Breaking News
Home / پاکستان / سرعام محبت کا اظہار مہنگا پڑ گیا۔۔۔لاہور کی نجی یونیورسٹی نے ایک دوسرے کو پرپوز کرنے والے طلباء کو یونیورسٹی سے نکال دیا

سرعام محبت کا اظہار مہنگا پڑ گیا۔۔۔لاہور کی نجی یونیورسٹی نے ایک دوسرے کو پرپوز کرنے والے طلباء کو یونیورسٹی سے نکال دیا

لاہور (ویب ڈیسک ) لاہور کی نجی یونیورسٹی میں ایک دوسرے کو پرپوز کرنے والے طلباء کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق اس بات میں کوئی شک نہیں تعلیمی اداروں میں بے حیائی دن بدن پھیل رہی ہے، والدین کی جانب سے تعلیمی اداروں میں بے حیائی اور کے بڑھتے ہوئے رحجان پر گہری تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے۔

جب کہ حکومت پر نوجوانوں کا مستقبل تباہ ہونے سے بچانے کیلئے عملی اقدام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جاتا ہے۔اگر بات کی جائے ہمارےتعلیمی اداروں کی تو گذشتہ کچھ سالوں میں طلبہ میں ن ش ے کی عادت بہت زیادہ دیکھنے میں آئی ہے۔جب کہ کالج میں طالب علموں کو موبائل فون رکھنے کی بھی اجازت ہے، کئی بار موبائل فون پر پابندی کے اعلانات بھی کیے گئے تاہم اس پر عمل نہ ہو سکا۔اسی طرح تعلیمی اداروں میں طالبات کی ڈریسنگ سمیت دیگر سرگرمیاں بھی زیر بحث آتی ہیں۔ اسی طرح اگر کسی یونیورسٹی میں کوئی غیر اخلاقی کام ہو تو دو طبقے آمنے سامنے آ جاتے ہیں۔ایک طبقہ وہ ہے جو ایسی سرگرمیوں کی مذمت کرتا ہے جب کہ دوسرا طبقہ ایسا ہے جو آزادی رائے اظہار پر یقین رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہر کسی کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق جیے۔گذشتہ دونوں سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں ایک لڑکا لڑکی کو یونیورسٹی میں ایک دوسرے کو پرپورز کرتے دیکھا جا سکتا ہے،دونوں ایک دوسرے کو پھول پیش کرتے ہیں اور گلے ملتے ہیں۔اس موقع پر طالب علموں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے جنہوں اپنے موبائل فون میں ان مناظر کو قید کیا۔دونوں طلباء لاہور کی نجی یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں۔ویڈیو سوشل میڈیا پر آنے کی دیر تھی کہ لوگوں کی جانب سے سخت تنقید دیکھنے میں آئی،جب کہ کچھ لوگوں کی جانب سے نوجوان جوڑے کو سپورٹ بھی کیا گیا۔

اس ویڈیو پر اگرچہ ملے جلے تبصرے دیکھنے کو ملے تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اب اس پر سخت ایکشن لیا گیا ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ نے سرعام ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کرنے پر دونوں کو یونیورسٹی سے نکال دیا اور یونیورسٹی کی حدود میں دوبارہ داخل ہونے پر پابندی لگا دی گئی۔یونیورسٹی انتظامیہ نے موقف اپنایا ہے کہ دونوں طلباء کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر یونیورسٹی سے نکالا گیا ہے،۔یونیورسٹی کے اس اقدام پر بھی سوشل میڈیا صارفین تقسیم ہو گئے۔بعض لوگوں نے یہ کہتے ہوئے اس اقدام کو سراہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں ہمارے معاشرے اور کلچر کا حصہ نہیں تو بعض صارفین نے یونیورسٹی کو اس اقدام پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

Share

About admin

Check Also

رواں سال حج اجازت ملی تو کتنے ہزار پاکستانی فریضہ حج ادا کرسکیں گے؟وفاقی وزیر مذہبی امورنورالحق قادری نے اعلان کر دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے کہا ہے کہ رواں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com