Breaking News
Home / Other / بےوقوفی یا لاعلمی ۔۔ایک شخص 42کروڑ روپے کی نایاب مچھلی پکا کرکھا گیا،یہ بے وقوف شخص کون ہے؟جانیے تفصیل

بےوقوفی یا لاعلمی ۔۔ایک شخص 42کروڑ روپے کی نایاب مچھلی پکا کرکھا گیا،یہ بے وقوف شخص کون ہے؟جانیے تفصیل

ےوقوفی یا لاعلمی ۔۔ایک شخص 42کروڑ روپے کی نایاب مچھلی پکا کرکھا گیا،یہ بے وقوف شخص کون ہے؟جانیے تفصیلنائجیریا(نیوز ڈیسک)سوشل میڈیا پر ان دنوں لوگ نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے شخص کی بے وقوفی پر اسے خوب کوس رہے ہیں کیوں کہ قیمت سے لاعلم اس شخص نے ہاتھ آئی نایاب مہنگی مچھلی پکا کر کھالی۔ سوشل میڈیا پر موجود ایک رپورٹ کے مطابق نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ریورز اسٹیٹ کے اندونی لوکل گورنمنٹ ایریا سے ’بلیو مارلن‘

مچھلی پکڑی۔ یہ شخص اور اس کے گاؤں والے اس مچھلی کی قیمت سے لاعلم تھے لہٰذا انہوں نے اسے پہلے مار دیااور پھر پکا کر مزے سے کھالیا۔بلیو مارلن مچھلی کی فی پاؤنڈ قیمت تقریباً 31000 ڈالر ہے اور اس حساب سے جتنی وزنی مچھلی اس نے پکڑی تھی اس کی کل مالیت 26 لاکھ امریکی ڈالر ہوتی اور اتنے پیسے اس شخص کی آنے والی نسلوں کیلئے بھی کافی ہوتے لیکن بدقسمتی سے وہ اس سے لاعمل نکلا اور مچھلی کھاگیا۔خیال رہے کہ بلیو مارلن مچھلی کھلے سمندر کی تیز ترین اور طاقتور ترین مچھلیوں میں سے ایک ہے جس کا وزن 820 کلو گرام تک اور لمبائی 16 فٹ تک ہوسکتی ہے۔ نائجیریا(نیوز ڈیسک)سوشل میڈیا پر ان دنوں لوگ نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے شخص کی بے وقوفی پر اسے خوب کوس رہے ہیں کیوں کہ قیمت سے لاعلم اس شخص نے ہاتھ آئی نایاب مہنگی مچھلی پکا کر کھالی۔ سوشل میڈیا پر موجود ایک رپورٹ کے مطابق نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ریورز اسٹیٹ کے اندونی لوکل گورنمنٹ ایریا سے ’بلیو مارلن‘ مچھلی پکڑی۔ یہ شخص اور اس کے گاؤں والے اس مچھلی کی قیمت سے لاعلم تھے لہٰذا انہوں نے اسے پہلے مار دیااور پھر پکا کر مزے سے کھالیا۔بلیو مارلن مچھلی کی فی پاؤنڈ قیمت تقریباً 31000 ڈالر ہے اور اس حساب سے جتنی وزنی مچھلی اس نے پکڑی تھی اس کی کل مالیت 26 لاکھ امریکی ڈالر ہوتی اور اتنے پیسے اس شخص کی آنے والی نسلوں کیلئے بھی کافی ہوتے لیکن بدقسمتی سے وہ اس سے لاعمل نکلا

Share

About admin

Check Also

امارات کے بعد 2 بڑے اسلامی ممالک نے بھی عید الفطر کی تاریخ کا اعلان کر دیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک / )سعودیہ عرب اور عرب امارات سمیت دیگر خلیجی ممالک میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com