Breaking News
Home / کہانیاں / اس میں اتنی ہمت تھی کہ باس کیساتھ سوتی تھی بوڑھا باپ بیٹی کے دکھ

اس میں اتنی ہمت تھی کہ باس کیساتھ سوتی تھی بوڑھا باپ بیٹی کے دکھ

میں کس مذہب میں پھنس گئی ہوںمسلمانوں کی سوچ بہت تنگ ہےمیں آزاد ہونا چاہتی ہوں اپنے سب فیصلے خود کرنا چاہتی ہوں یہ کیا تم لوگوں نے میری زندگی کو زنجیروں میں جکڑ رکھا ہےکبھی مولوی کہتے ہیں سر پہ دوپٹہ لو کبھی ماں باپ کہتے ہیں گھر سے باہر نہیں جانادنیا چاند پہ پہنچ گئی ہے اور ہم لڑکیوں کو اسلام نے قیدی بنا رکھا ہے فاطمہ اپنا زہر اگل رہی تھی امی بس مجھے ڈانس کلاس میں جانا ہے مجھے ڈانسر بننا ہے ماں غصے سے بولی فاطمہ کچھ شرم کرو کیسی بکواس کرتی ہو تم امی دیکھو میں سب عورتوں کی طرح بھینس بن کر نہیں جی سکتیمجھے زندگی میں بہت کچھ کرنا ہے اپنا ایک نام بنانا ہے اپنی پہچان بنانی ہےمیں یہ حجاب اور برقع پہن کر جہالت میں نہیں جینا چاہتی دیکھو ٹک ٹاک پہ کتنی لڑکیاں مشہور ہو گئی ہے۔

کتنی بڑی بڑی سٹار بن گئی ہیں مارننگ شوز میں ان کے انٹرویوز آتے ہیں بس میں اس اسلام۔کی زنجیر کو توڑنا چاہتی ہوںماں بس آپ ابا سے بات کرو میں کل۔سے جاب بھی کت رہی ہوں اور ڈانس کلاس بھی ابا پیسے نہیں دیتے تو نا دیں میں خود کو اب سنبھال سکتی ہوں اللہ اکبر اللہ اکبر مسجد سے مغرب کی اذان کی آواز سنائی دینے لگی ماں نے کہا فاطمہ موبائل کو چھوڑ دے اور سر پہ دوپٹہ لو فاطمہ نے ٹک ٹاک اوپن کی ہوئی گانا وڈیوز دیکھ رہی کوئی پرواہ نہیں اذان ہو رہی ہے یا نہیں وہ اسلام کے دائرے میں خود کو قید سمجھ رہی تھی دیکھو بڑی بڑی ٹی وی اسٹارز کتنا پیسہ کماتی ہیں بڑی بڑی گاڑیاں لوگ ترستے ہیں ان سے ایک تصویر بنانے کے لیے بھی فاطمہ بولتی چلی جا رہی تھی ماں نے بہت سمجھایا لیکن شاید وہ بغاوت پہ اتر آئی تھی آپ پانچ وقت نماز ادا کرتی ہو نا تو بتاو اللہ نے کیا دیا ہے آپ کو یہ ٹوٹا ہوا گھر وہ او نا جی جہالت کے م۔ارے ٹوٹی ہوئی سائیکل رکھی ہوئی ہےکہو نئے کپڑے لے دو تو تم لوگوں کے رونے ختم۔نہیں ہوتے ڈیہاڑی نہیں لگی ابا کی تو یہ نہیں ہوا وہ نہیں ہوامیں تم لوگوں کو کامیاب ہو کر بتاوں گی ماں غصے سے بولی فاطمہ میری بچی تم کو کیا ہو گیا یہ کیسے کفریہ الفاظ بول رہی ہو اللہ سے ڈر اور شکر ادا کرلیکن فاطمہ کچھ سنتی تو پھر نا بس ابا سے کہو میں کل سے جاب پہ جا رہی ہوںمیری دوست بھی جاتی ہے۔

