی ایس ایس آئی مارکیٹ کی سطح پر معلومات فراہم کرنے، قیمتوں کے لحاظ سے شہر میں موازنے جیسی خصوصیات سے لیس ہے، اجلاس کو بتایا گیا کہ یہ نظام ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کردہ ریٹ اور ہفتہ وار بنیادوں پر پاکستان بیورو آف اسٹیٹ اسٹکس کی جانب سے جمع کردہ ریٹ کے درمیان تقابلہ جائزہ بھی فراہم کرے گا۔

Share

About admin

Check Also

دولہا بارات لے کر پہنچا تو دلہن نے اس کے منہ میں ایسی چیز دیکھ لی کہ شادی سے ہی انکار کر دیا

بھارت میں شادی کے موقع پر نہایت ہی انوکھا واقعہ پیش آیا ہے ، دولہا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com