ایک پراپرٹی ڈیلر ہے اس کے آفس میں مجھے 30 ہزار میں جاب مل رہی30 ہزار ابا 3 مہینے میں کماتے ہیں باپ عشا کے وقت گھر آیا فاطمہ اپنے کمرے میں تھی ماں بہت اداس بیٹھی تھی ابا پاس آئے کیا ہوا اداس سی ہو آج ماں بولی فاطمہ کو پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے کیا کیا بولتی ہے کچھ سمجھ نہیں آتاوہ نوکری کرنا چاہتی ہےمیں چاہتی ہوں آپ ضد چھوڑ دیں اسے نوکری پہ جانیں دیں تب تک کوئی اچھاسا لڑکا دیکھ کر اس کو بیاہ دیتے ہیں اکاوٹنٹ کیا تھا فاطمہ نےبابا پیار سے بولے اللہ کی بندی وہ زمانے کو نہیں جانتی اسے خبر ہی نہیں ہے زمانے کی تلخیاں ہوتی کیا ہیں میں باپ ہوں اس کا اس سے پہلے ایک مرد ہوں اور میاں اچھے سے جانتا ہوںاہنے معاشرے کو وہ جو خواب دیکھتی اس کا راستہ صرف فنا ہے وہ ابھی بچی ہے ناسمجھ ہے ماں ضد کرتے ہوئے بولی آپ بس اسے جانے دو کرنے دو نوکری شاید ہماری سختی اسے اذیت پہنچا رہی ہے ماں نے صبح کہا جاو فاطمہ نوکری کر لو لیکن ہماری عزت کا خیال رکھنا میری بچی فاطمہ مسکرانے لگی آپ سوچ بدلو یہ عزت کا خیال رکھنا میں جاب کرنے جا رہی ہوں کوئی گن اہ نہیں وہ خود کو آزاد کرنا چاہتی تھی اور پھر اللہ وہی عطا کرتا ہے۔

جیسی ہماری نیت ہوتی ہے جیسے ہمارے اعمال ہوتے ہیں بہت خوش تھی اس جہالت سے نکلی ہوں آفس پہنچی باس نے بہت احترام سے ویلکم کیا آج پہلا دن تھا آفس میں تھکن بھرا رہا تھا گھر آئی آنکھوں میں ایک چمک تھی کچھ کر دکھانے کا جذبہ تھا ماں نے پوچھا کھانا لگاوں بیٹی ماں کی طرف دیکھ کر کہنے لگی نہیں امی میں باس کے ساتھ ڈنر کر کے آئی ہوں پہلا دن تھا اس لیئے انھوں نے ٹریٹ دی دن گزرنے لگے وہ آزادی کے نام پہ اڑنے لگی پہلی تنخواہ 35 ہزار روپے آئی جو اس کے لیئے بہت بڑی رقم۔تھی نیا موبائل لیا کچھ ضرورت کی چیزیں لیں باس کے ساتھ اچھے ریلیشن بن گئے باپ نے کافی رشتے دکھائے لیکن فاطمہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی کہنے لگی اگر میرے ساتھ زبردستی کی تو میں بتا رہی ہوں پولیس کے پاس چلی جاوں گی بوڑھا باپ حیران تھا فاطمہ یہ کیسی باتیں کرتی ہوتم فاطمہ بولی ابا بس میں کہہ دیا نا اپنی مرضی سے شادی کروں گی آپ کو اگر بوجھ لگتی ہوں تو آپ کا گھر چھوڑ جاتی ہوں اور مجھے جہالت والی باتیں نہ سنایا کریں۔

گجر بسانا عزت شوہر جب مجھے کوئی اچھا لگا میں کر لوں گی شادی باپ کا دل چاہا اس کی گردن کاٹ دوں کیسی بدزبان ہو گئی ہے باپ نے ایک تھپڑ مار دیا اتنی بڑی ہو گئی ہو کر اپنے باپ کے ساتھ زبان لڑاتی ہو فاطمہ نے باپ کو دھکا دیا گھر سے باہر چلی گئی بھاڑ میں جاو تم لوگ باپ کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں جاتے ہوئے باپ نے آواز دی بیٹی جس راستے پہ چل رہی ہو نا بہت پچھتاو گی تمہارا باپ ہوں نا میرے دل کی دھڑکن ہو تم اس لیے میں کچھ نہیں کہہ سکتا تم کو لیکن ایک بات یاد رکھناوقت بدلے گا گھڑی کی ٹک ٹک کرتی سوئی آگے بڑھے گی میں مر جاوں گا قبر میں پڑا تمہارا باپ تمہاری بے بسی دیکھے گافاطمہ بیٹی یاد رکھنا تم مجھے پکارو گی ضرورلیکن تب وقت گزر چکا ہو گا فاطمہ مسکرانے لگی بس ہو گیا لیکچرماں نے آواز دی فاطمہ بیٹی رک جا کہاں جا رہی ہوگھر سے چلی گئی ماں آوازیں دیتی رہی باپ شاید بیٹی کا یوں نافرمان ہونا مارنے لگایا اللہ وہ نہیں جانتی اسلام ہی سب سے پاک اور محفوظ دیوار ہے مذہب ہےوہ بربادی کی طرف چل دی ہے اس پہ رحم فرما میرے اللہ فاطمہ نے باس کو کال کی سر آپ کہاں ہیں باس پیار سے بولا میں تو گھر ہوں کیا ہوا سر میں گھر چھوڑ کر آ گئی ہوں۔

Share

About admin

Check Also

اس میں اتنی ہمت تھی کہ باس کیساتھ سوتی تھی بوڑھا باپ بیٹی کے دکھ سے بستر پر لگ گیا

میں کس مذہب میں پھنس گئی ہوںمسلمانوں کی سوچ بہت تنگ ہےمیں آزاد ہونا چاہتی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com